تفسیر القرآن العظیم ((للتستری))
((اسلوب))
درج بالا تفسیر ایک چھوٹے سے حجم میں مجلد ہے ۔ اس تفسیر میں مصنف علیہ الرحمۃ ایک ایک آیتِ قرآنیہ کی تفسیر کے درپے نہیں ہوئے بلکہ ہر سورۃ کی آیاتِ محدودہ و متفرقہ پر کلام فرمایا ہے ۔
- اس کتاب کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے اس کتاب کی تالیف نہیں کی بلکہ یہ وہ اقوال ہیں جو حضرت سہل نے قرآنِ کریم کی آیاتِ متفرقہ کے بارے میں ارشاد فرمائے ہیں ۔ پھر انکو ابوبکر محمد بن احمدبلدی نے جمع فرمایاجوکہ اول کتاب میں مذکور ہے ۔ اس کتاب میں جابجا ذکر کیا گیا ہے کہ ” سئل ((سھل)) عن قوله: وَآتُوا النِّساءَ صَدُقاتِهِنَّ نِحْلَةً [٤] قال:[1]” ۔ پھر اس کتاب کو حضرت سہل کی طرف منسوب کردیا گیا۔
- اس کتاب کو پڑھنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ مصنف علیہ الرحمہ نے کتاب کے شروع میں ایک مقدمہ ذکر فرمایا ہے جس میں قرآن کے ظاہری و باطنی معنی کی وضاحت کی ہے اسی طرح حد و مطلع کا معنی بیان کیا ہے ” وما من آية في القرآن إلّا ولها أربعة معان، ظاهر وباطن وحدّ ومطلع، فالظاهر التلاوة، والباطن الفهم، والحد حلالها وحرامها، والمطلع إشراف القلب على المراد بها فقها من الله عزَّ وجلَّ. فالعلم الظاهر علم عام، والفهم لباطنه، والمراد به خاص، قال تعالى: فَمالِ هؤُلاءِ الْقَوْمِ لا يَكادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثاً [النساء: ٧٨] أي لا يفقهون خطابا”[2]“ترجمہ: قرآن کی جتنی آیات ہیں اسکےچار معانی ہیں۔ ظاہر و باطن و حد و مطلع۔ظاہری معنی تلاوت ہے ، باطنی معنی فہم ، حد اسکا حلال و حرام کرنا اور مطلع یہ ہے کہ دل اسکی مراد پر مطلع ہو جائے ، اللہ تعالی کی طرف سےفقاہت عطا فرمانے کے ذریعے۔ پس علمِ ظاہر علم عام ہے ، فہم اسکا باطنی معنی ہےاور اس سے مراد خاص ہے ۔اللہ تعالی نے فرمایا ” تو ان لوگوں کو کیا ہوا کوئی بات سمجھتے معلوم ہی نہیں ہوتے” یعنی وہ خطاب نہیں سمجھتے”۔
- اسی طرح ایک اور مقام پر فرماتے ہیں کہ ” إن الله تعالى ما استولى وليا من أمة محمد صلّى الله عليه وسلّم إلّا علّمه القرآن إما
ظاهرا وإما باطنا، قيل له: إن الظاهر نعرفه، فالباطن ما هو؟ قال: فهمه، وإن فهمه هو المراد”[3] ترجمہ: اللہ تعالی نے امتِ محمدیہ ﷺ میں سے جس کو بھی منصبِ ولایت پر فائز فرمایا تو اسے قرآن کا علم عطا فرمایایا ظاہری یا باطنی۔ پھر کہا گیا کہ ظاہری تو ہم جانتے ہیں باطنی سے کیا مراد ہے؟تو فرمایا کہ اسکی سمجھ بوجھ اور یہی اسکی مراد ہے۔
علم تفسیرمتعلقہ تحریر
درج بالا دو عبارات سے مأخوذ ہوا کہ امام سہل تستری کا موقف یہ ہے کہ قرآن کا ظاہر اسکا معنیٔ لغوی مجرد ہے اور باطن سے مرادوہ معنی ہے جو لفظ سےسمجھاگیا اور جسکا اللہ تعالی نے اپنے کلام سے ارادہ فرمایا۔ جیساکہ ہم ان عبارات سے مأخوذ کرتے ہیں کہ انکا موقف ہے کہ معانیٔ ظاہری امرِعام ہےجس سے ہر وہ شخص واقف ہے جو لسانِ عربی کا عارف ہے جبکہ معانیٔ باطنہ ایک امرِ خاص ہے جسکی معرفت صرف أہل اللہ کو ہے کہ اللہ تعالی انکو یہ سکھاتا اور اسکی طرف ہدایت دیتا ہے۔
