((التأويلات النجمية))
یہ تفسیر پانچ مجلداتِ کبیر میں مطبوع ہے۔ جسکا ایک نسخۂ مخطوطہ دارالکتب میں موجود ہے ۔ اسکی چوتھی جلد سورۃ الذاریات کی ان دوآیات کریمہ پر آکر ختم ہو جاتی ہے ﵟكَانُواْ قَلِيلٗا مِّنَ ٱلَّيۡلِ مَا يَهۡجَعُونَ ١٧ وَبِٱلۡأَسۡحَارِ هُمۡ يَسۡتَغۡفِرُونَ ١٨ﵞ[1]۔ نجم الدین دایۃ نے جو تفسیر لکھی وہ یہیں پر آکر ختم ہو جاتی ہے جبکہ پانچویں جلد اس تفسیر کی تکملہ کے طور پر لکھی گئی ہے جو کہ علاؤالدولۃ نے لکھی اور نجم الدین دایۃ کی کتاب کا تتمہ بنایا ۔ اس تکملہ کی ابتداء میں ایک مقدمۂ طویلہ ذکر فرمایا ہے جسکو لغت و اصطلاحاتِ قوم کا عارف بھی سمجھ سکتا ہے اسی وجہ سے وہ فرماتے ہیں کہ ” ولا يؤمن أحد بالذى قلته إلا بعد السلوك، ومشاهدته من حيث العيان ما سمعه من هذا البيان.. ” ترجمہ: جو کچھ میں نے اس تفسیر میں کہا ہے کہ کوئی شخص یقین نہیں کرے گا مگر سلوک و عیان کی حیثیت سےاس مشاہدہ کے بعد وہ جو اس بیان میں سے سنے ۔
پھر علامہ علاؤالدولۃ جب مقدمہ سے فارغ ہوئے تو طریقۂ قوم کو اختیار کرتے ہوئے فاتحہ کی تفسیر فرمائی باوجود اسکے کہ نجم الدین دایۃ نے بھی أول کتاب میں فاتحہ شریف کی تفسیر فرمائی ہے پھر اسکے بعد سورۃ الطور سے ابتداء فرمائی اور آخرِ قرآن پر انتہاء فرمائی ۔ اسکے ساتھ ساتھ اس کتاب میں یہ بھی ملاحظہ کیا گیا ہے کہ اس میں سورۃالذاریات کی تفسیر مکمل نہیں ہے کیونکہ نجم الدین دایۃ اس سورۃ کی تفسیر کو مکمل کرنے سے پہلے دنیا سے رخصت ہوگئے تھے۔
اس کتاب کا مطالعہ کرنے والا جب دونوں مصنفین ( علامہ نجم الدین دایۃ اور علامہ علاؤالدولۃ سمنانی ) کی تصنیف کا آپس میں تقابل کرے گا تو وہ پائے گا کہ دونوں تصنیفوں میں فرق ہے جوکہ درج ذیل ہے:
وہ حصہ جسکو نجم الدین دایۃ نے تصنیف کیا ہے ، اس میں بعض اوقات تفسیرِ ظاہری کے درپے ہوتے ہیں پھر اسکے بعد تفسیرِ اشاری کا ذکر فرماتے ہیں یہ کہتے ہوئے ” والإشارة فيه إلى كذا وكذا”یعنی اس میں اشارہ یوں یوں ہے ۔ ہاں نجم الدین دایۃ نے اپنی کتاب میں جو تفسیرِ اشاری کا ذکر کیا ہے وہ سہل المأخذ ہےکیونکہ انہوں نے فلسفۂ صوفیہ کے قواعد پر تصنیف نہیں فرمائی جب وہ آیات کے درمیان ربط قائم فرماتے ہیں۔
جبکہ وہ حصہ جسکو علامہ علاؤالدولۃ سمنانی نے تصنیف فرمایا ہے ، اس میں معانیٔ ظاہرہ کو بیان نہیں فرماتے اسی وجہ سے اس حصہ میں تصنیفِ نجم الدین دایۃ کی بنسبت سہولت کم ہے کیونکہ یہ تفسیر معقد اور مغلق ہے ۔ اس میں راز یہ ہے کہ علامہ علاؤالدولۃ سمنانی نے اپنی تصنیف کی بنیاد فلسفۂ صوفیہ کے قواعد پر رکھی ۔ ان قواعد کو تکملہ کے مقدمہ میں ذکر کیا گیا ہے جنکا ذکر باعثِ طوالت ہوجائے گا اور فہم مشکل ہو جائے گی لیکن ہم ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کر رہے ہیں چنانچہ مقدمہ میں ذکر فرماتے ہیں:
” أن كل آية لها سبعة أبطن، كل بطن يخالف الآخر، ثم يوضح لنا هذه البطون السبعة: فبطن مخصوص بالطبقة القالبية، وبطن مخصوص باللطيفة النفسية، وبطن مخصوص باللطيفة القلبية، وبطن مخصوص باللطيفة السرية، وبطن مخصوص باللطيفة الروحية، وبطن مخصوص باللطيفة الخفية، وبطن مخصوص باللطيفة الحقية، ولتوضيح ذلك فسَّر لنا قوله تعالى فى الاية [٤٣] من سورة النساء:
{يَا أَيُّهَا الذين آمَنُواْ لَا تَقْرَبُواْ الصلاة وَأَنْتُمْ سكارى} … الآية، على هذه البطون السبعة سبع تفسيرات، كل يخالف الآخر. “
ترجمہ: ہر آیت کے سات باطن ہیں اور ہر باطن دوسرےکے مخالف ہے پھر ہمارے لئے یہ بطونِ سبعہ واضح ہوتے ہیں ۔ پس ایک باطن وہ ہے جو طبقۂ قالبیۃ کیساتھ مخصوص ہے ، ایک وہ ہے جو لطیفۂ نفسیہ کیساتھ مخصوص ہے ، ایک وہ ہے جو لطیفۂ سریۃکیساتھ خاص ہے ، ایک وہ ہے جو لطیفۂ خاصہکیساتھ خاص ہے ، ایک وہ ہے جو لطیفۂ خفیۃ کیساتھ خاص ہے ، ایک وہ ہے جو لطیفۂ حقِّیۃکیساتھ خاص ہے۔ اسکی توضیح اس آیت کریمہ میں موجود ہے “اے ایمان والو! نماز کے قریب نہ جاؤ اس حال میں کہ تم نشہ میں ہو” ان بطونِ سبعہ کے مطابق اسکی سات تفسیریں ہیں جن میں ہر ایک دوسرے کے مخالف ہے۔ پھر علامہ علاؤالدین سمنانی نے اس حد تک بس نہیں فرمائی بلکہ یہ قول کردیا کہ ہر آیت کے ستر باطن ہوتے ہیں بلکہ سات سو باطن ہوتے ہیں ۔ اور اسکو اتنے طویل کلام کیساتھ واضح فرمایا جسکا ذکر باعثِ طوالت ہوگا۔
عرائس البیان فی حقائق القرآن متعلقہ تحریر
علی الجملۃ یہ تفسیر جوکہ “التأویلات النجمیۃ” کے نام سے مشہور ہے ، اہم کتب ِ تفسیر الاشاری میں سے ہے ۔ اور اگر اس کتاب کا تکملہ نہ ہوتا تو یہ بنسبت دوسری کتابوں کے أقرب الی الفہم ہوتی ۔ذیل میں چند نموذج پیش کئے جاتے ہیں نجم الدین دایۃ اور علاؤالدولۃ سمنانی کی تصانیف میں تاکہ دونوں تصانیف کے مابین فرق کی معرفت ہوسکے چنانچہ:
سورۃ البقرۃ کی اس آیتِ کریمہ ﵟفَلَمَّا فَصَلَ طَالُوتُ بِٱلۡجُنُودِ قَالَ إِنَّ ٱللَّهَ مُبۡتَلِيكُم بِنَهَرٖ فَمَن شَرِبَ مِنۡهُ فَلَيۡسَ مِنِّي وَمَن لَّمۡ يَطۡعَمۡهُ فَإِنَّهُۥ مِنِّيٓ إِلَّا مَنِ ٱغۡتَرَفَ غُرۡفَةَۢ بِيَدِهِۦۚ فَشَرِبُواْ مِنۡهُ إِلَّا قَلِيلٗا مِّنۡهُمۡۚ فَلَمَّا جَاوَزَهُۥ هُوَ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَهُۥ قَالُواْ لَا طَاقَةَ لَنَا ٱلۡيَوۡمَ بِجَالُوتَ وَجُنُودِهِۦۚ قَالَ ٱلَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلَٰقُواْ ٱللَّهِ كَم مِّن فِئَةٖ قَلِيلَةٍ غَلَبَتۡ فِئَةٗ كَثِيرَةَۢ بِإِذۡنِ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ مَعَ ٱلصَّٰبِرِينَ ٢٤٩ﵞ[2]کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ:
