اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمن کا علمی مقام و مرتبہ
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا علمی مقام اس بات سے بھی واضح ہوتا ہے کہ ان کی خدمات کو نہ صرف برصغیر بلکہ عرب و عجم میں بھی سراہا گیا۔ ان کے فتاویٰ اور علمی کام آج بھی مدارس اور اسلامی اداروں میں بطور حوالہ استعمال کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے اسلام کی تعلیمات کو جدید چیلنجز کے مطابق پیش کرنے کی کوشش کی اور مسلمانوں کو دینِ اسلام پر مضبوطی سے قائم رہنے کی تلقین کی۔
اعلیٰ حضرت کی علمی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہیں “مجددِ ملت” اور “امام اہلِ سنت” کے القابات سے نوازا گیا۔ ان کا علمی، دینی اور روحانی ورثہ آج بھی دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ان کی تحریریں اور فتاویٰ مسلمانوں کو صحیح اسلامی راہ پر چلنے کی رہنمائی فراہم کرتے ہیں
آپ رحمۃ اللہ علیہ کو علمُ القرآن، علم الحدیث، علم العقائد، تجارت، جغرافیہ، ریاضی، علم طب، سیاسیات، صحافت، علم الفلکیات اور علم النجوم سمیت درجنوں علوم پر دسترس حاصل تھی جس پر آپ نے 1 ہزار سے زائد کتابیں و رسالے لکھے ہیں۔ جن علوم پر آپ کو مہارت حاصل تھی ان میں کئی ایسے ایسے علوم بھی ہیں جن کے ناموں سے دورجدید کے بڑے بڑے محققین اور ماہرین علوم و فنون بھی آگاہ نہیں ۔[1]
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کو جن علوم پر دسترس حاصل تھی ان میں سے چند کے بارے میں مختصراً بیان کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
علمِ تفسیر
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی علومِ قرآن پر گہری نظر تھی اورتفسیر قرآن میں امتیازی مقام حاصل تھا جس کا اندازہ ہم اس بات سے لگاسکتے ہیں کہ سید اظہر علی صاحب (ساکن محلہ ذخیرہ) بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ اعلیٰ حضرت ”حضرت محب الرسول مولانا شاہ عبد القادر رحمۃ اللہ علیہ “کے عرس میں تشریف لے گئے وہاں 9 بجے صبح سے 3 بجے دن تک چھ گھنٹے ”سورۂ و الضحیٰ“ پر بیان کرکے فرمایا کہ اسی سورۂ مبارکہ کی کچھ آیاتِ کریمہ کی تفسیر میں 80 جز (تقریباً چھ سو صفحات)رقم فرماکر چھوڑ دیا کہ اتنا وقت کہاں سے لاؤں کہ پورے کلام پاک کی تفسیر لکھ سکوں۔
اعلیٰ حضرت کی تفسیری مہارت کا اندازہ ہم اُس بیان سے بھی کرسکتے ہیں جو آپ نے ربیع الاول شریف کی ایک محفل میں فرمایا جس میں آپ نے ”بسم اللہ“ کی صرف ”ب“ پر کئی گھنٹے بیان فرمایا۔ یہ بیان تحریری طور پر ”حیاتِ اعلیٰ حضرت“ میں لکھا ہوا ہے۔ [2]
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی تفسیری مہارت کا ایک شاہکار آپ کا ترجمہ قرآن ”کنز الایمان“ بھی ہے جس کے بارے میں محدث اعظم ہند سید محمد محدث کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: علم قرآن کا اندازہ صرف اعلیٰ حضرت کے اس اردو ترجمہ سے کیجئے جو اکثر گھروں میں موجود ہے اور جس کی مثالِ سابق نہ عربی میں ہے، نہ فارسی میں اور نہ اردو زبان میں ہےاور جس کا ایک ایک لفظ اپنے مقام پر ایسا ہے کہ دوسرا لفظ اُس جگہ لایا نہیں جاسکتا جو بظاہر محض ترجمہ ہے مگر درحقیقت وہ قرآن کی تصحیح تفسیر اور اردو زبان میں قرآن (کی روح) ہے۔[3]