- اسی طرح امام سہل تستری رحمہ اللہ تعالی نے اپنی تفسیر میں محض معانیٔ اشاریہ کی تفسیر پر اقتصار نہیں کیا بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ کبھی وہ معانیٔ ظاہرہ کو ذکر کرتے ہیں پھر اسکے فوراً بعد معانی ٔ اشاریہ کو ذکر کرتے ہیں اور کبھی وہ محض معانیٔ اشاریہ پر اقتصار کرتے ہیں جیسا کہ بعض اوقات وہ محض معنیٔ ظاہری پر اقتصار کرتے ہیں ، باطنِ آیت پر گفتگو کئے بغیر۔
- جب امام سہل تستری علیہ الرحمۃ معانی اشاریہ کو بیان کرتے ہیں تو اپنے تمام کہی ہوئی بات کو واضح طور پر ذکر نہیں کرتے بلکہ بعض اوقات وہ ایسی معانیٔ غریبہ کا استعمال کرتے ہیں جنکے بارے میں یہ خیال کرنا کہ یہ مراد اللہ ہونگی ، نہایت بعید ہوتا ہے اور کبھی وہ ایسے معانیٔ غریبہ کا استعمال فرماتے ہیں جنکے بارے میں یہ خیال کرنا ممکن ہوتا ہے کہ یہ مدلولِ لفظ ہونگے یا وہ معانی ہونگےجنکی طرف لفظ مشیر ہے ۔ یہی اسلوب آپ نے اپنی تفسیر میں غالب طور پر رکھا ہے۔
- اسی طرح مؤلف علیہ الرحمۃ اپنی اس کتاب میں تزکیۂ نفوس ، تطہیرِ قلوب اور تحلی بالأخلاق والفضائل سے مزین اقوال کا نہایت اہتمام فرماتے ہیں جن پر قرآن دالّ ہوتا ہے اگرچہ بطریقِ اشارۃ ہو ۔
- اسی طرح امام تستری علیہ الرحمۃ اپنی ذکرکردہ بات کو ثابت کرنے کیلئے بطورِ شاہد کثرت کیساتھ حکایات و أخبارِ صالحین کا سہارا لیتے ہیں ۔
- اسی طرح امام تستری علیہ الرحمۃ ان اشکالات کوبھی دور کرتے ہیں جو ظاہر لفظِ قرآن کریم پر وارد ہورہے ہوتے ہیں ۔
((نماذج من تفسیرہ))
- قرآن مجید کی سورۃ أعراف کی یہ آیت کریمہ ﵟوَٱتَّخَذَ قَوۡمُ مُوسَىٰ مِنۢ بَعۡدِهِۦ مِنۡ حُلِيِّهِمۡ عِجۡلٗا جَسَدٗا لَّهُۥ خُوَارٌۚ أَلَمۡ يَرَوۡاْ أَنَّهُۥ لَا يُكَلِّمُهُمۡ وَلَا يَهۡدِيهِمۡ سَبِيلًاۘ ٱتَّخَذُوهُ وَكَانُواْ ظَٰلِمِينَ ١٤٨ﵞ[4] جب ذکر فرمائی تو اسکی تفسیر میں فرمایا کہ: “عجل كل إنسان ما أقبل عليه، فأعرض به عن الله من أهل وولد، ولا يتخلص من ذلك إلَاّ بعد إفناء جميع حظوظه
من أسبابه، كما لم يتخلص عبدة العجل من عبادته إلَاّ بعد قتل النفوس.[5]“
ترجمہ: ہر انسان کا بچھڑا وہ ہے جس کی طرف وہ متوجہ ہوتا ہے اور اسے اللہ تعالی سے پھیر دیتا ہے اور وہ اہل و اولاد ہیں ۔ ان سے خلاصی تب ہی ممکن ہے جب وہ اپنے اسباب کے تمام حصوں کو فنا کردے جیساکہ بچھڑے کی عبادت کرنے والا بچھڑے کی عبادت سے تب ہی خلاصی پاسکتا ہے جب وہ تمام نفوس کو قتل کردے۔