“والإشارى فيها: أن الله تعالى ابتلى الخلق بنهر الدنيا، وماءزينتها، وما زَيَّن للخلق فيها، لقوله تعالى: {زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشهوات مِنَ النساء والبنين} [آل عمران: 14] .. الآية، ليُظهر المحسن من المسىء، وليُميز الخبيث من الطيب، والمقبول من المردود، وكما قال تعالى: {إِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الأرض زِينَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ أَيُّهُم أَحْسَنُ عَمَلاً} [الكهف: 7] .. ثم امتحنهم وقال تعالى: {فَمَن شَرِبَ مِنْهُ فَلَيْسَ مِنِّي وَمَن لَّمْ يَطْعَمْهُ فَإِنَّهُ مني} يعنى من أوليائه، ومحبى وطلابى، وله اختصاص بقربى، وقبولى، والتخلق بأخلاقى، ونيل الكرامة منى، كان النبى صلى الله عليه وسلم يقول: “أنا من الله، والمؤمنون منى”، {إِلَاّ مَنِ اغترف غُرْفَةً بِيَدِهِ} : يعنى: مَن قنع من متاع الدنيا على ما لا بد منه: من المأكول، والمشروب، والملبوس، والمسكن، وصحبة الخلق. على حد الاضطرار بمقدار القوام، كما كان النبى صلى الله عليه وسلم وأصحابه. وكان يقول: “اللَّهم ارزق آل محمد قوتاً” – أي ما يمسك رمقهم”
ترجمہ: اس میں اشارہ ہے: کہ خدا تعالیٰ نے دنیا کے دریا اور اس کی زینت کے پانی سے مخلوق کا امتحان لیا اور اس میں مخلوق کو مزین کیا، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: {لوگوں کے لیے عورتوں سے شہوتوں کی محبت کو سنوارو۔ (آل عمران: 14) اور جو چیز قبول کی جاتی ہے وہ ثواب میں سے ہے اور جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: {یقیناً ہم نے زمین کی چیزوں کو اس کی زینت بنایا ہے تاکہ ان کو آزمائیں کہ ان میں سے کون بہتر ہے۔ پھر آپ نے ان کا امتحان لیا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {پس جو اس میں سے پیتا ہے وہ مجھ میں سے نہیں ہے، اور میرے شاگرد اور وہ میرے قریب رہنے، مجھے قبول کرنے، اخلاق کو اپنانے میں مہارت رکھتا ہے۔ اور مجھ سے عزت حاصل کرنا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: “میں خدا کی طرف سے ہوں اور مومن مجھ سے ہیں۔” ضروری ہے: کھانے پینے، لباس سے۔ رہائش اور لوگوں کے ساتھ صحبت ان کے قد کی طرح گرم تھی، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر دعائیں تھیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے: “اے اللہ!آلِ محمد کو قوت عطا فرما یعنی جو ان کےرمق کو روکے”۔
