حقائق التفسیر ((للسلمی))
(اسلوب)
یہ تفسیر ایک جلد میں کبیر الحجم پائی جاتی ہے۔جسکے دو مخطوطہ نسخے مکتبۂ ازھریہ میں موجود ہیں۔
اس تفسیر کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ:
- امام ابو عبدالرحمٰن السلمی نے بالاستیعاب جمیع سورِ قرآن کو ذکر فرمایا ہے لیکن ہر ہر آیت کو ذکر نہیں فرمایا بلکہ بعض کو ذکر فرماکر دوسری آیات کی طرف اشارہ فرما دیتے ہیں ۔
- اسی طرح امام ابوعبدالرحمن سلمی ظاہر قرآن کے درپے نہیں ہوتے بلکہ اپنی تمام کتاب میں نمطِ واحد اختیار فرمایا ہے اور وہ تفسیرِ اشاری ہے کیونکہ امام سلمی تفسیرِ اشاری کو ذکر کرنے پر ہی اقتصار فرماتے ہیں یعنی انکی تفسیر میں ظاہر قرآن مراد نہیں ہوتا۔ جیساکہ انہوں نے اس کتاب کےمقدمہ میں تصریح فرمائی ہے کہ” أنه أحب أن يجمع تفسير أهل الحقيقة فى كتاب مستقل كما فعل أهل الظاهر”[1] ترجمہ: بیشک انہوں نے پسند کیا کہ اہلِ حقیقت کی تفسیر کو ایک مستقل کتاب میں جمع فرمادیں جیساکہ اہلِ ظاہر نے کیا ہے۔
- أبو عبدالرحمٰن سلمی نے اپنی اس کتاب میں محض اہلِ حقیقت کے چند مقالات جمع فرمائے ہیں اور انکو سور و آیات کی ترتیب پر مرتب فرمایا ہے ۔ اسی کو لوگوں کے سامنے منظرِ عام پر لے آئے جسکا نام “حقائق التفسیر” رکھ دیا ۔
- آپکی کتاب آپکے جن تلامذہ نے آپ سے نقل کی ان میں سے سرفہرست ان شخصیات کے نام آتے ہیں:
جعفر بن محمد الصادق،ابن عطاء الله السكندرى، الجنيد، الفضيل بن عياض،سهل بن عبد الله التسترى، وغيرهم كثير رحمھم اللہ تعالٰی
تفسیرِ سلمی میں سے کچھ عبارت نقل کرنے کی سعادت حاصل کرتا ہوں تاکہ یہ معلوم ہو جائے کہ امام سلمی نے معانیٔ اشاریہ کو بیان کرنے پر اقتصار کیا ہے اور قرآن کے معانیٔ ظاہرہ کا انکار نہیں کیا ۔ اسی طرح انہوں نے اس کتاب میں محض جمع و ترتیب کی کوشش کی ہے۔آپ نے اپنی کتاب کے مقدمہ میں فرمایا:
” لما رأيت المتوسمين بالعلوم الظواهر سبقوا فى أنواع فرائد القرآن: من قراءات، وتفاسير، ومشكلات، وأحكام، وإعراب، ولغة، ومجمل، ومفسر، وناسخ، ومنسوخ، ولم يشتغل أحد منهم بجمع فهم خطابه على لسان الحقيقة إلا آيات متفرقة، نُسبت إلى أبى العباس ابن عطاء، وآيات ذُكِر أنها عن جعفر بن محمد، على غير ترتيب، وكنت قد سمعت منهم فى ذلك حروفاً استحسنتها، أحببت أن أضم ذلك إلى مقالتهم، وأضم أقوال مشايخ أهل الحقيقة إلى ذلك، وأرتبه على السور حسب وسعى وطاقتى، واستخرتُ الله فى جمع شىء من ذلك، واستعنتُ به فى ذلك وفى جميع أُمورى، وهو حسبى