- سورۃ الشعراء میں ان آیاتِ کریمہ کی تفسیر میں کچھ یوں لکھتے ہیں ﵟٱلَّذِي خَلَقَنِي فَهُوَ يَهۡدِينِ ٧٨ﵞکی تفسیر میں کچھ یوں لکھتے ہیں : “الذي خلقني لعبوديته يهديني إلى قربه”[6] ترجمہ: یعنی وہ رب جس نےمجھے اپنی عبادت کیلئے پیدا کیا تاکہ وہ مجھے اپنے قرب کی ہدایت دے۔ﵟوَٱلَّذِي هُوَ يُطۡعِمُنِي وَيَسۡقِينِ ٧٩ﵞاسکی تفسیر میں فرمایا” يطعمني لذة الإيمان، ويسقيني شراب التوكل والكفاية”[7] ترجمہ: وہ مجھے ایمان کی لذت کھلاتا ہے اور توکل و کفایت کا مشروب پلاتا ہے۔ﵟوَإِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِينِ ٨٠ﵞاسکی تفسیر میں فرمایا” يعني إذا تحركت بغيره لغيره عصمني، وإذا ملت إلى شهوة من الدنيا منعها عني”[8]ترجمہ: جب میں اسکے غیر کے ذریعے اسکے غیر کے لئے حرکت کرتا ہوں تو وہ مجھے بچاتا ہے ، اور جب میں دنیاوی شہوت کی طرف مائل ہوتا ہوں تو مجھے اس سے منع فرماتا ہے۔ﵟوَٱلَّذِي يُمِيتُنِي ثُمَّ يُحۡيِينِ ٨١ﵞ اسکی تفسیر میں فرمایا” الذي يميتني بالغفلة ثم يحييني بالذكر”[9] ترجمہ: وہ ذات جو مجھے غفلت کیساتھ موت عطا فرماتا ہے اور ذکر کیساتھ زندہ کرتا ہے۔
ﵟوَٱلَّذِيٓ أَطۡمَعُ أَن يَغۡفِرَ لِي خَطِيٓـَٔتِي يَوۡمَ ٱلدِّينِ ٨٢ﵞ[10]اسکی تفسیر میں فرمایا” أخرج كلامه على شروط الأدب بين الخوف والرجاء، ولم يحكم عليه بالمغفرة”[11]ترجمہ: یہ کلام خوف و رجاء (امید و ڈر) کے درمیان ادب کے شروط پر محمول کیا جائے اور مغفرت کا حتمی حکم نہ لگایا جائے۔
- سورۃ الصافات کی اس آیت کریمہ ﵟوَفَدَيۡنَٰهُ بِذِبۡحٍ عَظِيمٖ ١٠٧ﵞ[12]کی تفسیر میں فرماتے ہیں ” إبراهيم عليه الصلاة والسلام
لما أحب ولده بطبع البشرية تداركه من الله فضله وعصمته حتى أمره بذبحه، إذ لم يكن المراد منه تحصيل الذبح، وإنما
كان المقصود تخليص السر من حب غيره بأبلغ الأسباب، فلما خلص السر له ورجع عن عادة الطبع فداه بذبح عظيم.[13]
ترجمہ: حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے بشری تقاضے کیوجہ سے جب اپنے بیٹے سے محبت کی تو اللہ تبارک و تعالی کے تدارل و عصمت نے انہیں پالیا یہاں تک کہ انکو ذبح کرنے کا حکم ملا۔ کیونکہ یہاں مراد ذبح کی تحصیل نہیں تھی بلکہ مقصود یہ تھا کہ أبلغ الاسباب کے ذریعے حبِ غیر سے تخلیصِ سرکیاجائے ۔ پس جب سر کی تخلیص ہوگئی اور جناب ابراہیم علیہ السلام بشری تقاضے سے رجوع فرما چکے تو ذبحِ عظیم کا فدیہ عطا کیا گیا۔
- قرآن کریم کی اس آیتِ کریمہ ﵟأَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ ٱلۡقُرۡءَانَ أَمۡ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقۡفَالُهَآ ٢٤ﵞ[14] کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ: “إن الله تعالى خلق القلوب وأقفل عليها بأقفال، وجعل مفاتيحها حقائق الإيمان، فلم يفتح بتلك المفاتيح على التحقيق إلا قلوب أوليائه والمرسلين صلوات الله عليهم أجمعين والصديقين وسائر الناس يخرجون من الدنيا، ولم تفتح أقفال قلوبهم، والزهاد والعباد والعلماء خرجوا منها وقلوبهم مقفلة، لأنهم طلبوا مفاتيحها في العقل، فضلوا الطريق، ولو طلبوه