تفسیربیضاوی کےمصنف کا تعارف:
نام و نسب:
آپ کا نام عبداللہ ہے۔والد کا نام عمر اور دادا کانام محمد ہے۔آپ کا لقب ناصرالدین ہے۔آپ کی کنیت ابوالخیر ،ابوسعیداورابومحمد ہے۔ آپ ملک بیضاء میں پیدا ہونے کی نسبت سے بیضاوی کہلائے اور شیراز میں منصب قضا ءپر فائز رہنے کی وجہ سے شیرازی کہلائے یوں آپ کا پورا نسب یہ ہوا:
“علامہ قاضی ناصرالدین ابوالخیرعبداللہ بن عمربن محمد بن علی البیضاوی الشیرازی الشافعی“
ولادت:
آپ بیضا نامی ملک میں پیدا ہوے اسی نسبت سے آپ بیضاوی کہلائے۔آپ کی ولادت کے بارے میں کسی نے بھی تاریخ ذکر نہیں کی۔کیونکہ آپ جنگوں کے دور میں پیدا ہوے تھے۔لیکن محققین نے آپ کی تاریخ ولادت کا ایک اندازہ لگایا ہے کہ آپ کی عمر سو سال ہے اور راجح قول کے مطابق آپ کی وفات 685ھ ہے۔ تو آپ کی تاریخ ولادت پھر 585ھ ہوئی یا ساتویں صدی ہجری کے آغاز سےپہلےیا ساتویں صدی ہجری کے اوائل میں ہوئی۔
مذھب فی العقیدہ:
امام بیضاوی عقیدے کے لحاظ سے اہلسنت اور امام ابو موسیٰ اشعری کے پیروکار تھے۔آپ نے عقائد اہلسنت کی اس دور میں حفاظت کی جو دور تنازعات اور مذہبی و سیاسی اختلافات سے بھرا ہوا تھا۔آپ کی تصنیف تفسیربیضاوی سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے جس میں آپ نے عقائد اہلسنت پر دلائل دئیے اور عقائد باطلہ بالخصوص معتزلہ کا رد کیا۔
مسلک:
تراجم کی کتب کے تمام مصنفین کا اس بات پر اجتماع ہے کہ آپ امام شافعی کے پیروکار تھے۔آپ کی فقہی تصانیف بھی اسی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
پرورش اور حصول علم کے لئے اسفار:
آپ نے اپنی زندگی کا ابتدائی حصہ ملک بیضاء میں ہی گزارا۔ وہیں آپ نے اپنے والد کے ہاتھوں پرورش پائی۔آپ انہیں کے پاس رہے انہوں نے ہی آپ کی تربیت کی۔اور ایسی تربیت کی کہ آج تقریبا ساڑھےسات صدیاں گزرنےکےبعد بھی آپ کی لکھی ہوئی کتابیں درس نظامی میں نصاب کے طور پر پڑھائیں جاتی ہیں۔
ابتدائی تعلیم اور فقہ کی تعلیم بیضاء میں ہی حاصل کی۔ مختصراًٍ آپ نے فقہ وغیرہ اپنے والد سے ہی حاصل کی۔ پھر شیراز کی طرف سفر کیا۔ شیراز اس وقت فارس کا دارالحکومت تھا۔ شیراز موسمی اعتبار سے معتدل ہے۔اور اب یہ تجارت کے لحاظ سے مرکز کے حیٖثیت رکھتا ہے۔ یہ ملک ادباء،علماٰء، شعراءاور منگولوں سے بھاگنے والوں کے لیے پناہ گاہ تھا۔اور اس ملک کا بادشاہ ان سب کا خیر مقدم کرتا تھا۔ اور ان کے لیے کھانے پینے کا بندوبست کرتا تھا۔
وہاں ہجرت کرنے والوں میں امام الدین ابو حفص عمر بن محمد بن علی شیرازی بھی تھے۔ جو کہ قاضی ناصر الدین کے والدتھے۔ تو انہوں نے بڑی عزت کے ساتھ انکا احترام کیا۔ وہاں آپ نے قاضی کا منصب سنبھالا۔
