اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمن کا تعارف ،
تعارف : سیدی اعلیٰ حضرت
اعلی حضرت کی حیات و خدمات عشق رسول کے سانچے میں
اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں شریعت کی تحفظ اور دین کی بقا کے لئے اپنے نیک بندوں کو اس دنیا میں بھیجا اس دار فانی میں جن بزرگانِ دین نے اپنی بزرگیت و کرامت سے ہدایت کے چراغ کو پوری دنیا میں روشن کیا، ان میں سے کچھ ایسی انمول ہستیاں ہیں جنہیں دنیا کبھی ان کی علمی کارناموں سے یاد کرتی ہے تو کبھی تبلیغی خدمات کی حیثیت سے ۔ان بزرگان کو ان کے اخلاق و کردار اور روحانی مقام و مرتبے کے لحاظ سے بھی یاد کیا جاتا ہے ان بزرگوں نے اپنے علم و عمل و تقوی اور پرہیزگاری سے اسلام کی تعلیمات کو عام کیا اور کفر و شرک اور بدعت جیسے خرافات کا قلع قمع کیا۔اس حیثیت سے اعلی حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ و الرضوان ایک ممتاز شناخت کے حامل ہیں اور یہی وجہ ہے کہ علماء کرام نے ان کو مجدد دین و ملت مانا ہے۔
شیخ الاسلام والمسلمین مجدد دین و ملت عظیم البرکت اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خاں فاضلِ بریلوی قدس سرہٗ جہاں بہت ساری خوبیوں اور ایک عظیم محقق مجدد کی حیثیت سے مشہور ممتاز ہیں وہیں پر ایک عاشق رسول ہونے کے اعتبار سے بھی عوام و خاص میں جانے پہچانے جاتے ہیں.
ان کی یہ خوبی تمام خوبیوں پر بھاری اور سب سے نمایاں ہے اسی وصف کی بدولت انہیں شہرت و بلندی اور آفاقی مقبولیت ملی ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ انہوں نے جو بھی لکھا وہ عشق رسالت ﷺ کے سانچے میں ڈھل کر لکھا ، اس میں عشق رسول ﷺ کی رنگ جمال نظر آتا ہے۔
تفسیر و حدیث لکھیں یا فقہ و فتویٰ لکھے منطق و فلسفہ پر کچھ لکھا یاریاضی لکھی ہر ایک میں انہوں نے عشق نبیﷺ کا رنگ جمال اور حسن محبوب کا جلوہ بھر دیا۔ یہی سبب تھا کہ انہوں نے ہر اس چیز کا احترام و اکرام کیا اور دوسروں کو بھی اس کی تاکید و تعظیم فرمائی۔
ان کے احترام رسالت اور تکریم نبوت کا یہ عالم تھا کہ حضور اقدس ﷺ کی شان اقدس میں کسی ایسے لفظ کے استعمال سے بھی احتراز فرماتے جن میں ذرا برابر بھی بے ادبی و بے تکریمی کا احتمال و شبہ بھی ہوتا اعلی حضرت کے مقام کو سمجھنے کے لئے انکی حیات طیبہ کا مطالعہ کرنا ہوگا
مختصر تعارف اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں فاضلِ بریلوی
آپ کا نام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی ہے آپ کا پیدائشی نام محمد رکھا گیا اور تاریخی نام المختار ہے لیکن آپ کے دادا حضرت مولانا رضا علی خان رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو احمد رضا کہہ کر پکارا آپ اسی نام سے مشہور زمانہ ہوئے بعد میں آپ نے پھر عبد مصطفٰے کا اضافہ فرمایا آ مجدد اعظم، امام اہلسنت حسان الهند اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ 10سوال المکرم 1272ھ بروز شنبہ وقت ظہر مطابق 14 جون 1856ء کو بر یلی شریف محلہ جسولی انڈیا میں پیدا ہوئے اور چھ سال کی عمر میں منبر رسول پر رونق افروز ہو کر مجمع عام سے خطاب فرمایا اردو فارسی پڑھنے کے بعد آپ نے اپنے والد ماجد حضرت مولانا نقی علی خان رحمۃ اللہ علیہ سے عربی زبان میں دین کی علی تعلیم حاصل کی اور تیرا برس دس مہینے کی عمر میں ایک دقاق عالم دین ہو گئے 14شعبان المعظم 1286ھ مطابق 19نومبر 1869ء کو آپ کو عالم دین ہونے کی سند دی گئی اور اسی دن والد ماجد نے آپکے علمی کمال اور پختگی کو دیکھ کر فتویٰ نویسی کی خدمت آپ کو سپرد کر دی جسے آپ نے 1340ھ مطابق 1921ء سے اپنے وصال کے وقت تک جاری رکھا ۔
