((التفسیر المنسوب لابن عربی))
تعارف:
اس كتاب میں مصنف علیہ الرحمۃ نے تفسیرِ صوفی نظری اور تفسیرِ اشاری کو جمع کیا ہےاور کسی حال میں بھی تفسیرِ ظاہری کے درپے نہیں ہوئے تفسیر صوفی نظری میں غالب طور پر وحدۃ الوجود کا مذہب اختیار کیا ہے ۔ یہی وہ مذہب ہے جسکو قرآن کریم کی تفسیر میں انہوں نے اختیار کیا ہے۔جبکہ تفسیرِ اشاری اس میں کثیر ہےجسکے معنی ہم نہیں سمجھ سکتے اسی طرح سیاقِ آیت بھی اس کتاب میں ہم نہیں پاتے اگرچہ مؤلف علیہ الرحمۃ اپنے کلام میں واضح ہیں جیساکہ امام تستری علیہ الرحمۃ اپنے کلام کی وضاحت فرماتے ہیں۔یا مصنف نے اس کتاب میں تفسیرِ ظاہری اور باطنی کو جمع فرمایا ہے جیساکہ ان میں سے کوئی کام نہیں کیا جسکی وجہ سے کتاب مغلق بنے ۔ یہی وجہ ہے کہ آپکے استاد امام قاشانی رحمہ اللہ نے فرمایا “إنه باطنى” یعنی یہ باطنی تفسیر ہے ۔
فی جملۃ یہ کتاب اگرچہ تفسیرِ باطنیہ کے مشابہ ہے جسکی کوئی وجوہات ہیں جیساکہ:انہوں نے اپنی کتاب میں وہ معانی ذکر فرمائے ہیں جووحدۃالوجود کے نظریے پر قائم ہیں ، اسی طرح اس کتاب میں معانی اشاریہ بعیدہ موجود ہیں لیکن باوجود اسکے کہ اس کتاب کو باطنی تفسیرکہنا درست نہیں ہے اس لئے کہ تاریخ گواہ ہے کہ علامہ ابن العربی رحمہ اللہ متصوفہ میں سے تھے جنکے زہد و تقویٰ کی گواہیاں دی جاتی ہیں ۔
دوسری بات یہ ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ باطنیہ قرآن کے ظاہری معانی کے منکر ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ قرآن کا باطن ہی مراد ہے جبکہ علامہ ابن العربی علیہ الرحمۃ نے اپنی اس کتاب میں یہ مذہب اختیار نہیں کیا بلکہ ہم انکی کتاب کے مقدمہ میں ان کو اس بات کا اعتراف کرنے والا پاتے ہیں کہ قرآن کا ظاہری معنی مراد ہے اوراولاً یہی ضروری ہے اگرچہ انہوں نے اس بات پر بھی تنبیہ فرمائی ہےکہ انہوں نے اپنی کتاب میں محض تفسیرِ ظاہری نہیں کی ۔ پس انہوں نے اپنی کتاب کو اس طریقے پر تصنیف فرمایا جیساکہ ہم دیکھتے ہیں ۔
ذیل میں چند جملے اس کتاب کے مقدمے میں سے ذکر کئے جاتے ہیں تاکہ اس بات کی معرفت ہوسکے کہ مصنف علیہ الرحمۃ باطنی نہیں ہیں اسی طرح انہوں نے اپنی کتاب میں وہ منہج و طریقہ اختیار کیا ہے جو قرآنِ کریم کی تفسیر و شرح کیلئے استعمال کیاجاتا ہے ۔چنانچہ فرمایا:
“وبعد.. فإنى طالما تعهدتُ تلاوة القرآن، وتدبرتُ معانيه بقوة الإيمان، وكنتُ مع المواظبة على الأوراد، حَرِج الصدر، قَلِق الفؤاد، لا ينشرح بها قلبى ولا يصرفنى عنها ربى، حتى استأنستُ بها فألفتها، وذقتُ حلاوة كأسها وشربتها، فإذا أنا بها نشيط النفس، فَلِج الصدر، مُتَسِع البال، منبسط القلب، فسيح السر، طيب الوقت والحال، مسرور الروح بذلك الفتوح، كأنه دائماً فى غبوق وصبوح، تنكشف لى تحت كل آية من المعانى ما يكل بوصفه لسانى لا القدرة تفى بضبطها وإحصائها، ولا القدرة تصبر عن نشرها وإفشائها، فتذكرت خبر من أتى ما ازدهانى، مما وراء المقاصد والأمانى، قول النبى الأُمِّى الصادق عليه أفضل الصلوات من كل صامت وناطق: “ما نزل من القرآن آية إلا ولها ظهر وبطن، ولكل حرف حد، ولكل حد مطلع” وفهمت منه أن الظهر: هو التفسير، والبطن: هو التأويل، والحد: ما يتناهى إليه المفهوم من معنى الكلام، والمطلع: ما يصعد إليه منه فيطلع على شهود الملك العلام، وقد نُقل عن الإمام المحقق السابق جعفر بن محمد الصادق عليه السلام أنه قال: لقد تجلَّى الله لعياده فى كلامه، ولكن لا يبصرون، ورُوى عنه عليه السلام أنه خَرَّ مغشياً عليه وهو فى الصلاة فسئل عن ذلك فقال: ما زلت أردد الآية حتى سمعتها من المتكلم بها.. فرأيت أن أعلق بعض ما يسنح لى فى الأوقات من أسرار حقائق البطون وأنوار شوارق المطلعات، دون ما يتعلق بالظواهر والحدود، فإنه قد عُيِّن لها حد محدد، وقيل: مَن فسَّر برأيه فقد كفر، وأما التأويل فلا يبقى ولا يذر، فإنه يختلف بحسب أحوال المستمع وأوقاته، فى مراتب سلوكه وتفاوت درجاته، وكلما ترقى عن مقامه انفتح له باب فهم جديد، واطلع به على لطيف معنى عتيد، فشرعتُ فى تسويد هذه الأوراق بما عسى يسمح به الخاطر على سبيل الاتفاق، غير حائم بقيعة التفسير، ولا خائض فى لجة من المطلعات ما لا يسعه التقرير، مراعياً لنطق الكتاب وترتيبه، غير معيد لما تكرر منه أو تشابه فى أساليبه، وكل ما لا يقبل التأويل عندى، أو لا يحتاج إليه فما أوردته أصلاً، ولا أزعم أنى بلغت الحد فيما أوردته كاملاً، فإن وجوه الفهم لا تنحصر فيما فهمت، وعلم الله لا يتقيد بما علمت،
ومع ذلك فما وقف الفهم منى على ما ذكر فيه، بل ربما لاح لى فيما كتب من الوجوه ما تهت فى محاويه، وما يمكن تأويله من الأحكام الظاهر منها إرادة ظاهرها فما أوَّلته إلا قليلاً، ليعلم به أن للفهم إليه سبيلاً، ويُستدل بذلك على نظائرها إن جاوز مجاوز عن ظواهرها، إذ لم يكن فى تأويلها بُدّ من تعسف، وعنوان المروءة ترك التكلف، وعسى أن يتجه لغيرى وجوه أحسن منها طوع القياد، فإن ذلك سهل لمن تيسر له من أفراد العباد. ولله تعالى فى كل كلمة كلمات ينفد البحر دون نفادها، فكيف السبيل إلى حصرها وتعدادها … ولكنها أنموذج لأهل الذوق والوجدان، يحتذون على حذوها عند تلاوة القرآن، فينكشف لهم ما استعدوا له من مكنونات علمه، ويتجلى عليهم ما استطاعوا له من خفيات غيبه، والله الهادى لأهل المجاهدة، إلى سبيل المكاشفة والمشاهدة، ولأهل الشوق إلى مشارب الذوق، إنه ولى التحقيق، وبيده التوفيق”