ونعم المعين [2] ترجمہ: جب میں علوم ِ ظواہر میں مشغول رہنے والوں کو دیکھا کہ وہ فرائدِ قرآن کے انواع کو بیان کرنے میں سبقت لےگئے ہیں (انواعِ فرائدِ قرآن جیساکہ) قراءات، تفاسیر،مشکلات، احکام،اعراب، لغت،مجمل ، مفسر، ناسخ، منسوخ وغیرہ اوران میں سے کوئی بھی علی لسان الحقیقۃ رب تعالی کے خطاب کے فہم کو جمع کرنے میں مشغول نہیں ہوا علاوہ چند آیاتِ متفرقات کے جوکہ ابو العباس علی بن عطاء کیطرف منسوب ہیں اور وہ چند آیات جنکے بارے میں کہا گیا کہ یہ جعفر بن محمد سے ہیں بغیر ترتیب کے حالانکہ میں نے ان حضرات سے اس بارے میں چند حروف سنے تھے جنکو میں نے مستحسن کیا تھا ، تو میں نے پسند کیا کہ میں انکے مقالے کی طرف اسکو ملاؤں اور اہلِ حقیقت کے مشائخ کے اقوال کو انکے ساتھ ملاؤں ۔ اور انکو اپنی بشری طاقت کے مطابق ترتیبِ سور پر مرتب کروں ۔ اور میں نے ان کو جمع کرنے کے بارے میں اللہ تعالی کی بارگاہ میں استخارہ کیا اور میں نے رب تعالی ہی سے مدد مانگی اس (جمع کرنے ) کے بارے میں اور اپنے تمام معاملات میں اور وہ مجھے کافی ہے اور اچھا کارساز ہے۔
تفسیر القرآن للتستری متعلقہ مواد
طعن بعض العلماء على هذا التفسير:
جیساکہ ہم نے پہلے ذکر کیا کہ مصنف علیہ الرحمۃ نے اپنی اس کتاب میں معانیٔ ظاہرہ سے اعراض کرکے معانیٔ اشاریہ پر اقتصار کیا ہےلیکن اس کیساتھ ساتھ علماء نے اس کتاب پر بہت طعن بھی کیاہے اسی طرح اس کتاب کیوجہ سے مصنف پر بھی بہت طعن کیا گیا چنانچہ:
علامہ جلال الدین سیوطی شافعی (م:۹۱۱ھ) اپنی کتاب “طبقات المفسرین”میں مبتدعہ کی تفسیر میں اس کتاب کو شمار کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ:
“وإنما أوردته في هذا القسم لأن تفسيره غير محمود[3]” ترجمہ: میں نے اس کتاب کو اس قسم ( تفاسیرِ مبتدعہ) میں اس لئے وارد کیا ہے کیونکہ انکی تفسیر محمود نہیں ہے۔
اسی طرح امام تاج الدین عبدالوہاب بن تقی الدین السبکی (م:۷۷۱ھ) اپنی کتاب “طبقات الشافعیۃ” میں لکھتے ہیں کہ:
“وَكتاب حقائق التَّفْسِير الْمشَار إِلَيْهِ قد كثر الْكَلَام فِيهِ من قبل أَنه اقْتصر فِيهِ على ذكر تأويلات ومحال للصوفية ينبو عَنْهَا ظَاهر اللَّفْظ”[4] ترجمہ: اور کتاب “حقائق التفسیر” جسکی طرف اشارہ کیا گیا ہے ، اس کے بارے میں کثرت کیساتھ کلام کیا گیا ہے اس لحاظ سے کہ انہوں نے محض تأویلات کو ذکر کرنے پر اقتصار کیا ہے اور اسکے ظاہر الفاظ سے صوفیاء کاکلام پھوٹتا ہے۔
اسی طرح علامہ علی بن سلطان محمد القاری علیہ رحمۃ اللہ الباری (م:۱۰۱۴ھ) اپنی کتاب “مرقاۃالمفاتیح شرح مشکاۃ
المصابیح “میں لکھتے ہیں کہ :
“ونقل ابن الصلاح أن الواحدي قال: صنف أبو عبد الرحمن السلمي حقائق التفسير، فإن كان اعتقد أن ذلك تفسير فقد كفر”[5]ترجمہ: حضرت ابن الصلاح سے منقول ہے کہ واحدی نے کہا کہ: أبوعبدالرحمٰن سلمی نے “حقائق التفسیر” تصنیف کی پس اگر کوئی شخص یہ اعتقاد رکھے کہ یہ تفسیر ہے تو اس نے کفر کیا۔
رأینا فی ھذہ الطعون:
درج بالا طعون کے بارے میں ہماری رائے وہی ہے جو علامہ محمد سید حسین ذھبی رحمہ اللہ تعالی نے رائےقائم فرمائی ہے چنانچہ آپ اپنی کتاب “التفسیر والمفسرون”میں فرماتے ہیں کہ:
- علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ تعالی کا “تفسیر السلمی”کو اہلِ بدع کی تفاسیر میں شمار کرنا انکی طرف سے غلو اور اجحاف ہے۔