5جمادی الآخرۃ 1294ھ مطابق 17جون 1877ء کو آپ سیدی مرشدی حضور مولانا سید آل رسول مارہروی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرید ہوئے اور حضرت مرشد سے باطنی تعلیم حاصل فرمائی-
ولادت باسعادت
۔ آپ کا نام محمد ، آپ کے دادا نے احمدرضا کہہ کر پکارا اور اسی سے مشہور ہوئے آپ کے جد امجد مولا نا محمد رضا علی خان رحمۃ اللہ علیہ اور آپ کے والد مولانا نقی علی خان رحمۃ اللہ علیہ اپنے زمانہ کے پایہ کے بزرگ تھے۔[1]
تعلیم اور قوت حافظہ
رسم بسم اللہ خوانی کے بعد اعلی حضرت کی تعلیم کا سلسلہ جاری ہو گیا ، آپ کی عمر چار برس کی تھی جب کہ عموماً دوسرے بچے اس عمر میں اپنے وجود سے بھی بے خبر رہتے ہیں؛ قرآن مجید ناظرہ ختم کر دیا، چھ سال کی عمر مبارک میں ربیع الاول شریف کے مہینے میں منبر پر جلوہ افروز ہو کر میلاد النبی صلى الله علیہ وسلم کے موضوع پر ایک جلسے میں تقریر فرما کر علمائے کرام اور مشائخ عظام سے تحسین و آفرین کی داد وصول کی۔ اسی عمر میں آپ نے بغداد شریف کے بارے میں سمت معلوم کر لی پھر تادم حیات بلده مبارکہ غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی طرف پاوں نہ پھیلائے۔ اردو فارسی کی کتابیں پڑھنے کے بعد حضرت مرزا غلام قادر بیگ علیہ الرحمہ سے میزان و منشعب وغیرہ کی تعلیم حاصل کی پھر آپ نے اپنے والد ماجد تاج العلما سند المحققین حضرت مولانا الشاہ نقی علی خاں رحمۃ اللہ علیہ سے مندرجہ ذیل اکیس علوم پڑھے۔
- علم قرآن
- علم تفسیر
- علم حدیث
- اصول حدیث
- کتب فقہ حنفی
- کتب فقہ شافعی و مالکی و حنبلی
- اصول فقہ
- جدال مہذب
- علم العقائد و الکلام (جو مذاہب باطلہ کی تردید کے لیے ایجاد ہوا)
- علم نحو
- علم صرف
- علم معانی
- علم بیان
- علم بدیع
- علم منطق
- علم مناظرہ
- علم فلسفہ مدلسہ
- ابتدائی علم تکسیر
- ابتدائی علم ہیئت
- علم حساب (جمع، تفریق، ضرب، تقسیم تک)
- ابتدائی علم ہندسہ
تیرہ برس دس مہینے پانچ دن کی عمر شریف میں ۱۴ شعبان ۱۲۸۶ ہجری مطابق ۱۹ نومبر ۱۸۶۹ عیسوی کو آپ فارغ التحصیل ہوئے اور دستار فضیلت سے نوازے گئے۔ اسی دن مسئلہ رضاعت سے متعلق ایک فتوی لکھ کر اپنے والد ماجد کی خدمت میں پیش کیا۔ جواب بالکل صحیح تھا۔ والد ماجد نے ذہانت و فطانت کو دیکھ کر اسی وقت سے فتویٰ نویسی کی جلیل الشان خدمت آپ کےسپرد کر دی۔
امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ نے مرشد بر حق کے وصال کے بعد بعض تعلیم طریقت نیز ابتدائی علم تکسیر و ابتدائی علم جفر وغيره عمدة السالكين حضرت مولانا سید ابوالحسین احمد نوری مارہروی قدس اللہ تعالی سرہ سے حاصل فرمایا۔ شرح چغمینی کا بعض حصہ حضرت مولانا عبد العلی رام پوری رحمۃ اللہ علیہ سے پڑھا ، پھر فضل ربانی و فیض نبوی نے آپ پر عنایت کی خصوصی نگاہ ڈالی جس کے نتیجے میں آپ نے کسی استاذ سے پڑھے بغیر محض خدا داد بصیرت نورانی سے حسب ذیل علوم و فنون میں دسترس حاصل کی اور ان کے شیخ و امام ہوئے
22) قراءت
۲۳) تجوید
۲۴) تصوف
۲۵) سلوک
۲۶) علم اخلاق
۲۷) اسماء الرجال
۲۸) سیر
۲۹) تواریخ
۳۰) لغت
۳۱) ادب مع جمله فنون
۳۲) ارشماطیقی
۳۳) جبر و مقابلہ
۳۴) حسابِ ستینی
۳۵) لوگارثمات (لوگارثم)
۳۶) علم التوقیت