سورۃ التوبۃ کی اس آیتِ کریمہ ﵟيَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ قَٰتِلُواْ ٱلَّذِينَ يَلُونَكُم مِّنَ ٱلۡكُفَّارِ وَلۡيَجِدُواْ فِيكُمۡ غِلۡظَةٗۚ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلۡمُتَّقِينَ ١٢٣ ﵞ[3]کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
“{ياأيها الذين آمَنُواْ} أي صدَّقوا محمداً صلى الله عليه وسلم فيما دلَّهم إلى الله بإذنه، {قَاتِلُواْ الذين يَلُونَكُمْ مِّنَ الكفار} أى جاهدوا كفار النفس وصفاتها بمخالفة هواها صفاتها، وتبديلها وحملها على طاعة الله، والمجاهدة فى سبيله، فإنها تحجبك عن الله، {وَلْيَجِدُواْ فِيكُمْ غِلْظَةً} أى عزيمة صادقة فى فنائها بترك شهواتها ولذَّاتها ومستحسناتها، ومنازعتها فى هواها، وحملها على المتابعة فى طلب الحق، {واعلموا أَنَّ الله مَعَ المتقين} بجذبة الوصول، ليتقوا به عما سواه، كما يتقى المرء بترسه عن النشاب، والرمح والسيف”
ترجمہ: {اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو} یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاؤ، اللہ کے حکم سے وہ ان کی رہنمائی کرتے ہیں، {ان سے لڑو جو تمھارے قریب ہیں کافروں سے} یعنی کافروں سے جہاد کرو۔ روح اور اس کی صفات کا اس کی خواہشات اور اس کی صفات کی مخالفت کرتے ہوئے، اس کو بدلنا اور اسے خدا کا فرمانبردار بنانا اور اس کی راہ میں جدوجہد کرنا، کیونکہ یہ آپ کو خدا سے پردہ کرتا ہے، اور وہ آپ میں سختی پاتے ہیں) یعنی ایک مخلصانہ عزم۔ اس کا فنا اپنی شہوتوں، اپنی لذتوں اور لذتوں کو چھوڑ کر، اور اس سے اس کی خواہشات میں جھگڑا کر، اور اسے اس کی تلاش جاری رکھنے پر مجبور کر دیناسچائی، اور جان لو کہ خدا متقیوں کے ساتھ ہے” محرک کھینچ کر، کوئی اور نہیں، جس طرح ایک شخص اپنے آپ کو تیر، نیزوں اور تلواروں سے اپنی ڈھال سے بچاتا ہے۔
سورۃ یوسف کی ان دو آیاتِ کریمہ ﵟوَقَالَ نِسۡوَةٞ فِي ٱلۡمَدِينَةِ ٱمۡرَأَتُ ٱلۡعَزِيزِ تُرَٰوِدُ فَتَىٰهَا عَن نَّفۡسِهِۦۖ قَدۡ شَغَفَهَا حُبًّاۖ إِنَّا لَنَرَىٰهَا فِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٖ ٣٠ﵞ ﵟفَلَمَّا سَمِعَتۡ بِمَكۡرِهِنَّ أَرۡسَلَتۡ إِلَيۡهِنَّ وَأَعۡتَدَتۡ لَهُنَّ مُتَّكَـٔٗا وَءَاتَتۡ كُلَّ وَٰحِدَةٖ مِّنۡهُنَّ سِكِّينٗا وَقَالَتِ ٱخۡرُجۡ عَلَيۡهِنَّۖ فَلَمَّا رَأَيۡنَهُۥٓ أَكۡبَرۡنَهُۥ وَقَطَّعۡنَ أَيۡدِيَهُنَّ وَقُلۡنَ حَٰشَ لِلَّهِ مَا هَٰذَا بَشَرًا إِنۡ هَٰذَآ إِلَّا مَلَكٞ كَرِيمٞ
٣١ﵞ[4]کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
“يشير بالنسوة إلى صفات البشرية النفسانية من البهيمية، والسبعية، والشيطانية فى مدينة الجسد، {امرأة العزيز} وهى الدنيا، {تُرَاوِدُ فَتَاهَا عَن نَّفْسِهِ} تطالب عبدها وهو القلب. كان عبداً فى البداية لحاجته إليها للتربية. قلما كمل القلب وصفا عن دنس البشرية استأهل المنظر الإلهى، فتجلى له الرب تبارك وتعالى فتنوّر القلب بنور جماله وجلاله، فاحتاج إليه كل شىء، وسجد له حتى الدنيا، {قَدْ شَغَفَهَا حُبّاً} أى أحبته الدنيا غاية الحب، لما ترى عليه آثار جمال الحق”
