علمِ تفسیر کی تعریف:
علم تفسیر کی تعریفات کے متعلق کئی علماء نے اپنی کتابوں میں مفصل ابحاث فرمائیں ہیں چنانچہ:
علامہ سید حسین ذھبی (م :۱۳۹۸ھ) اپنی کتاب “التفسیر و المفسرون” کے مقدمہ میں فرماتے ہیں:
لغوی معنی: «التفسير فى اللغة: التفسير هو الإيضاح والتبيين»[1] ترجمہ: تفسیر کا لغوی معنی ہے: واضح کرنا اور بیان کرنا۔
جیساکہ اللہ تعالی نے قرآن مجید ، فرقانِ حمید کی سورۂ فرقان میں ارشاد فرمایا ﵟوَلَا يَأۡتُونَكَ بِمَثَلٍ إِلَّا جِئۡنَٰكَ بِٱلۡحَقِّ وَأَحۡسَنَ تَفۡسِيرًا ٣٣ﵞ[2] مذکورہ آیتِ کریمہ میں تفسیر سے مراد بیان و تفصیل ہے ۔
اسی طرح امام محمد بن مکرم افریقی (م:۷۱۱ھ) نے اپنی کتاب “لسان العرب” میں لکھا :
”الفَسْرُ: الْبَيَانُ. فَسَر الشيءَ يفسِرُه، بالكَسر، ويفْسُرُه، بِالضَّمِّ، فَسْراً وفَسَّرَهُ: أَبانه، والتَّفْسيرُ مِثْلُهُ. ابْنُ الأَعرابي: التَّفْسيرُ والتأْويل وَالْمَعْنَى وَاحِدٌ. وَقَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَأَحْسَنَ تَفْسِيراً الفَسْرُ: كَشْفُ المُغَطّى، والتَّفْسير كَشف المُراد عَنِ اللَّفْظِ المُشْكل “[3]
ترجمہ: فسر بیان کرنے کو کہتے ہیں فَسَر الشيءَ يفسِرُه(باب ضرب یضرب ) سے ہے اور نصر ینصر سے بھی ہے ۔ جیساکہ کہا جاتا ہے فَسَّرَهُ: أَبانه یعنی اس نے اسکی تفسیر کی ، اسے واضح کیا ۔ اور تفسیر اسی کی مثل ہے ۔ا بن اعرابی نے کہا کہ تفسیر و تاویل و معنی کی مراد ایک ہی ہے ۔ اسی طرح
اصطلاحی معنی: درج ذیل ہے:
امام بدرالدین زرکشی ( م: ۷۹۴ھ) اپنی کتاب “البرھان فی علوم القرآن “میں فرماتے ہیں کہ:
“التفسير علم يعرف به فهم كتاب الله المنزل على نبيه محمد صلى الله عليه وسلم وبيان معانيه واستخراج أحكامه وحكمه واستمداد ذلك من علم اللغة والنحو والتصريف وعلم البيان وأصول الفقه والقراءات ويحتاج لمعرفة أسباب النزول والناسخ والمنسوخ”[4]
ترجمہ: تفسیر وہ علم ہے جس کے ذریعے اس کتاب اللہ کی معرفت حاصل ہو جو نبی کریم محمد مصطفی ﷺ پر نازل ہوئی اوراسکے معانی کے بیان اور احکام کے استخراج اورحکم اور اسکی علمِ لغت و نحو و صرف و علم بیان و اصولِ فقہ اور قراءات وغیرہ سے استمداد کرنے کا طریقہ معلوم ہو اور أسبابِ نزول کی معرفت اور ناسخ و منسوخ کا علم حاصل ہو۔
امام أجل جلال الدین السیوطی الشافعی (م:۹۱۱ھ) اپنی کتاب “الاتقان فی علوم القرآن” میں رقمطراز ہیں:
“وقال أبو حيان: التفسير علم يبحث فيه عن كيفية النطق بألفاظ القرآن ومدلولاتها وأحكامها الإفرادية والتركيبية، ومعانيها التي تحمل عليها حالة التركيب وتتمات لذلك”[5]
ترجمہ: أبو حیان نے فرمایا: تفسیر وہ علم ہے جس میں الفاظِ قرآن کو بولنے کیفیت اور اسکے مدلولات اور أحکامِ افرادیہ او رترکیبیہ کے متعلق بحث کی جاتی ہے اور اسکے ان معانی کے بارے میں بحث کی جاتی ہے جن پر یہ محمول ہو حالتِ ترکیب میں ۔
فہرست مقالہ جات 2027کنزالمدارس بورڈ
درج بالا تعریف کے قیودات و فوائد:
درج بالا تعریف میں “علم” بمنزلۂ جنس کےہے ،”يبحث فيه عن كيفية النطق بألفاظ القرآن”بمنزلۂ فصل کے ہے اور اس سے مراد علمِ قراءت ہے،”ومدلولاتها “سے مرادعلمِ لغت ہے جسکی طرف اس علم میں احتیاجی ہوتی ہے۔ “وأحكامها الإفرادية والتركيبية”سے مراد علمِ تصریف و بیان وبدیع ہے۔”ومعانيها التي تحمل عليها حالة التركيب” سے مراد وہ معانی ہیں جنکی دلالت بالحقیقۃ ہوتی ہے یا بالمجاز، “وتتمات لذلك” سے مراد معرفۃِ نسخ و سببِ نزول وغیرہ ہے ۔