- امام تاج الدین سبکی رحمہ اللہ تعالی کا یہ کہنا کہ امام ابو عبدالرحمن سلمی نے اس تفسیر میں تأویلاتِ صوفیاء پر اقتصار کیا ہے ، تو یہ کلمۂ حق ہے جس پر کوئی غبار نہیں ہے۔
- واحدی کا یہ کہنا کہ ” جس نے اس کتاب کے تفسیر ہونے کا اعتقاد رکھا اس نے کفر کیا” تو ہم اس بارے میں کہتے ہیں کہ ابو عبدالرحمن کا اپنا یہ اعتقاد نہیں ہے کہ میری یہ کتاب تفسیر کی ہے بلکہ انہوں نے اپنی کتاب کے مقدمہ میں اس بات کی صراحت کی ہے کہ یہ اشاراتِ خفیہ ہیں جوکہ أربابِ تصوف و حقائق پر ہی ظاہر ہیں۔[6]
نماذج من تفسیر السلمی:
جب ہم ” حقائق التفسیر” پر کلام کرنے سے فارغ ہوئے تو اس کتاب میں وارد بعض عبارات پیش کئے جاتے ہیں:
- سورۃ النساء کی اس آیتِ کریمہ ﵟوَلَوۡ أَنَّا كَتَبۡنَا عَلَيۡهِمۡ أَنِ ٱقۡتُلُوٓاْ أَنفُسَكُمۡ أَوِ ٱخۡرُجُواْ مِن دِيَٰرِكُم مَّا فَعَلُوهُ إِلَّا قَلِيلٞ مِّنۡهُمۡۖ وَلَوۡ أَنَّهُمۡ فَعَلُواْ مَا يُوعَظُونَ بِهِۦ لَكَانَ خَيۡرٗا لَّهُمۡ وَأَشَدَّ تَثۡبِيتٗا ٦٦ﵞ[7] کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ:
“قال محمد بن الفضل: {اقتلوا أَنْفُسَكُمْ} بمخالفة هواها، {أَوِ اخرجوا مِن دِيَارِكُمْ} أى أخرجواحب الدنيا من قلوبكم {مَّا فَعَلُوهُ إِلَاّ قَلِيلٌ مِّنْهُمْ} فى العدد، كثير فى المعانى، وهم أهل التوفيق والولايات الصادقَة”[8]
ترجمہ: محمد بن فضل نے کہا کہ(تم اپنی جانوں کو قتل کرو) اپنے نفس کی خواہش کی مخالفت کرکے ( یا اپنے گھروں سے نکل جاؤ)یعنی
اپنے دلوں سے دنیا کی محبت نکال دو (نہیں کیا اسکو مگر ان میں سے تھوڑوں نے) عدد میں کثیر معانی میں اور وہ توفیق اور ولایاتِ
صادقہ والے ہیں۔
- سورۃ رعد کی جب یہ آیتِ کریمہ ذکر فرمائی ﵟوَهُوَ ٱلَّذِي مَدَّ ٱلۡأَرۡضَ وَجَعَلَ فِيهَا رَوَٰسِيَ وَأَنۡهَٰرٗاۖ وَمِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِ جَعَلَ فِيهَا زَوۡجَيۡنِ ٱثۡنَيۡنِۖ يُغۡشِي ٱلَّيۡلَ ٱلنَّهَارَۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يَتَفَكَّرُونَ ٣ﵞ[9] تو اسکی تفسیر میں لکھا کہ:
“قال بعضهم: هو الذى بسط الأرض وجعل فيها أوتاداً من أوليائه وسادة من عبيده فإليهم الملجأ، وبهم النجاة، فمَن ضرب فى الأرض يقصدهم فاز ونجا، ومَن كان بغيته لغيرهم خاب وخسر. سمعت علىّ بن سعيد يقول: سمعت أبا محمد الحريرى يقول: كان فى جوار الجنيد إنسان مصاب فى خربة؛ فلما مات الجنيد وحملنا جنازته حضر الجنازة، فلما رجعنا تقدم خطوات وعلا موضعاً من الأرض عالياً، فاستقبلنى بوجهه وقال: يا أبا محمد؛ إنى لراجع إلى تلك الخربة وقد فقدت ذلك السيد، ثم أنشد شعراً:
وما أسفى من فراق قوم … هم المصابيح، والحصون
والمدن، والمزن، والرواسى … والخير، والأمن، والسكون
لم تتغير لنا الليالى … حتى توفتهم المنون
فكل جمر لنا قلوب … وكل ماء لنا عيون[10]