ترجمہ: “اور اس کے بعد.. جب تک میں نے قرآن کی تلاوت کرنے اور اس کے معانی پر ایمان کی طاقت سے عبور حاصل کرنے کی قسم کھائی ہے • میں پریوں میں استقامت کے ساتھ تھا ۔ سینے سے بے چین دل نکلا ۔ میرا دل خوش نہیں ہوتا اس میں اور میرا رب مجھے اس سے نہیں پھیرتا ۔ یہاں تک کہ میں اس سے آسودہ ہو جاؤں اور میں نے اسے لپیٹ لیا . • سینے کا فلج دماغ کا سرچشمہ ہے ۔ دل ہموار ہے ۔ خاندان کشادہ ہے ، وقت اور حالات اچھی بات ہے ۔ روح اس فتح سے خوش ہوتی ہے ۔ گویا وہ ہمیشہ اندھیرے اور صبح میں ہوتی ہے ۔ نشانی کی ہر آیت کے نیچے، حمایت اور وفاداری کے بارے میں ایک عام لفظ مجھ پر نازل ہوتا ہے اور نہ ہی اسے شائع کرنے اور ظاہر کرنے کی اہلیت صبر کرتی ہے۔ تو مجھے ان لوگوں میں سے سب سے بہتر یاد آیا جو مجھے سنوارتے تھے ۔ مقاصد اور امنگوں سے بالاتر ۔ ایماندار ناخواندہ نبی کا قول، جس پر ہر خاموش اور بولنے والے کی بہترین دعا ہے: “قرآن سے کوئی آیت نازل نہیں ہوئی سوائے اس کے کہ اس کی کمر اور پیٹ ہے ۔ اور ہر حرف کی اپنی حد ہے اور ہر حد کھلی ہے” اور میں نے اس سے سمجھا کہ پیٹھ: تعبیر ہے اور پیٹ: تعبیر ہے۔ حد: کیا بات کے مفہوم کی سمجھ تک پہنچتی ہے، اور نڈر: اس میں سے کیا چڑھتا ہے کہ وہ بادشاہ کے سب جاننے والے گواہوں کو دیکھتا ہے، خدا اپنے بندوں کے لئے اپنے الفاظ میں ہے، لیکن وہ دیکھتے نہیں ہیں لام کہ نماز کی حالت میں بے ہوش ہونا بہتر ہے، اس لیے پوچھا گیااس کے بارے میں انہوں نے کہا: میں اس آیت کو دہراتا رہا یہاں تک کہ میں نے اسے کہنے والے سے سنا۔ چنانچہ میں نے سوچا کہ بعض اوقات جو راز میرے پاس موجود ہوتے ہیں ان میں سے معدے کی حقیقتوں کے رازوں کو لٹکا دوں۔ اور طلوع آفتاب کی روشنیوں کا اس نے کفر کیا ہے۔ اور جہاں تک تشریح کی بات ہے تو یہ باقی نہیں رہا اور نہ ہی چھوڑتا ہے، کیونکہ یہ سننے والے کے حالات اور اوقات کے مطابق اس کے طرز عمل اور اس کے مختلف درجات میں مختلف ہوتا ہے۔ وہ اپنے مقام سے اٹھتا ہے، اس کے لیے ایک نئی تفہیم کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ اور اس کے ذریعے اسے ایک اچھے معنی سے آگاہ کیا جاتا ہے جو آنے والا ہے۔ چنانچہ میں نے ان کاغذات کو کالا کرنا شروع کر دیا جس کی اجازت الخطر کو دی جائے گی۔ معاہدے کا ۔ تشریح کی تشریح میں فیصلہ کن نہیں ہے اور نہ ہی وہ بہت سارے جاننے والے لوگوں میں الجھا ہوا ہے کہ رپورٹ کیا نہیں ہوسکتی ہے کتاب کے تلفظ اور ترتیب کو مدنظر رکھتے ہوئے – جو کچھ اس سے دہرایا جاتا ہے اسے دہرانا یا اس کے طریقوں میں مماثلت نہیں ہے۔ . اور وہ سب جو میرے لیے ناقابل تصور ہے۔