علمِ تفسیر کی حاجت:
اللہ تبارک و تعالی کی عادتِ جاریہ یہی ہے کہ اپنی مخلوق سے خطاب ایسے کلام کیساتھ فرمایا ہے جسکو وہ سمجھ سکیں ۔ اسی وجہ سے ہر رسول کو اسکی قوم کی زبان پر بھیجا اور اسکی کتاب کو اسی قوم کی لغت پر نازل فرمایاہے ۔ حاجتِ تفسیر اس لئے پیش آئی کہ جب بھی شروح کی حاجت پیش آتی ہے تو تین چیزوں کیوجہ سے پیش آتی ہے جوکہ درج ذیل ہیں:
- کمال فضیلۃ المصنف:یہ کہ اس کتاب کا مصنف اتنا عظیم الشان اور کمالِ فضیلت کا حامل ہوتا ہے کہ اپنے علمی قوت کیوجہ سے معانیٔ دقیقہ کو لفظِ وجیز( مختصر) میں جمع فرما دیتا ہے جسکی وجہ سے اسکی مراد کو سمجھنا بعض اوقات مشکل ہوجاتا ہے اور شرح کے ذریعے ان معانیٔ خفیہ کے ظہور کا قصد کیا جاتا ہے ۔ اسی وجہ سے بعض ائمہ کی تصانیف پر لکھی گئی انکی اپنی شروحات دیگر علماء کی لکھی گئی شروحات کی بنسبت أ دلّ ہوتی ہیں۔
- بعض اوقات مصنف بعض تتماتِ مسئلہ یا شروطِ مسئلہ سے غفلت برتتا ہے اسلئے کہ وہ سمجھتا ہے کہ یہ بالکل واضح ہے ۔ جسکی وجہ سے شارح بیانِ محذوف وغیرہ فرماتا ہے۔
- بعض اوقات ایک لفظ کئی معانی کا احتمال رکھتا ہے جیساکہ مجاز و مشترک میں ہوتا ہے۔ اس صورت میں شارح غرضِ مصنف اور اسکی ترجیح کو بیان کرتا ہے اسی طرح بعض اوقات تصانیف میں وہ خطائیں واقع ہوجاتی ہیں جن سے کوئی بشر خالی نہیں مثلاً سہوِ کتابت یا تکرارِ شے یا حذفِ مبہم وغیر ذلک ۔ اس صورت میں شارح اس پر تنبیہ کرتاہے۔
درج بالا تمہیدی گفتگو کے بعد :
قرآنِ مجید ، فرقانِ حمید أفصح العرب کے زمانہ میں عربی زبان میں نازل ہوا ۔ اسلئے عرب اسکے ظواہر و احکام پر عمل کرتے تھے جبکہ اسکے باطن
کے دقائق ان کیلئے تب ہی ظاہر ہوتے جب وہ بحث و نظر فرماتےاور نبی کریم ﷺ سے اس بارے میں سوال کرتے جیساکہ :
جب یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ﵟٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَلَمۡ يَلۡبِسُوٓاْ إِيمَٰنَهُم بِظُلۡمٍ أُوْلَٰٓئِكَ لَهُمُ ٱلۡأَمۡنُ وَهُم مُّهۡتَدُونَ ٨٢ﵞ[6]
ترجمہ: وہ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان میں کسی ناحق کی آمیزش نہ کی انہیں کیلئے امان ہے اور وہی راہ پر ہیں۔تو صحابۂ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا کہ “و أینا لم یظلم نفسہ” یعنی یارسول اللہ ﷺ! ہم میں سے کون ہے جس نے اپنے آپ پر ظلم نہیں کیا؟ ( اس آیتِ کریمہ میں ظلم سے کیا مرا دہے؟) تو نبی کریم ﷺ نے اس کی تفسیر فرمائی اور اس آیت کریمہ ﵟإِنَّ ٱلشِّرۡكَ لَظُلۡمٌ عَظِيمٞ ١٣ﵞ[7] ترجمہ: بیشک شرک بڑا ظلم ہے ۔ ( یعنی اس آیتِ کریمہ میں ظلم سے مراد شرک ہے )
صحابۂ کرام علیہم الرضوان جس چیز کی طرف محتاج تھے ہم بھی اسکی طرف محتاج ہیں بلکہ ان سے بڑھ کر ہم محتاج ہیں کہ ہم قرآنِ مجید کے أحکام الظواھر کی معرفت کیلئے بھی تفسیر کے محتاج ہیں کیونکہ ہم أحکامِ لغت کو بغیر تعلم کے جاننے سے قاصر ہیں ۔