ترجمہ: بعض علماء نے فرمایا کہ وہ وہ ذات ہے جس نے زمین کو بچھایا اور اس میں اپنے اولیاء کے ذریعے میخ گاڑھے اور اپنے بندوں میں زمین کو کنڑول کرنے والے بنائے پس ٹھکانہ انہیں کی طرف ہے اوران ہی کے ذریعے نجات ہے پس جو زمین میں انکا قصد کرنے کیلئے سیر کرے تو کامیاب و کامران ہوجائے اور جسکی تلاش انکے علاوہ کسی اور کیلئے ہو تو وہ نقصان پاگیا۔ میں نے علی بن سعید کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے ابو محمد حریری کو فرماتے ہوئے سنا کہ:حضرت جنید کے پڑوس میں ایک شخص کسی مصیبت میں مبتلا تھا ، تو جب حضرت جنید وفات پائے اور ہم نے انکے جنازے کو اٹھایا تو جنازہ حاضر ہوا ،الخ۔۔۔
- سورۃ الحج کی اس آیتِ کریمہ ﵟأَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءٗ فَتُصۡبِحُ ٱلۡأَرۡضُ مُخۡضَرَّةًۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيرٞ ٦٣ﵞ[11]کی تفسیر میں فرمایا کہ :” قال بعضهم: أنزل مياه الرحمةَ من سحائب القُربة، وفتح إلى قلوب عباده عيوناً من ماء الرحمة، فأنبتت فاخضرت بزينة المعرفة، وأثمرت الإيمان، وأينعت التوحيد. أضاءت بالمحبة فهامت إلى سيدها، واشتاقت إلى ربها فطارت بهمتها، وأناخت بين يديه، وعكفت فأقبلت عليه، وانقطعت عن الأكوان أجمع، ذاك آواها الحق إليه، وفتح لها
خزائن أنواره، وأطلق لها القترة فى بساتين الأُنس، ورياض الشوق والأنس”[12]
ترجمہ: بعض علماء نے فرمایاکہ:اللہ تعالی نے قربت کے بادلوں میں سے رحمت کا پانی نازل فرمایا اور رحمت کےپانی میں سے اپنے بندوں
کے دلوں کی طرف چشمے کھول دیے۔تو وہ کھِل اٹھے اور معرفت کی زینت کیساتھ مزین ہوگئے اور ایمان کا پھل ظاہر ہوا اور توحید کا پھل پک گیا، پھر وہ پانی محبت کیساتھ روشن ہوااور اپنے سردار کی طرف بلند ہوگیااور اپنے رب کیطرف مشتاق ہواتو اسکی روشنی پھیلنی لگی اور اسکے سامنے جھک گئی تو وہ اس پر متوجہ ہوااور اکوان سے تمام لوگ منقطع ہوئے یہ اسلئے کہ حق اسکی طرف متوجہ ہوا اور اسکے انوار کے خزائن اسکے لئے کھل گئےاور اُنس کے باغات اور شوق و قدس کی کھیاریاںمیں اسکے لئے خیرات کے دروازے اس کیلئے کھل گئے۔
- سورۃ رحمٰن کی اس آیتِ کریمہ ﵟفِيهَا فَٰكِهَةٞ وَٱلنَّخۡلُ ذَاتُ ٱلۡأَكۡمَامِ ١١ﵞ[13]کی تفسیر میں فرمایا:
“قال جعفر: جعل الحق تعالى فى قلوب أوليائه رياض أُنسه، فغرس فيها أشجار المعرفة، أُصولها ثابتة فى أسرارهم، وفروعها قائمة بالحضرة فى المشهد، فهم يجنون ثمار الأُنس فى كل أوان، وهو قوله تعالى: {فِيهَا فَاكِهَةٌ والنخل ذَاتُ الأكمام} أى ذات الألوان، كل يجتنى منه لوناً علَى قدر سعته، وما كوشفت له من بوادى المعرفة وآثار الولاية”[14]