ترجمہ: وہ عورتوں کے ذریعے حیوانیت، ستر کی دہائی اور جسم کے شہر میں شیطانیت سے انسانیت کی نفسیاتی خصوصیات کی طرف اشارہ کرتا ہے، (عزیز کی عورت) جو کہ دنیا ہے۔ وہ دیدارِ الٰہی پر غور کرتا ہے اور ربِ کریم اس کے لیے خشک کردیتا ہے اور دل کو اپنے حسن و جمال کے نور سے منور کرتا ہے، اسے ہر چیز کے لیے اس کی ضرورت تھی، اور اسے سجدہ کیا، حتیٰ کہ دنیا بھی۔( بےشک ان کی محبت اس کے دل میں پَیر گئی ہے) یعنی دنیا نے اس سے نہایت محبت کی کیونکہ اس پر جمالِ حق کے آثار کو دیکھا۔
سورۃ النمل کی ان دو آیاتِ کریمہ ﵟوَحُشِرَ لِسُلَيۡمَٰنَ جُنُودُهُۥ مِنَ ٱلۡجِنِّ وَٱلۡإِنسِ وَٱلطَّيۡرِ فَهُمۡ يُوزَعُونَ ١٧ حَتَّىٰٓ إِذَآ أَتَوۡاْ عَلَىٰ وَادِ ٱلنَّمۡلِ قَالَتۡ نَمۡلَةٞ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّمۡلُ ٱدۡخُلُواْ مَسَٰكِنَكُمۡ لَا يَحۡطِمَنَّكُمۡ سُلَيۡمَٰنُ وَجُنُودُهُۥ وَهُمۡ لَا يَشۡعُرُونَ ١٨ﵞ[5] کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
“{وَحُشِرَ لِسْلَيْمَانَ جُنُودُهُ مِنَ الجن} أى صفته الشيطانية، {والإنس} أى صفته النفسانية، {والطير} ، أى صفته المالكية، {فَهُمْ يُوزَعُونَ} عن طبيعتهم بالشريعة. ليسخِّروا لسليمان القلب وينقادوا له، {حتى إِذَآ أَتَوْا على وَادِ النمل} وهو هوى النفس الحريصة على الدنيا وشهواتها، {قَالَتْ نَمْلَةٌ} وهى النفس اللَّوامة، {ياأيها النمل} أى الصفات النفسانية، {ادخلوا مَسَاكِنَكُمْ} محالكم المختلفة وهى الحواس الخمس، {لَا يَحْطِمَنَّكُمْ} ، {سُلَيْمَانُ} القلب، {وَجُنُودُهُ} المسخَّرة له، {وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ} لأنهم الحق، وأنتم الباطل، فإذا جاء الحق زهق الباطل، كما أن الشمس إذا طلعت تبطل الظلمة وتنفيها، وهى لا تشعر بحال الظلمة وما أصابها”
ترجمہ: {اور سلیمان کے لیے اس کا حیوان جنوں میں سے اس کا سپاہی ہے} جو اس کی شیطانی صفت ہے، {اور انسان} جو اس کی نفسیاتی صفت ہے، {اور پرندہ}، یہ اس کا مالک کردار ہے، وہ اپنی فطرت سے تقسیم کرتے ہیں۔ قانون کے مطابق، تاکہ دل اور سلیمان کا مذاق اڑائیں اور اس کے تابع رہیں، چاہے وہ چیونٹیوں کی وادی میں ہی کیوں نہ آئیں) اور یہ دل کی خواہش ہے، دنیا اور اس کی خواہشات پر، اس نے اس سے کہا۔ وہ ملامت کرنے والی روح ہے، {اے چیونٹیوں} یعنی نفسیاتی صفات، {اپنی رہائش گاہوں میں داخل ہو جاؤ} اپنی مختلف جگہوں پر، جو کہ پانچ حواس ہیں، {وہ تجھے نہ توڑیں گے}، {دل کے سلیمان اور رعایا کے سپاہی اس کے نزدیک {اور وہ نہیں سمجھتے} کیونکہ وہ حق ہیں اور تم باطل ہو، پس جب حق آتا ہے تو باطل مٹ جاتا ہے، جس طرح سورج طلوع ہوتے ہی اندھیرے کو مٹا دیتا ہے اور اس کی نفی کر دیتا ہے اور اسے محسوس نہیں ہوتا۔ اندھیرے کی حالت اور اس پر کیا گزری ہے۔