لہٰذا ثابت ہوا کہ ہم تفسیرِ قرآن کی طرف سب سے زیادہ محتاج ہیں اور یہ بات معلوم ہے کہ بعض آیاتِ قرآنیہ کی تفسیر کے ذریعے الفاظِ وجیزہ کی تفصیل ہوجاتی ہے اور انکے معانی منکشف ہوجاتے ہیں اور بعض آیات کی تفسیر سے فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ اس کے معانی ومراد میں موجود کئی احتمالات میں سے ایک کو دوسرے پر ترجیح دینا معلوم ہو جاتا ہے۔
امام أجل جلال الدین السیوطی الشافعی (م:۹۱۱ھ) اپنی کتاب “الاتقان فی علوم القرآن” میں رقمطراز ہیں:
“وقال الخويي: علم التفسير عسير يسير أما عسره فظاهر من وجوه أظهرها أنه كلام متكلم لم يصل الناس إلى مراده بالسماع منه ولا إمكان الوصول إليه بخلاف الأمثال والأشعار ونحوها فإن الإنسان يمكن علمه منه إذا تكلم بأن يسمع منه أو ممن سمع منه وأما القرآن فتفسيره على وجه القطع لا يعلم إلا بأن يسمع من الرسول صلى الله عليه وسلم، وذلك متعذر إلا في آيات قلائل فالعلم بالمراد يستنبط بأمارات ودلائل والحكمة فيه أن الله تعالى أراد أن يتفكر عباده في كتابه فلم يأمر نبيه بالتنصيص على المراد في جميع آياته”[8]
مفہوم: امام خوبی نے فرمایا: علمِ تفسیر مشکل بھی ہے اور آسان بھی ۔ اسکا مشکل پَن چند باتوں سے ظاہر ہے ۔جن میں سے اظہر یہ ہے کہ قرآن مجید ایک ایسے متکلم کا کلام ہے جن کے زبان سے سن کر اسکی مراد تک لوگوں کی رسائی ممکن نہیں اور نہ ہی کسی کی رسائی ہوتی ہے برخلاف امثال و اشعار وغیرھما کے کہ ان چیزوں کی مراد تک پہنچنا انسان کیلئے اس صورت میں ممکن ہے کہ وہ انکے متکلم سے سن لے اور بہرحال قرآن مجید کی تفسیر قطعی اور یقینی طور پر تب ہی جانی جا سکتی ہے جب رسول اللہ ﷺ سے سنی جائے اور یہ چند آیات کے علاوہ متعذر ہے پس مراد ِ خداوندی کا علم أمارات و دلائل کے ذریعے مستنبط کیا جاتا ہے اور اس میں حکمت یہ ہے کہ اللہ تعالی جل شانہٗ کا ارادۂ مبارکہ یہ ہے کہ اسکے بندے اسکی کتاب (قرآن مجید) میں تفکر کریں اسی وجہ سے نبی پاک ﷺ کو ساری آیات کی مراد پر تنصیص کا حکم ارشاد نہیں فرمایا۔
شرف التفسیر:
اسکا شرف و فضل کوئی مخفی نہیں ۔ کئی آیاتِ کریمہ اور احادیثِ طیبہ میں علمِ تفسیر کی فضیلت و شرف کو بیان کیا گیا ہے۔ چنانچہ
- اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا :ﵟيُؤۡتِي ٱلۡحِكۡمَةَ مَن يَشَآءُۚ وَمَن يُؤۡتَ ٱلۡحِكۡمَةَ فَقَدۡ أُوتِيَ خَيۡرٗا كَثِيرٗاۗﵞ[9] ترجمہ: اللہ حکمت دیتا ہے جسے چاہے اور جسے حکمت ملی اسے بہت بھلائی ملی اور نصیحت نہیں مانتے مگر عقل والے۔
اس آیتِ کریمہ کی تفسیر میں علامہ أبو محمد عبدالرحمن بن محمد ، رازی (م:۳۲۷ھ) اپنی کتاب “تفسیر ابن أبی حاتم”میں فرماتے ہیں:
“حدثنا أبي، ثنا أبو صالح كاتب الليث، حدثني معاوية بن صالح عن علي بن طلحة، عن ابن عباس، يعني في قوله: يؤتي الحكمة من يشاء ومن يؤت الحكمة فقد أوتي خيرا كثيرا قال: المعرفة بالقرآن، ناسخه ومنسوخه، ومحكمه ومتشابهه، ومقدمه ومؤخره وحلاله وحرامه، وأمثاله. “[10] یعنی: ( اپنی سند کیساتھ) حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت فرماتے ہیں کہ حکمت سے مراد قرآن، اسکے ناسخ و منسوخ ، محکم و متشابہ، مقدم و مؤخر، حلال و حرام اور اسکے مثل وغیرہ کی معرفت ہے۔