۳۷) مناظر
۳۸) علم الاکر
۳۹) زیجات
۴۰) مثلث کروی
۴۱) مثلث مسطح
۴۲) ہیئت جدیدہ (انگریزی فلسفہ)
۴۳) مربعات
۴۴) منتہی علمِ جفر
۴۵) علمِ زائرچہ
۴۶) علم فرائض
۴۷) نظم عربی
۴۸) نظم فارسی
۴۹) نظم ہندی
۵۰) انشاء نثر عربی
۵۱) انشاء نثر فارسی
۵۲) انشاء نثر ہندی
۵۳) خطِ نسخ
۵۴) خطِ نستعلیق
۵۵) منتہی علمِ حساب
۵۶) منتہی علمِ ہیئت
۵۷) منتہی علمِ ہندسہ
۵۸) منتہی علمِ تکسیر
۵۹) علم رسمِ خط قرآن مجید[2]
امام احمد رضا کی خداداد صلاحیت کا ذکر کرتے ہوئے ان کے خلیفہ علامہ ظفر الدین بہاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب آپ قرآن شریف حفظ کرنے پر آئے تو روزانہ ایک پارہ حفظ کر کے تیس دن میں تیس پارے حفظ کر کے تراویح میں سنا دیا۔[3]
ذی الحجہ 1295ھ مطابق دسمبر 1877ء میں پہلی بار آپ نے حج ادا فرمایا اور مدینہ طیبہ پہنچ کر سرکار مصطفیٰ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر دی پھر دوسرا حج ذی الحجہ 1324ھ مطابق فروری 1906ء میں ادا کیا آپ نے ڈھائی ماہ مکہ شریف میں قیام فرمایا پھر ربیع الاول 1324ھ مطابق اپریل1906ء میں سرکار اعظم پیارے مصطفیٰ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے ایک ماہ تک مدینہ طیبہ میں رہ کر بارگاہ رسالت کی زیارت کرتے رہے مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے بڑے بڑے علماء آپ کے علمی کمالات اور دینی خدمات کو دیکھ کر آپ کے نورانی ہاتھوں پر مرید ہوئے اور آپ کو استاذ و پیشوا مانا-
آپ نے ہوش سنبھالنے کے بعد اپنی ساری زندگی اسلام کی خدمت اور سنیت اشاعت میں صرف فرمائی تقریباً ایک ہزار سے زائد کتابیں لکھیں جن میں فتاویٰ رضویہ بہت ہی ضخیم کتاب مانی جاتی ہے آپ نے قرآن مجید کا صحیح ترجمہ کنزالایمان اردو میں تحریر فرمایا آپ کے زمانے میں نیچریوں مکار صوفیوں غیر مقلد وہابیوں دیوبندیوں اور قادیانیوں نے اسلام و سنیت کے خلاف دھوکے کا جال بچھا کر بھولے بھالے مسلمانوں میں خوب گمراہی پھیلا رکھی تھی آپ نے دین و شریعت کی حمایت میں ان سب گمراہ گروں سے علمی لڑائی لڑ کر سب کے دانت کھٹے کر دیئے اور حق و باطل کو خوب واضح کر کے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیئے آپ کے فتاویٰ کتابوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ہزاروں بہکے مسلمانوں کو ہدایت عطا فرمائی بہت سے وہ علماء جو گمراہی کے سیلاب میں بہتے جا رہے تھے آپ کی رہنمائی سے انھوں نے حق قبول کیا اور سیدھے راہ پر گامزن ہو گئے
جب وہابیوں دیوبندیوں نے سرکار مصطفے ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی اور توہیں کتابوں میں لکھ کر شائع کی اور مسلمانوں کا ایمان بگاڈنا شروع کیا تو آپ نے اٹل پہاڑ کی طرح جم کر سرکار مصطفیٰ ﷺ کی عظمت کا پرچم لہرایا اور مسلمانوں کو سرکار کی محبت و تعظیم کا سبق دیا اور گستاخ ملاؤں کو لوہے کے چنے چبوا دیئے آپ کی مسلسل دینی خدمات اور علمی کارناموں کو دیکھ کر سنی علما و مشائخ اور عام مسلمان آپ کو اپنا ایک اعظیم مذہبی پیشوا مانتے ہیں اور آج بھی آپ کے فتووں پر عمل کرتے ہیں دین کی روشنی رکھنے والے علماء اور پیروں کا یہ فیصلہ ہے کے سرکار اعلیٰ حضرت مجدد دین ملت الشاہ امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ نے اپنی کتابوں میں قرآن و حدیث کی جو تعلیمات لکھی ہیں ان کو جو مانے وہ سنی مسلمان ہے اور جو اپ کی تعلیمات کی مخالفت کرے وہ بد دین اور گمراہ ہے ۔