یا اس کی ضرورت نہیں ہے جس کی میں نے اصل میں اطلاع دی تھی۔ میں یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ میں اس حد تک پہنچ گیا ہوں جس کا میں نے مکمل ذکر کیا۔ تفہیم کے پہلو اس تک محدود نہیں ہیں جو آپ سمجھتے ہیں ۔ اور خدا کا علم صرف اس تک محدود نہیں ہے جو آپ جانتے ہیں
اس کے باوجود، سمجھ نے مجھے اس بات سے نہیں روکا کہ اس میں کیا ذکر کیا گیا ہے • بلکہ، یہ مجھے ان پہلوؤں سے جو لکھا گیا تھا اس میں ظاہر ہوا ہو گا کہ میں اس کے مندرجات میں کھو گیا ہوں ۔ اور ظاہری احکام سے کیا تشریح کی جا سکتی ہے، بشمول بظاہر مرضی، تو میں نے اسے تھوڑا ہی دیا –
یہ جاننا کہ اسے سمجھنے کا ایک طریقہ ہے۔ اگر یہ اپنے ظاہری معنی سے زیادہ ہو تو اس کے تشبیہات سے اس کا اندازہ لگایا جاتا ہے، کیونکہ اس کی تشریح میں من مانی کی ضرورت نہیں ہے۔
ان سے بہتر چہرے قیادت کے تابع ہیں • بندوں میں سے جن کے لیے یہ سہولت فراہم کی گئی ہے اس کے لیے یہ آسان ہے، اور اللہ تعالیٰ ہر لفظ میں ایسے الفاظ ہیں کہ سمندر بپھرے بغیر ختم ہو جاتا ہے ۔ تو ان کو شمار کرنے کا طریقہ کیسا ہے؟ اور ان کی گنتی کریں… لیکن یہ اہل ذوق و ضمیر کے لیے ایک نمونہ ہے ۔ وہ قرآن کی تلاوت کرتے وقت اس کی مثال کی پیروی کرتے ہیں تو یہ ان پر نازل ہوتا ہے جو انہوں نے اس کے علم سے اس کے لیے تیار کیا تھا۔ اس کے غیب کے پوشیدہ راز خدا ان پر ظاہر کر دے گا کوشش کرنے والوں کے لیے رہنما ،انکشاف اور گواہی کے راستے کی طرف۔ اور جو لوگ ذائقہ کی راہوں کے لیے تڑپتے ہیں، وہ تحقیق کا نگہبان ہے اور اس کے ہاتھ میں کامیابی ہے۔
نماذج من التفسیر الاشاری:
- سورۃ البقرۃ کی اس آیتِ کریمہ ﵟوَإِذۡ قَالَ إِبۡرَٰهِـۧمُ رَبِّ ٱجۡعَلۡ هَٰذَا بَلَدًا ءَامِنٗا وَٱرۡزُقۡ أَهۡلَهُۥ مِنَ ٱلثَّمَرَٰتِ مَنۡ ءَامَنَ مِنۡهُم بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِۚ قَالَ وَمَن كَفَرَ فَأُمَتِّعُهُۥ قَلِيلٗا ثُمَّ أَضۡطَرُّهُۥٓ إِلَىٰ عَذَابِ ٱلنَّارِۖ وَبِئۡسَ ٱلۡمَصِيرُ ١٢٦ ﵞ[1] کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ “وإذ قال إبراهيم ربِّ اجعل هذا الصدر الذى هو حرم القلب، بلداً آمناً من استيلاء صفات النفس، واغتيال العدو اللَّعين، وتخطف جن القوى البدنية أهله، وارزق أهله من ثمرات معارف الروح أو حكمه أو أنواره، {مَنْ آمَنَ مِنْهُمْ بالله واليوم الآخر} مَن وَحَّدَ الله منهم وعلم المعاد، {قَالَ وَمَن كَفَرَ} أى: ومن احتجب أيضاً من الذين سكنوا الصدر، ولا يجاوزون حده بالترقى إلى مقام العين، لاحتجاجهم بالعلم الذى وعاؤه الصدر، فأُمتعه قليلاً من المعانى العقلية، والمعلومات الكلية، النازلة إليهم من عالَم الروح على قدر ما تعيَّشوا به، ثم أضطره إلى عذاب نار الحرمان والحجاب، وبئس المصير مصيرهم لتعذبهم بنقصانهم، وتألمهم بحرمانهم”