باقی علم تفسیر پر آپ کی علمیت کا اندازہ آپ کی تصنیفات سے بھی لگایا جاسکتا ہے جو آپ نے علم تفسیر پر تحریر فرمائی ہے۔ ان کتابوں میں سے چند کے نام درج ذیل ہیں: ٭حاشیہ تفسیر بیضاوی ٭حاشیہ تفسیر خازن ٭حاشیہ معالم التنزیل ٭نائل الراح فی فرق الربح و الرباح
امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بحیثیت سائنسدان
امام احمد رضا خان بریلو ی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جس طرح ایک بہترین عالم، مفتی، محدث اور فقیہ تھے اسی طرح آپ کا شمار دنیا کے بہترین مسلم سائنسدانوں میں بھی ہوتا ہے جس کی وجہ آپ کی وہ تحقیقات ہیں جنہوں نے وقت کے بڑے بڑے سائنسدانوں کو ورطَۂ حیرت میں مبتلا کردیا۔آج سو سال گزرنے کے بعد بھی مختلف علوم وفنون پر آپ کی تحقیقات متلاشیان علم کو سیراب کر رہی ہیں، آپ نے قرآن وحدیث اور دیگر علوم سمیت سائنس و فلسفہ کے ذریعے بھی اسلام پر ہونے والے حملوں کا بھرپور جواب دیا، یہی وجہ ہے کہ علما ہوں یا سائنسدان سب آپ کے گرویدہ نظر آتے ہیں اور آپ کی تعریف میں کلمات کہنے کو اپنے لئے اعزاز سمجھتے ہیں۔
سائنسی نظریہ و فکر:
امام احمد رضا خان بریلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے سائنسی و تحقیقی دنیا میں بڑا اہم کردار ادا کیا اور اپنی نظروفکر سے جدید علوم کے دامن کو مالامال کیااور اسلام مخالف نظریات کے قلعوں کو مضبوط عقلی ونقلی دلائل کی ضربوں سے زمین بوس کر دیا۔ انہیں باطل نظریات میں سے نظریَۂ حرکتِ زمین بھی ہے۔ یہ نظریہ فیثاغورث کا تھا،جس کی تائید ریاضیات کے ماہر پروفیسر کاپرنیکس نے کی اور یہ نظریہ پھر سے زندہ ہوا، سن 1880ء اعلیٰ حضرت کے زمانے میں پروفیسر البرٹ آئن اسٹائن نے ایک تجربہ کیا جس سے اس نظریہ کا رد ہوتا تھا۔ لیکن اس نے پھر اس کی ایسی توجیہ کی جس سے یہ نظریہ ثابت ہوگیا۔ مگر بقول سید محمد تقی یہ سائنس کی تاریخ کی سب سے زیادہ غیر عقلی توجیہ تھی۔ اعلیٰ حضرت بریلویرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ آئن اسٹائن کے ہم عصر ہیں، انہوں نے آئن اسٹائن و دیگر سائنس دانوں کے افکار و خیالات کی گرفت کی اور ایک سو پانچ دلائل سے نظریہ حرکتِ زمین کو باطل قرار دیا۔ چنانچہ فرماتے ہیں:
بعونہ تعالیٰ فقیر نے ردِ فلسفَۂ جدیدہ میں ایک مبسوط کتاب مسمیٰ بہ نام تاریخی ’’فوز مبین‘‘ (1338ھ 1919ء) لکھی جس میں ایک سو پانچ دلائل سے حرکتِ زمین باطل کی اور جاذبیت و نافریت وغیرھا مزعومات فلسفَۂ جدیدہ پر وہ روشن رد کئے جن کے مطالعے سے ہر ذی انصاف پر بحمدہ تعالیٰ آفتاب سے زیادہ روشن ہوجائے کہ فلسفَۂ جدیدہ کو اصلاً عقل سے مس نہیں۔ (الکلمۃ الملہمہ)