ترجمہ: حضرت جعفر نے فرمایا: حق تعالی نے اپنے اولیاء کے دلوں میں اسکے انس کی کھیاریاں بنائیں، جن میں معرفت کے درخت اگائے ، جنکے جڑ انکے اسرار میں ثابت ہیں اور شاخیں مشہد میں حضوری کیساتھ قائم ہیں پس وہ ہر لمحہ انس کے پھلوں کو چنتے ہیں یہی اللہ تعالی کے اس فرمانِ عالیشان کا مطلب ہے {فِيهَا فَاكِهَةٌ والنخل ذَاتُ الأكمام}یعنی کئی رنگوں والے، ہر ایک اس سے اپنی وسعت کے مطابق رنگ چنتا ہے اور وہ جو انکے لئے معرفت کی وادی اور ولایت کے آثار میں سے کھلتے ہیں۔
- سورۃالانفطار کی ان دوآیاتِ کریمہ ﵟإِنَّ ٱلۡأَبۡرَارَ لَفِي نَعِيمٖ ١٣ وَإِنَّ ٱلۡفُجَّارَ لَفِي جَحِيمٖ ١٤ﵞ[15]کی تفسیر میں فرمایا :
“”قال جعفر: النعيم المعرفة والمشاهدة، والجحيم النفوس، فإن لها نيران تتقد”[16]
ترجمہ: حضرت جعفر نے فرمایا کہ نعیم سے مراد معرفت اور مشاہدہ ہے اور جحیم سے مراد نفوس ہیں پس ان دونوں کیلئے دو نیر ہیں جو بھڑکائی جاتی ہیں۔
- سورۃالنصر کی اس آیت کریمہ ﵟإِذَا جَآءَ نَصۡرُ ٱللَّهِ وَٱلۡفَتۡحُ ١ﵞ[17]کی تفسیر میں فرمایا کہ :
“قال ابن عطاء: إذا شغلك به عما دونه فقد حال الفتح من الله تعالى، والفتح هو النجاة من السجن البشرى بلقاء الله تعالى”[18].
ترجمہ: ابن عطاءاللہ نے کہا : جب تجھے کسی چیز نے رب تعالی کے علاوہ کسی اور کی طرف مشغول کیا تو تیری طرف اللہ تعالی کیطرف سے فتح آئی اور فتح سے مراد اللہ تعالی کی ملاقات کے ذریعے سجنِ بشری سے نجات ہے۔

[1] محمد سید حسین الذھبی، التفسیر والمفسرون، ج 2، ص 285،مکتبۃ وھبۃ، القاھرۃ
[2] أبو عبدالرحمن محمد بن حسین سلمی، حقائق التفسیر للسلمی، ج 1، ص 19-20، دارالکتب العلمیۃ ، بیروت – لبنان
[3] جلال الدین السیوطی الشافعی، طبقات المفسرین، ص 98، مکتبہ وھبۃ- القاھرۃ
[4] عبدالوہاب بن تقی الدین السبکی الشافعی، طبقات الشافعیہ، ج 4 ، ص 147، هجر للطباعة والنشر والتوزيع
[5] علی بن سلطان القاری، مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح، ج 1 ، ص 315 ، دارالفکر، بیروت-لبنان
[6] محمد سید حسین الذھبی، التفسیر والمفسرون، ج 2 ، ص 286 ، مکتبہ وھبۃ، القاھرۃ
[7] القرآن الکریم، سورۃالنساء، 4/66
[8] أبو عبدالرحمن محمد بن حسین سلمی، حقائق التفسیر للسلمی، ج 1، ص 154، دارالکتب العلمیۃ ، بیروت – لبنان
[9] القرآن الکریم، سورۃالرعد، 13/3
[10] أبو عبدالرحمن محمد بن حسین سلمی، حقائق التفسیر للسلمی، ج 1، ص 326، دارالکتب العلمیۃ ، بیروت – لبنان
[11] القرآن الکریم ،سورۃالحج،22/63
[12] أبو عبدالرحمن محمد بن حسین سلمی، حقائق التفسیر للسلمی، ج2، ص 26 -27، دارالکتب العلمیۃ ، بیروت – لبنان
[13] القرآن الکریم، سورۃ رحمٰن ، 55/11
[14] أبو عبدالرحمن محمد بن حسین سلمی، حقائق التفسیر للسلمی، ج2 ، ص 293، دارالکتب العلمیۃ ، بیروت – لبنان
[15] القرآن الکریم، سورۃالانفطار، 82/13-14
[16] أبو عبدالرحمن محمد بن حسین سلمی، حقائق التفسیر للسلمی، ج 2، ص 378، دارالکتب العلمیۃ ، بیروت – لبنان
[17] القرآن الکریم، سورۃالنصر، 110/1
[18] أبو عبدالرحمن محمد بن حسین سلمی، حقائق التفسیر للسلمی، ج 2، ص 428، دارالکتب العلمیۃ ، بیروت – لبنان