من جهة التوفيق والفضل لأدركوه، والمفتاح أن تعلم أن الله قائم عليك، رقيب على جوارحك، وتعلم أن العمل لا يكمل إلا بالإخلاص مع المراقبة”[15]ترجمہ: بیشک اللہ تعالی نے دلوں کو پیدا فرمایا اور ان پر تالے لگائے اور انکی چابیاں حقائقِ ایمان کو بنایا ، پس ان چابیوں کے ذریعے کماحقہ دل نہیں کھلتے مگر اولیاءو مرسلین و صدیقین کے اور ان تمام لوگوں کے جو دنیا سے نکل گئے ہیں ۔ اور انکے دلوں کے تالے نہیں کھلتے اور زہاد و عباد و علماء اس سے نکل گئے ہیں اس حال میں کہ انکے دلوں پر تالے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنی عقل کے ترازو میں تولتے ہوئے انکی چابیاں طلب کی ہیں پس وہ راستے سے بھٹک گئے اور اگر وہ اسکو توفیق و فضل کی جہت سے طلب کرتے تو ضرور اسکو پالیتے ۔ اور چابی یہ ہے کہ تو جان کہ بیشک اللہ تعالی تیرے اوپر قائم ہے تیرے جوارح پر نگہبان ہے اور یہ کہ تو جان کہ عمل تب ہی مکمل ہوسکتا ہے جب اخلاص مع المراقبہ ہو۔
درج بالا تمام معانی امام تستری علیہ الرحمۃ کے مقبول ہیں ۔ اور انکی طرف ارجاع لفظِ قرآنی کی طرف تکلف کئے بغیر ممکن ہے بغیر کسی معارضۂ شرعیہ یا عقلیہ کے۔درج بالا کتاب کا تقریباً اسلوب اسی طرح ہے جیسا ہم نے ذکر کیا۔

[1] ابومحمد سہل بن عبداللہ التستری، تفسیر التستری، ص 53، منشورات محمد علي بيضون / دارالكتب العلمية – بيروت
[2] ابومحمد سہل بن عبداللہ التستری، تفسیر التستری، ص 16، منشورات محمد علي بيضون / دارالكتب العلمية – بيروت
[3] ابومحمد سہل بن عبداللہ التستری، تفسیر التستری، ص 19، منشورات محمد علي بيضون / دارالكتب العلمية – بيروت
[4] القرآن الکریم، سورۃ الأعراف، 7/148
[5] ابومحمد سہل بن عبداللہ التستری، تفسیر التستری، ص 68، منشورات محمد علي بيضون / دارالكتب العلمية – بيروت
[6] ابومحمد سہل بن عبداللہ التستری، تفسیر التستری، ص 115، منشورات محمد علي بيضون / دارالكتب العلمية – بيروت
[7] ابومحمد سہل بن عبداللہ التستری، تفسیر التستری، ص 115، منشورات محمد علي بيضون / دارالكتب العلمية – بيروت
[8] ابومحمد سہل بن عبداللہ التستری، تفسیر التستری، ص 115، منشورات محمد علي بيضون / دارالكتب العلمية – بيروت
[9] ابومحمد سہل بن عبداللہ التستری، تفسیر التستری، ص 115، منشورات محمد علي بيضون / دارالكتب العلمية – بيروت
[10] القرآن الکریم، سورۃالشعراء، 26/76-82
[11] ابومحمد سہل بن عبداللہ التستری، تفسیر التستری، ص 115، منشورات محمد علي بيضون / دارالكتب العلمية – بيروت
[12] القرآن الکریم، سورۃ الصافات، 37/107
[13] ابومحمد سہل بن عبداللہ التستری، تفسیر التستری، ص 131، منشورات محمد علي بيضون / دارالكتب العلمية – بيروت
[14] القرآن الکریم، سورۃ محمد ، 47/24
[15] ابومحمد سہل بن عبداللہ التستری، تفسیر التستری، ص 135-136، منشورات محمد علي بيضون / دارالكتب العلمية – بيروت