ترجمہ:” البقرہ جب وہ آیت [02] میں کہتا ہے: {اور جب ابراہیم نے کہا کہ اے میرے رب، اس کو محفوظ ملک بنا اور اس کے لوگوں کو پھلوں سے رزق دے، اے ابراہیم، رب اس سینہ کو بنا دے جو دل کی پناہ گاہ ہے۔ صفات کے قبضے سے محفوظ ملک اور ملعون دشمن کا قتل، اور جسمانی قوتوں کے جنوں نے اس کے خاندان کو اغوا کر لیا* اور اس کے گھر والوں کو روح کے علم، اس کی حکمت، یا اس کے نوروں کے پھلوں سے مہیا کیا {ان میں سے جو خدا اور آخرت پر ایمان رکھتے تھے دن، جسے خدا نے ان کے ساتھ ملایا اور قیامت کی تعلیم دی {اس نے کہا، اور جو کفر کرتا ہے} معنی: اور جو سینے میں رہنے والوں سے بھی چھپاتا ہے. اور سینے میں موجود علم کے خلاف اپنے احتجاج کے لیے آنکھ کے مقام پر چڑھ کر اس کی حد سے آگے نہیں بڑھتے* اس لیے میں اس کے چند ذہنی معانی اور کل معلومات سے مطمئن ہوں – نیچے آ رہا ہوں۔ ان کو روح کی دنیا سے اس حد کے مطابق جس کے ساتھ تم رہتے ہو پھر اسے محرومی اور پردے کی آگ کے عذاب پر مجبور کر دیا* اور ان کا انجام کیسا برا انجام ہے کہ ان کو اپنی کمی کا عذاب دے اور ان کو ان کی محرومیوں سے دوچار کرے۔”
- سورۃ الأنعام کی اس آیتِ کریمہ ﵟإِنَّ ٱللَّهَ فَالِقُ ٱلۡحَبِّ وَٱلنَّوَىٰۖ يُخۡرِجُ ٱلۡحَيَّ مِنَ ٱلۡمَيِّتِ وَمُخۡرِجُ ٱلۡمَيِّتِ مِنَ ٱلۡحَيِّۚ ذَٰلِكُمُ ٱللَّهُۖ فَأَنَّىٰ تُؤۡفَكُونَ ٩٥ﵞ[2]کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ:
“إن الله فالق حبة القلب بنور الروح عن العلوم والمعارف. ونور النفس بنور القلب عن الأخلاق والمكارم، ويخرج حى القلب عن ميت النفس تارة باستيلاء نور الروح عليها ومخرج ميت النفس عن حي القلب أخرى بإقباله عليها، واستيلاء الهوى وصفات النفس عليه، ذلكم الله القادر على تقليب أحوالكم، وتقليبكم فى أطواركم، فأنَّى تُصرفون عنه إلى غيره”
ترجمہ: بےشک اللہ تعالی قلب کو دانے کو روح کے نور کیساتھ علوم و معارف سے نکالنے والا ہے اور نورِ نفس کو نورِ قلب کیساتھ اخلاق و مکارم سے ۔ اور مردہ دل کو مردہ جان سے بعض اوقات یوں نکالتا ہے کہ اس پر روح کے نور کو ڈال دیتا ہے اور مردہ جان کو دوسرے زندہ دل سے نکالنے والا ہے اس پر اس کو متوجہ کرنے کے ذریعے ، اور خواہشات کو اس پر مسلط کرنے اور نفس کی صفات کو اس پر ڈالنے کے ذریعے ۔ یہ وہ اللہ تعالی ہے جو تمہارے احوال کو پلٹانے پراورتمہیں تمہارے اطوار میں پلٹانے پر قادر ہے پس تم اس سے علاوہ کہاں اور کس کی طرف پھرتے ہو؟
تاویلات نجمیہ متعلقہ تحریر
نماذج من التفسير المبنى على وحدة الوجود:
- سورۃ آلِ عمران کی اس آیتِ کریمہ ﵟرَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ هَٰذَا بَٰطِلٗا سُبۡحَٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ ٱلنَّارِ ١٩١ﵞ[3]کی تفسیر میں
فرماتے ہیں کہ :” ربنا ما خلقت هذا الخلق باطلاً، أي شيئاً غيرك، فإن غير الحق هو الباطل، بل جعلته أسماءك ومظاهر صفاتك. سبحانك: ننزهك أن يوجد غيرك، أى يقارن شىء فردانيتك أو يُثَنِّى وحدانيتك”
ترجمہ: اے ہمارےرب تو نے اس مخلوق کو باطل پیدا نہیں فرمایا یعنی اس کے علاوہ کسی اور چیز کو ۔ پس حق کے علاوہ باطل ہی ہے بلکہ تو نے اپنے اسماء اور اپنے صفات کے مظاہر کو بنایا ، پاک ہے تو ۔ ہم تیری پاکی بیان کرتے ہیں اس سے کہ تیرے علاوہ کوئی اور ذات پائی جائے یعنی ایسی چیز جو تیری فردانیت سے ملی ہوئی ہو یا تیری وحدانیت کا ثانی ہو ۔
- سورۃ الواقعہ کی اس آیتِ کریمہ ﵟنَحۡنُ خَلَقۡنَٰكُمۡ فَلَوۡلَا تُصَدِّقُونَ ٥٧ﵞ[4]کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ:
“نحن خلقناكم بإظهاركم بوجودنا وظهورنا فى صوركم” ترجمہ: ہم نےتمہیں ہمارے وجوددینے کے ذریعے اور تمہاری صورتوں میں اپنے ظاہر کرنے کے ذریعے پیدا فرمایا ۔
- سورۃ الحدید کی اس آیتِ کریمہ ﵟوَهُوَ مَعَكُمۡ أَيۡنَ مَا كُنتُمۡۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ بَصِيرٞ ٤ﵞ[5]کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
“وهو معكم أينما كنتم بوجودكم به، وظهوره فى مظاهركم”ترجمہ: وہ تمہارے ساتھ ہے تم جہاں بھی اسکے عطا کردہ وجود کیساتھ اور تمہارے مظاہر میں اسکے ظہور کیساتھ ہو۔
- سورۃالمجادلہ کی اس آیتِ کریمہ ﵟأَلَمۡ تَرَ أَنَّ ٱللَّهَ يَعۡلَمُ مَا فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِي ٱلۡأَرۡضِۖ مَا يَكُونُ مِن نَّجۡوَىٰ ثَلَٰثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمۡ وَلَا خَمۡسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمۡ وَلَآ أَدۡنَىٰ مِن ذَٰلِكَ وَلَآ أَكۡثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَهُمۡ أَيۡنَ مَا كَانُواْۖ ثُمَّ يُنَبِّئُهُم بِمَا عَمِلُواْ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِكُلِّ شَيۡءٍ عَلِيمٌ ٧ﵞ[6]کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ:
“لا بالعدد والمقارنة، بل بامتيازهم عنه بتعيناتهم. واحتجابهم عنه بماهياتهم ونياتهم، وافتراقهم منه بالإمكان اللازم لماهياتهم وهوياتهم، وتحققهم بوجوبه اللازم لذاته، واتصاله بهم بهويته المندرجة فى هوياتهم، وظهوره فى مظاهرهم، وتستره بماهياتهم ووجوداتهم المشخصة، وإقامتها بعين وجوده، وإيجابهم بوجوبه، فبهذه الاعتبارات هو رابع معهم، ولو اعتبرت الحقيقة لكان عينهم، ولهذا قيل: لولا الاعتبارات لارتفعت الحكمة”