من تأویلات السمنانی:
سورۃ التحریم کی اس آیتِ کریمہ ﵟوَضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلٗا لِّلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱمۡرَأَتَ فِرۡعَوۡنَ إِذۡ قَالَتۡ رَبِّ ٱبۡنِ لِي عِندَكَ بَيۡتٗا فِي ٱلۡجَنَّةِ
وَنَجِّنِي مِن فِرۡعَوۡنَ وَعَمَلِهِۦ وَنَجِّنِي مِنَ ٱلۡقَوۡمِ ٱلظَّٰلِمِينَ ١١ﵞ[6] کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
“{وَضَرَبَ الله مَثَلاً لِّلَّذِينَ آمَنُواْ} يعنى القوى المؤمنة من قوى النفس اللوَّامة، {امرأت فِرْعَوْنَ} يعنى القوة الصالحة القابلة تحت القوة الفاسدة الفاعلة المستكبرة، ما ضرَّها كفر القوة الفاعلة الفاسدة إذا كانت صالحة هى بنفسها، {إِذْ قَالَتْ رَبِّ ابن لِي عِندَكَ بَيْتاً فِي الجنة وَنَجِّنِي مِن فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهِ وَنَجِّنِي مِنَ القوم الظالمين} يعنى إذ قالت اللطيفة الصالحة القابلة فى مناجاتها مع ربها: ابن لى بيتاً فى أخص أطوار القلب، وقالت أيضاً فى مناجاتها: نجنى من هذه القوة الفاسدة والفاعلة وعملها. ونجنى من أنوائها وقواها الظالمة”
ترجمہ:( اور خدا نے ان لوگوں کے لیے ایک مثال قائم کی جو ایمان لائے) یعنی مومن قوتوں کو ملامت کرنے والی روح کی طاقتوں سے، {فرعون کی عورت} یعنی صالح قوت جو بدعنوان، متکبر فعال قوت کے تحت قبول کرتی ہے، جسے وہ بدعنوانوں کی توہین سمجھتی ہے۔ فعال قوت اگر صادق ہے تو وہ خود ہے، {جب اس نے کہا، “خداوند، میرے لیے اپنے ساتھ میرا گھر بنا لے، میرا گھر جنت ہو گا۔” اور مجھے فرعون اور اس کے کام سے بچا، اور مجھے ظالم لوگوں سے بچا۔ جب اس مہربان، نیک اور صالح عورت نے اپنے رب سے ہمبستری کرتے ہوئے کہا: میرے لیے دل کے مراحل میں سب سے زیادہ سمجھدار پیدا کر، اور اس نے اپنے لہجے میں یہ بھی کہا: مجھے اس فاسد اور فعال قوت اور اس کے عمل سے نجات دے۔ اس کے غیر منصفانہ رجحانات اور قوتیں۔[7]
[1] القرآن الکریم، سورۃالذاریات، 51/17-18
[2] القرآن الکریم، سورۃ البقرۃ، 2/249
[3] القرآن الکریم، سورۃ التوبۃ، 9/123
[4] القرآن الکریم، سورۃ یوسف، 12/30-31
[5] القرآن الکریم، سورۃ النمل،27/17-18
[6] القرآن الکریم، سورۃالتحریم، 66/11
[7] ھذا کلہ مأخوذ من التفسیر والمفسرون، ج 2 ، ص 295، مکتبہ وھبۃ ، القاھرۃ