اعلی حضرت کے دل میں عشق مصطفیٰ ﷺ
اعلی حضرت عظیم البرکت الشاہ امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ پیارے آقا محمد مصطفیٰ ﷺ سے کتنی محبت کرتے تھے آپ اس واقعہ سے اندازہ لگا سکتے ہیں۔
جب کوئی صاحب بیت اللہ شریف کا طواف کر کے اعلٰی حضرت کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے تو آپ کا پہلا سوال یہی ہوتا تھا کہ سرکار صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضری دی اگر جواب اثبات میں ملتا فوراً ان کے قدم چوم لیتے اور اگر جواب نفی میں ملتا پھر مطلق مخاطب نہ فرماتے ایک بار ایک حاجی صاحب خدمت میں حاضر ہوئے حسب عادت کریمہ اعلٰی حضرت نے پوچھا کیا بارگاہ سرکار کائنات صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں حاضری ہوئی وہ آبدیدہ ہو کر عرض کرنے لگے ہاں حضرت (امام احمد رضا) مگر صرف دو روز قیام رہا اعلٰی حضرت نے ان صاحب کی قدم بوسی کی اور ارشاد فرمایا وہاں کی تو سانسیں بہت ہیں آپ نے تو دو دن قیام فرمایا ہے۔ یہ ہے اعلی حضرت کا عشق رسول ﷺ کے مدینہ منورہ سے کوئی آئے تو انکے قدم چوم لیتے نبی سے روضہ مبارک میں حاضری دینے کی نسبت سے۔
عشق کی معراج اور امتحان میں کامیابی
اعلٰی حضرت امام احمد رضا رضی اللہ تعالٰی عنہ نے دو مرتبہ حرمین طیبین کی زیارت فرمائی۔ پہلی مرتبہ ہمراہ والد ماجد مولانا نقی علی خاں رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے 1295ھ / 1877ء کو اور دوسری مرتبہ 1324ھ / 1905ء کو دوسری مرتبہ جب بارگاہ نبوی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہوئے تو شوق دیدار کے ساتھ مواجہہ عالیہ میں درود شریف پڑھتے رہے۔ امام احمد رضا رضی اللہ تعالٰی عنہ کو امید تھی کہ ضرور سرکار دو عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم عزت افزائی فرمائیں گے اور زیارت جمال سے سرفراز فرمائیں گے لیکن پہلی شب تکمیل آرزو نہ ہو سکی اسی یاس و حسرت کے عالم میں ایک نعت کہی جس کا مطلع ہے۔
وہ سوئے لالہ زار پھرتے ہیں
تیرے دن اے بہار پھرتے ہیں
اور پھر مقطع میں اپنے متعلق بارگاہ رسالت صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم میں عرض گزار ہوتے ہیں،
کوئی کیوں پوچھے تیری بات رضا
تجھ سے کتے ہزار پھرتے ہیں
مقطع عرض کرنا تھا قسمت جاگ اٹھی، ارمانوں کی بہار آ گئی خوشیوں کے کھیت لہلہانے لگے، ہوائیں معچر ہو گئیں ایک مومن مسلمان کی مراد یوں پوری ہو گئی اور امام احمد رضا کے عشق کی معراج ہو گئی تمام رسولوں کے سردار حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے عالم بیداری میں اعلٰی حضرت کو اپنا دیدار نصیب فرمایا۔ امام احمد رضا رضی اللہ تعالٰی عنہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے رخ انور کو دیکھتے ہی پکار اٹھتے ہیں۔
پیش نظر وہ نو بہار سجدے کو دل ہے بیقرار
روکئے سر کو روکئے ہاں یہی امتحان ہے
دیدار مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی آرزو ہر مسلمان کو ہوتی ہے مگر جس کو اس ذات مبارکہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی زیارت ہو جاتی ہے تو کوئی اویس قرنی بن کر چمکتا ہے تو کوئی امام اعظم ابو حنیفہ بن کر چمکتا ہے، تو کوئی شیخ کبیر احمد رفاعی، تو کوئی غوث اعظم محی الدین جیلانی بن کر چمکتا ہے، تو کوئی عطائے رسول خواجہ غریب نواز بن کر چمکتا ہے، تو کوئی خواجہ بندہ نواز بن کر دنیا میں چمکتے ہوئے نظر آتے ہیں انہی میں سے ایک عاشق رسول امام احمد رضا خان اعلی حضرت بن کے چمکے۔