امام بیضاوی کی شروع والی زندگی بیضاء میں ہی گزری۔پھر آپ شیراز میں مقہم ہو گئے۔اور ان علماٰء و فقہا کے ہاتھوں اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھاجنہوں نے وہاں پر تحفظ قائم کرنےکے لئے اس طریقے پر عمل کیاجو ثقافت کو دین اور فقہ کے اصولوں سے ملاتا ہے۔آپ نے اپنے والد اور دیگر علماء سے مختلف علوم ی فنون سیکھے۔فقہ،اصول،حکمت،ادب اور منطق میں آپ نے تخرج کیایعنی GRADUATION کیا۔ایک احتمال یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ آپ نے علم وحکمت کی تلاش اور اسلامی ثقافت کو جمع کرنے کےلیےشیراز،تبریز اور دیگر فارس ممالک کی طرف سفر کیا ہو گا۔
علامہ تاج الدین سبکی اپنی کتاب طبقات الکبریٰ میں ذکر کرتے ہیں کہ جب امام بیضاوی کو شیراز میں عہدہ قضاء سے بر طرف کیا گیا تو آپ تبریز چلے گئے۔وہاں پہنچے تو کچھ نیک لوگوں کی درسگاہ پائی اور اس میں داخل ہوئے اور سب سے آخر میں بیٹھ گئے۔وہاں جو استاد تھے انہوں نے ایک نکتہ ذکر کیا اور گمان کیا کےحاضرین میں سے کوئی بھی اس کا جواب نا دے سکے گا۔پھر حاضرین سے اس کا جواب طلب کیااور کہا کہ اگر کوئی جواب دے سکتا ہے تو دے نہیں توکم ازکم یہ اشکال میری طرح دہرا ہی دے۔جب ان میں سے کوئی بھی جواب نہ دے سکا تو امام بیضاوی نے جواب دینا چاہا تواستاد صاحب نے کہا کہ جب تک مجھے بتا نا دو کہ تم میرا سوال سمجھ گئے ہو تب تک میں جواب نہ سنو گا۔ایسا کرو کہ پہلے میرا اشکال دہراؤ۔تو آپ نے ان کا پورا اشکال دہرایا اور تسلی بخش جواب دیا۔پھر اس پر اشکال وارد کر کے جواب چاہا لیکن کوئی بھی نا دےسکا۔
اسی مجلس میں وزیر بھی موجود تھا۔وہ آپ سے متاثرہوا اور مجلس سے اٹھا کر اپنے پاس بلایا اور پوچھا کہ آپ کون ہو تو آپ نے فرمایا کہ بیضاوی ہوں اور شیراز میں قاضی کے عہدے کی تلاش میں آیا ہوں۔اس نے نہایت ہی ادب سے آپ کی مہمان نوازی کی اور عزت و احترام سے آپ کو نوازا۔اور آپ کی حاجت پوری کی۔
امام بیضاوی ایک سے زائد مرتبہ قاضی کے عہدے پر قائم رہے۔ لیکن زیادہ دیر برقرار نہ رہے۔کتب تراجم اس بات بات پر متفق ہیں کہ آپ کو ایک مدت تک اس عہدے پر قائم رکھا گیا۔ پھر معزول کر دیا گیا۔ اور معزولیت کے جو ظاہری اسباب بنے وہ یہ ہیں کہ عدالت میں آپ کا سختی کرنا۔ یعنی اصولوں اور حق پر کھڑے ہونا،یا انکا تقویَ اور پرہیزگاری، اس وجہ سے آپ نے خود ہی چھوڑ دیا۔
شیوخ:
امام بیضاوی نے اپنی زندگی کا اکثر حصہ شیراز میں گزارا جو کہ علم کے لیے مشہور شہر ہے وہیں رہے اور وہیں پر اس علم حاصل کیا صرف تھوڑے ہی عرصے کے لیے تبریز گئے اور وہیں رہے یہاں تک کہ اپ اپنے خالق حقیقی سے جا کر ملتے اپ نے شیراز کے علماء سے بہت استفادہ حاصل کیا لیکن کتب تراجم اورتاریخ تمام علماء کے اسماء کو ذکر نہ کر سکیں لیکن بعض کے نام ہم ذکر کرتے ہیں۔
- والدہ عمر بن محمد بن علی البیضاوی قاضی القضاۃ توفی سنۃ675ھ۔
- شیخ محمد بن محمد الکتحتانی۔
یہ اسی منگول سلطان کے مقربین میں سے تھے جو اسلام لے آیا تھا۔
تلامذہ:
اسی طرح آپ کے شاگردوں کا تذکرہ بھی نہیں ملتا ۔ حالانکہ آپ کی زندگی کا اکثر حصہ تدریس وتصنیف میں گزرا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کے حلقہ درس میں کثیر طلبہ ہوتے تھے۔جو کہ آپ سے علم سیکھتےاور فیض یاب ہوتے تھے۔لیکن ان میں سےچند کےعلاوہ بقیہ کا تذکرہ نہیں ملتا۔
- احمد بن الحسن الشیخ فخرالدین الامام الجاربردی ولد ﺑ“تبریز“ سنۃ 664ھ اخذ عن القاضی البیضاوی۔
- الشیخ زین الدینالھنکی او الھبکی تلمیذ البیضاوی۔
- عمر بن الیاس بن یونس ابوالقاسم کمال الدین المراغی ولد ﺑ“اذربیجان“ سنۃ 643ھ۔
- عبدالرحمن بن احمد الاصفھانی۔
مقام ومرتبہ:
امام بیضاوی اپنے ملک میں اعلی مقام پر فائز تھے۔معاشرے میں ایک نمایاں مقام رکھتے تھے۔آپ کو آپ کی تصانیف کی وجہ سے ناصرالدین(دین کی مدد کرنے والا) کہا جانے لگا۔جن تصانیف میں آپ نے اپنے مذھب ومسلک کی حفاظت کی تھی۔
علماء نے آپ کے بارے میں کہا ہے کہ آپ امام،عالم،متقی،صالح،قاضی اور پرہیزگار تھے۔آپ فقہ و اصولہ،عربی او منطق کے ماہر تھے۔آپ عقہدت مند تھے۔سچائی پر ثابت قدم رہنے والے تھے اور مسلک کے بہترین محافظ تھے۔
امام سبکی کا ایک قول “التفسیر المفسرون “میں لکھا ہے کہ:”آپ مبرز،صاحب نظراور بہترین امام تھے۔”[1]
علمی کارنامے اور تصانیف:
امام بیضاوی نے اپنے پیچھے علم کی ایک بہت بڑی وراژت چھوڑی۔جس کی مثال آپ کی تصانیف اورتالیفات ہیں۔جن کی متقدمین و متاخرین علماء نے تعریف کی ہے۔آپ کے اس کام کو سراہا ہے۔آپ کی تصانیف کو درس نظامی میں کے نصاب میں شامل کیا گیااور بقیہ اسلامی اداروں میں بھی نصاب کا حصہ بنایا گیا۔آپ نے مختلف علوم جن میں تفسیر،حدیث،عقائد،فقہ،اصول،تاریخ اور لغت عربی وغیرہ شامل ہیں میں کتب تصنیف کیں۔
آپ کی تصانیف کی تعداد ہزاروں تک پہنچتی ہے۔جن میں سے چند درج ذیل ہیں۔
- “انوارالتنزیل واسرارالتاویل“ اسے تفسیر بیضاوی بھی کہا جاتا ہے۔یہ آپ کی مشہور ترین تصنیف ہے۔
- “الایضاح فی اصول الدین“یہ کتاب المصباح کی شرح ہے۔
- “تحفۃ الابرار۔“
- “التھذیب فی الاخلاق فی التصوف۔“
- “رسالۃ فی موضوعات العلوم و تعاریفھا۔“
- “شرح التنبیہ للشیرازی فی الفقہ الشافعی فی اربع مجلدات۔“
- “شرح الکافیہ فی النحو لابن الحاجب۔“
- “شرح منھاج الوصول الی علم الاصول۔“
- “المختصر فی الھیئہ وھو متن فی علم الھیئہ۔“
- “نظام التواریخ باللغۃ الفارسیہ من ابتداء الخلق حتی سنۃ674ھ۔“
اسی طرح اور بہت سی کتب ہیں جو آپ نے تصنیف کیں ہیں۔
وفات:
مؤرخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ امام بیضاوی کا وصال تبریز میں ہوا۔لیکن آپ کے وصال کی تاریخ میں اختلاف ہے کہ آپ نے کس سن میں وصال فرمایا۔اکثر مؤرخین اور علماء تراجم کا خیال ہے کہ آپ نے 685ھ کو وصال کیا جبکہ ایک قول 691ھ کا بھی ہے۔
امام بیضاوی کا یہ تعارف مکتبۃ المدینہ کی شائع کردہ کتاب تفسیر بیضاوی سے لیا گیا ہے۔
[1] ڈاکٹر محمد حسین الذہبی،التفسیر والمسرون،مکتبہ وہبہ القاہرہ،جلد 1 صفحہ 211