ترجمہ: تعداد اور تقابل کے اعتبار سے نہیں بلکہ اپنی شناخت کے اعتبار سے ان کا اس سے برتر ہونا، اپنی شناخت اور ارادوں کے ساتھ اس سے ان کا چھپانا، ان کی شناخت اور شناخت کے لیے ضروری امکان سے اس سے علیحدگی، اس کی ضرورت کے اعتبار سے ان کا ادراک۔ اپنی ذات، ان سے اس کا تعلق اپنی شناخت سے جو ان کی شناخت میں شامل ہے، ان کے ظاہر میں اس کا ظاہر ہونا، اور ان کی شناختوں سے اس کا مخفی ہونا، اور اسے اپنے وجود کی روشنی میں قائم کرنا، اور ان کو واجب قرار دینا، ان امور میں وہ ہے۔ ان کے ساتھ
چوتھا، اور اگر حق پر غور کیا جائے تو وہی ان کا ہوگا، اور اس کے لیے کہا گیا: اگر غور و فکر نہ کیا جاتا تو حکمت کافی نہ ہوتی۔
- سورۃ المزمل کی ان دو آیاتِ کریمہ ﵟوَٱذۡكُرِ ٱسۡمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلۡ إِلَيۡهِ تَبۡتِيلٗا ٨ رَّبُّ ٱلۡمَشۡرِقِ وَٱلۡمَغۡرِبِ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ فَٱتَّخِذۡهُ وَكِيلٗا ٩ﵞ[7]کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
“واذكر اسم ربك الذى هو أنت – أى اعرف نفسك – واذكرها، ولا تنسها، فينسك الله، واجتهد لتحصيل كمالها بعد معرفة حقيقتها، {رَّبُّ المشرق والمغرب} أى الذى ظهر عليك نوره، فطلع من أفق وجودك بإيجادك، أو المغرب الذى اختفى بوجودك، وغرب نوره فيك واحتجب بك[8]“
ترجمہ: “اور اپنے اس رب کو یاد کرو جو تم ہو ، یعنی اپنے آپ کی معرفت رکھو اور اپنے آپ کو یاد کرو اور اسے بھلانا نہیں پس اللہ تعالی تمہیں (اپنی شان کے لائق) بھلا دے گا اور اس کی حقیقت کی معرفت کے بعد اس کےکمال کی تحصیل کرنے میں کوشش کرنا {مشرق و مغرب کا رب}یعنی وہ جس کا نور تیرے اوپر ظاہر ہوا پس تیرے ایجاد کرنے کے ذریعے تیرے وجود کے اُفق سے طلوع ہوا یا وہ مغرب جو تیرے وجود کی وجہ سے چھپ گیا اور اس کا نور تمہارے اندر غروب ہوگیا اور تیرے ساتھ چھپ گیا”
درج بالا بعض نماذج اس کتاب میں سے پیش کئے گئے ہیں جن سے اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ مصنف علیہ الرحمۃ اس کتاب میں مذہبِ وحدۃ الوجود کو اختیار کئے ہوئے ہیں ۔ شاید یہی وہ سرّ ہے جس کی وجہ سے اس کتاب کو “ابن العربی” کی طرف منسوب کیا جاتا ہے کیونکہ مذہبِ وحدۃ الوجود ابن العربی رحمہ اللہ تعالی ہی کا مذہب ہے۔

[1] القرآن الکریم، سورۃ البقرۃ،2/126
[2] القرآن الکریم، سورۃ الأنعام ، 6/95
[3] القرآن الکریم، سورۃ آل عمران، 3/191
[4] القرآن الکریم، سورۃالواقعۃ، 56/57
[5] القرآن الکریم، سورۃ الحدید، 57/4
[6] القرآن الکریم، سورۃالمجادلۃ، 58/7
[7] القرآن الکریم، سورۃ المزمل، 73/8
[8] ھذا کلُّہ مأخوذ من ((التفسیر والمفسرون)) ، ج 2 ، ص 298-300