اعلٰی حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی علمی بصیرت:
امام احمد رضا خان بریلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے علوم دینیہ کے علاوہ صرف سائنسی علوم و فنون کے متعلق جو کتابیں تصنیف کیں ان کی تعداد 150 تک پہنچتی ہے۔ اعلیٰ حضرت نے علوم سائنس میں اپنی مشاقی کی بنیاد پر ان علوم کی قدآور شخصیات بابائے طبیعات ڈیموقریطس (۳۷۰ قبل مسیح)، بطلمیوس (قبل مسیح)، ابن سینا (۹۸۰ تا ۱۰۳۷ء)، نصیر الدین طوسی (متوفی ۶۷۲ء)، کوپرنیکس (۱۴۷۳ء تا ۱۵۴۲ء)، کپلر (۱۵۷۱ء تا ۱۶۳۰)، ولیم ہرشل (سترہویں صدی عیسوی)، نیوٹن (متوفی ۱۷۲۷ء)، ملاجونپوری (متوفی ۱۶۵۲ء)، گلیلیو (۱۶۴۲ء)، آئن اسٹائن (۱۸۷۹ء تا ۱۹۵۶ء) اور البرٹ ایف پورٹا (۱۹۱۹ء) کے نظریات کا ردْ اور ان کا تعاقب کیا ہے۔
جبکہ ارشمیدس (۲۱۲ ق۔م) کے نظریہ وزن، حجم و کمیت، محمد بن موسیٰ خوارزمی (۲۱۵ھ، ۸۳۱ء) کی مساوات الجبراء اور اشکال جیومیٹری، یعقوب الکندی (۲۳۵ھ،۸۵۰ ء)، امام غزالی (۱۰۵۹ء تا ۱۱۱۲ء)، امام رازی (۵۴۴ھ تا ۶۰۶ھ)، کے فلسفہ الہٰیات، ابو ریحان البیرونی (۳۵۱ھ تا ۴۴۰ھ)، ابنِ ہیثم (۴۳۰ھ)، عمر الخیام (۵۱۷ھ)، کے نظریات ہیت و جغرافیہ، ڈیموقریطس کے نظریہ ایٹم اور جےجے ٹامس کے نظریات کی تائید کی اور دلائل عقلیہ سے پہلے آیات قرآنیہ پیش کیں۔ جس کا مشاہدہ امام احمد رضا کی ان علوم پر لکھی گئی کتابوں سے کیا جاسکتا ہے۔ [4]
اعلٰی حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی مہارت:
باطل نے جس محاذ پر دین اسلام پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی چاہے تھیوریز(theories)اور نظریات کا لبادہ اوڑھ کر، چاہے فیشن و تہذیب کا بھیس بدل کر، چاہے فلسفہ اور سائنس کا روپ دھار کر اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اسے ہر موڑ پر پسپا کیا اور باطل کے دام ِفریب کو تارتار کیا۔ اعلیٰ حضرت نے اپنے رسالے (فوز مبین) میں عقلی ونقلی دلائل سے زمین کی گردش کی نفی کی ہے اور تمام قدیم و جدید فلاسفہ خصوصاً کاپرنیکس، کبلی لونیٹن، البرٹ، ایف پورٹا اور آئن اسٹائن وغیرہ کا رد کیا۔ یقیناً اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کو کیمسٹری، فزکس، جغرافیہ، اسٹرونوی اور ریاضی کے مختلف شعبوں، ڈائنامکس، اسپنٹکس، بائر الجبرا اور سعولڈ جیومیٹری میں بے پناہ مہارت تھی اور انہوں نے مختلف تھیوریوں مثلاً ماش اینڈ ویٹ، حجم، اسپپفک گریویٹی، اٹریکشن زبلیشن گریوشینل فورس، سینٹرل، ٹیبل، سینٹری، فیوگل فورس اور میتھ میٹکس کی مختلف تھیوریوں اور نکات کو آپ نےاس طرح پیش کیا کہ علوم عقلیہ میں جتنے مضامین (subjects) آج کی یونیورسٹیوں میں رائج ہیں ان سب کا محقق دنگ رہ جائے گا۔
امام شیخ یوسف النبہانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ:
’’لبنان‘‘ کے مفتئ اعظم حضرت علامہ یوسف النبہانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اعلیٰ حضرت کے فتاویٰ جات کو پڑھ کر فرمایا کہ وہ ایک عظیم انسان تھے اور سائنسی علوم کے بھی ماہر تھے۔