اعلٰی حضرت امام احمد رضا رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی شاعری آپ کے عشق رسول کے اظہار کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ خود ہی ارشاد فرماتے ہیں۔ “جب سرکار اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی یاد تڑپاتی ہے تو میں نعتیہ اشعار سے بےقرار دل کو تسکین دیتا ہوں ورنہ شعر و سخن میرا مذاق طبع نہیں۔ (سوانح اعلٰی حضرت)
حدیث مبارکہ اللہ کے رسول نبی آخر الزماں ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“لَا يُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتَّی أَکُونَ أَحَبَّ إِلَيہِ مِنْ وَالِدہِ وَوَلَدِہِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ”[4]
ترجمہ:تم میں سے کوئی بھی شخص اس وقت تک مومن کامل نہیں بن سکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے بیٹے، باپ اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں-
اعلی حضرت نے پوری زندگی اس حدیث پاک پر عمل کرتے رہے انکا ہر ایک فعل عشق مصطفیٰ ﷺ اور سنت مصطفیٰ ﷺ میں گزری ہے
العالم جسد وروحہ النبوۃ ولا قیام للجسد بدون روحہ ۔[5]
ترجمہ: تمام جہان ایک جسم ہے اور نبی کریم اس کی روح ہیں۔ جسم کا قیام بغیر روح کے ممکن نہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم ساری کائنات کی جان ہیں اعلٰی حضرت اس پوری تفسیر کو ایک شعر میں تحریر فرماتے ہیں،
وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو
جان ہیں وہ جہان کی جان ہے تو جہان ہے
امام اہلسنت نے صرف سرور کائنات صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو دنیا کی جان ہی نہیں فرمایا بلکہ ایک جگہ یوں ارشاد فرمایا۔ گویا پوری سیرت پاک بیان کر رہا ہوں، ملاحظہ فرمائیں۔
اللہ کی سر تابقدم شان ہیں یہ ان سا نہیں انسان وہ انسان ہیں یہ
قرآن تو ایمان بتاتا ہے انھیں ایمان یہ کہتا ہے مری جان ہیں یہ
فنافی الرسول کا عالم ملاحظہ فرمائیں ایک جگہ تو تحریر فرمایا کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم دنیا کی جان ہیں مگر تبھی امام احمد رضا کے عشق رسول نے کہا نہیں نہیں صرف دنیا کی جان نہیں بلکہ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی ذات مبارکہ تو ایمان کی بھی جان ہے آپ نے 56 سالہ زندگی میں دنیائے انسانیت کو عشق رسول کا پیغام دے گئے ۔
بروز جمعہ 25 صفرالمظفر 1340ھ مطابق 1921ء کو دو بج کر اڑتیس منٹ 02:38 پر عین اذان جمعہ کے وقت حی علی الفلاح کا نغمہ جانفزا سن کر داعی اجل کو گویا یہ کہتے ہوئے رخصت ہوئے۔
جان و دل ہوش و خرد سب تو مدینہ پہنچے
تم نہیں چلتے رضا سارا تو سامان گیا۔
حوالہ جات
[1] (حیات اعلی حضرت، ج1، ص44۔ ملک العلماء علامہ ظفر الدین بہاری رحمۃ اللہ علیہ)
[2] (قادری، بدر الدین احمد، سوانح اعلیٰ حضرت، لاہور، مکتبہ قادریہ، [سنِ اشاعت]، ص 88 تا 91
[3] بہاری، ظفر الدین، حیات اعلیٰ حضرت، لاہور، مرکزی مجلسِ رضا، 2003ء، ج 1، ص 96
[4] بخاری، محمد بن اسماعیل، صحیح بخاری، کتاب الایمان، باب حب الرسول صلی اللہ علیہ وسلم من الایمان، رقم الحدیث: 15
[5] ( آلوسی، محمود بن عبد اللہ، روح المعانی، بیروت، دار الکتب العلمیہ، 1994ء، ج1، ص 26
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