مفتی علی بن حسن مکی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ:
’’مکہ شریف‘‘ کے مفتی علی بن حسن مکیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا کہ احمد رضا خان کو تمام مذہبوں کی سائنس پر عبور ہے۔
پروفیسر عبدالشکور شاد:
’’افغانستان‘‘ کی مشہور ’’کابل یونیورسٹی‘‘ کے پروفیسر عبد الشکور شاد نے اپنے تاثرات میں کہا کہ مولانا احمد رضا خان کی تمام تحریروں اور تصانیف کو جمع کرنے اور کیٹیلاگ کی شکل میں جمع کرنے اور ہندوستان، پاکستان اور افغانستان کی لائبریریوں میں رکھنے کی سخت ضرورت ہے۔ [5]
ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیر خان:
ملکِ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے والے دور حاضر کے عظیم سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیر خان بھی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی علمی بالخصوص سائنسی تحقیقات کے معترف ہیں اور وقتاً فوقتاً اپنے تاثرات کا اظہار بھی فرماتے رہتے ہیں، آپ نے ’’روزنامہ جنگ‘‘ میں باقاعدہ ایک پورا کالم ’’فقید المثال مولانا احمد رضا خان بریلوی‘‘ کے عنوان سے تحریر کیا جس میں آپ اعلیٰ حضرت کی علمی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں: اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان بریلوی نے لاتعداد سائنسی موضوعات پر مضامین و مقالے لکھے ہیں۔ آپ نے تخلیقِ انسانی، بائیوٹیکنالوجی و جنیٹکس، الٹراساؤنڈ مشین کے اصول کی تشریح، پی زوالیکٹرک کی وضاحت، ٹیلی کمیونیکشن کی وضاحت، فلوڈ ڈائنامکس کی تشریح، ٹوپولوجی (ریاضی کا مضمون)، چاند و سورج کی گردش، میٹرالوجی (چٹانوں کی ابتدائی ساخت)، دھاتوں کی تعریف، کورال (مرجان کی ساخت کی تفصیل)، زلزلوں کی وجوہات، مد و جزر کی وجوہات، وغیرہ تفصیل سے بیان کی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مولانا احمد رضا خان بریلوی اپنے دور کے فقیہ، مفتی، محدّث، معلم، اعلیٰ مصنف تھے۔ [6]
تصنیفاتِ اعلٰی حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ:
امام احمد رضا خان بریلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو اللہ پاک نے علم و فضل کا وہ خزانہ عطا فرمایا تھا آپ نے جس بھی علم یا فن پر قلم اٹھایا، تحقیق کے وہ دریا بہا دیئےکہ اس علم و فن کے ماہرین بھی حیران و پریشان ہوگئے اور اعلیٰ حضرت کے علم و فضل کا اعتراف کرتے چلے گئے اور کیوں نہ کرتے کہ جہاں یہ ماہرین اپنی عقل و خرد سے ایسے مسائلِ جدیدہ کا استخراج کرتے جو بعض اوقات قرآن وسنت کے ہی خلاف ہوتے، وہیں امام اہلسنت فاضل بریلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ قرآن و سنت کے ذریعے ان مسائلِ باطلہ کا رد فرماتے اور مزید قرآن و سنت کی روشنی میں مسائلِ قدیمہ و جدیدہ پر ایسا کلام فرماتے کہ اپنے وقت کے سائنسدان بھی آپ کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکے۔ جیسا کہ اوپر مذکور ہوا۔ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو کم و بیش100 سے زیادہ علوم پر دسترس حاصل تھی اور آپ کی تصانیف کی تعداد1000سے زائد ہے جو کہ مختلف علوم و فنون پر مشتمل ہے۔ جہاں آپ نے دینی علوم پر تصانیف لکھ کر امت مسلمہ کو فائدہ پہنچایا وہیں دنیوی علوم پر آپ کی تصانیف آپ کی مہارت تامہ کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ چند تصانیف کے نام درج ذیل ہیں۔
· علم سائنس:
’’الکلمۃ الملہمۃ فی الحکمۃ لوہاء فلسفۃ المشئمۃ‘‘، ’’فوز مبین در حرکت زمین‘‘،’’معین مبین بہر دور شمس و سکون زمین‘‘۔
· علم توقیت:
البرہان القویم علی العرض و التقویم، الجمل الدائرہ فی خطوط الدائرہ، تسہیل تعدیل، اوقات صلوٰۃ مکہ معظمہ، استخراج تقویمات کواکب، طلوع و غروب نیّرین، سیول کواکب و تعدیل الایام، حاشیہ زبدۃ المنتخب فی العمل بالربع، وغیرہ
· علم ہیئت:
استخراج اصول قمر، الکسریٰ العشری، معدن علومی درسنین ہجری و عیسوی دروحی، طلوع و غروب کواکب و قمر، قانونِ رؤیت اہلّہ، رؤیۃ الہلال، مقالہ مفردہ در نسبت نعفین و جزر
· علم حساب:
کلام الفہیم فی سلاسل الجمع و التقسیم۔ وغیرہ
· علم ھندسہ:
الاشکال الاقیدس لنکس اشکال اقلیدس، اعالی العطایا فی الاضلاع والزوایا، الحمل الدائرہ فی خطوط الدائرہ
· علم ریاضی:
عزم الیازی فی جواہر الریاضی، ستین و لورگارم، جداول الریاضی، مبحث المعادلہ ذات الدرجۃ الثانیہ، زاویۃ الاختلاف المنظر، وجوہ زوایا مثلث کردی۔ وغیرہ
· علم جفر:
الجداول الرضویۃ لاعمال الجفریۃ، الرسائل الرضویۃ للمسائل الجفریۃ، اسہل الکتب فی جمیع المنازل۔ وغیرہ[7]
امام احمد رضا خان بریلو ی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی تحریرات و تحقیقات کو پڑھ کر یہ بات واضح ہے کہ اللہ پاک نے آپ کو علم وحکمت کی دولت سے مالامال کیا تھا اور آپ نے اپنی ساری زندگی علم کی خدمت میں صَرف کردی۔ یہی وجہ ہے کہاللہ پاک نے آپ کو نہ صرف دینی بلکہ دنیاوی علوم میں بھی مہارت عطا فرمائی، جہاں دنیا آپ کو ایک عالم، مفتی، محدّث کے طور پر جانتی ہے، وہیں آپ کی سائنسی، جغرافیائی اور دیگر تحقیقات کی بھی معترف ہے۔ اگر ہم فاضل بریلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی زندگی پر نظر دوڑائیں تو آپ کی ذات میں اللہ ورسول کی محبت سب سے نمایاں نظر آتی اور یہی اس فضل وکمال کا سبب بھی ہے۔
اللہ تعالیٰ کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہمارے بےحساب مغفرت ہو۔ آمین
حوالہ جات
[1] ماہنامہ فیضانِ مدینہ، کراچی، مکتبۃ المدینہ، ستمبر 2022ء،
[2] (قادری، ریحان احمد، فیضانِ اعلیٰ حضرت، لاہور، مکتبہ قادریہ، 2015ء، ص 456۔
[3] (فیضان اعلیٰ حضرت، ص474)
[4] (روزنامہ نوائے وقت، 27دسمبر 2013)
[5] (روزنامہ جنگ، 5دسمبر 2016)
[6] (روزنامہ جنگ، 5دسمبر 2016)
[7] (مسعود، پروفیسر ڈاکٹر محمد، حیات مولانا احمد رضا خان بریلوی، کراچی، ادارہ تحقیقاتِ امام احمد رضا، 2005ء، ص25
جاری ہے۔۔۔۔۔۔