- اسی طرح اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ﵟوَتِلۡكَ ٱلۡأَمۡثَٰلُ نَضۡرِبُهَا لِلنَّاسِۖ وَمَا يَعۡقِلُهَآ إِلَّا ٱلۡعَٰلِمُونَ ٤٣ﵞ[11]ترجمہ: اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے لیے بیان فرماتے ہیں اور انہیں نہیں سمجھتے مگر علم والے۔
اس آیتِ کریمہ کی تفسیر میں علامہ أبو محمد عبدالرحمن بن محمد ، رازی (م:۳۲۷ھ) اپنی کتاب “تفسیر ابن أبی حاتم”میں فرماتے ہیں:
” حدثنا علي بن الحسين، ثنا أحمد بن عبد الرحمن، ثنا أبي ثنا أبو سنان، عن عمرو بن مرة قال: ما مررت بآية في كتاب الله لا أعرفها إلا أحزنني لأني سمعت الله يقول: وتلك الأمثال نضربها للناس وما يعقلها إلا العالمون”[12] یعنی ( اپنی سند کیساتھ ) حضرت عمرو بن مرۃ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ کتاب اللہ تعالی میں سے جس آیتِ کریمہ کی بھی مجھےمعرفت حاصل ہوئی تو مجھے پریشانی ہوئی کیونکہ اللہ تعالی کا یہ فرمان سن رکھا ہے کہ ” وتلك الأمثال نضربها للناس وما يعقلها إلا العالمون”۔
امام ابو بکر احمد بن حسین بیھقی ، (م:۴۵۸ھ) اپنی کتاب “شعب الایمان”میں روایت فرماتے ہیں:
“وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ” أَعْرِبُوا الْقُرْآنَ وَالْتَمِسُوا غَرَائِبَهُ “[13] ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نبی کریم ﷺسے روایت فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ: قرآن پر اعراب لگاؤ اور اسکے غرائب میں غور و فکر کرو۔
امام أجل جلال الدین السیوطی الشافعی (م:۹۱۱ھ) اپنی کتاب “الاتقان فی علوم القرآن” میں لکھتے ہیں:
“وَأَخْرَجَ ابْنُ الْأَنْبَارِيِّ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ: لِأَنْ أُعْرِبَ آيَةً مِنَ الْقُرْآنِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَحْفَظَ آيَةً وَأَخْرَجَ أَيْضًا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: “لَوْ أَنِّي أَعْلَمُ إِذَا سَافَرْتُ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً أَعْرَبْتُ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ لَفَعَلْتُ”
وَأَخْرَجَ أَيْضًا مِنْ طَرِيقِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: قَالَ عُمَرُ: “مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَأَعْرَبَهُ كَانَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ أَجْرُ شَهِيدٍ”[14]
ترجمہ: ابن انباری نے جناب سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا کہ آپ نے فرمایا :قرآن مجید کی ایک آیت پر اعراب لگانا مجھے آیت یاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے ۔
اسی طرح عبداللہ بن بریدہ نے اصحابِ رسول ﷺ میں سے کسی سے روایت فرمایا کہ : اگر مجھے معلوم ہو جائے تو چالیس سال کا سفر کرنےکے بعد میں کتاب اللہ کی ایک آیت پر اعراب لگا سکوں تو میں ضرور سفر کروں۔
اسی طرح امام شعبی کے طریق سے روایت فرمایا کہ جناب سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ “جس نے قرآن پڑھا پس پر اعراب لگایا اس کیلئے اللہ تعالی کی بارگاہ میں ایک شہید کا اجر لکھا جائے گا۔
علمِ تفسیر کا حکم:
امام أجل جلال الدین السیوطی الشافعی (م:۹۱۱ھ) اپنی کتاب “الاتقان فی علوم القرآن” میں لکھتے ہیں:
” وقد أجمع العلماء أن التفسير من فروض الكفايات وأجل العلوم الثلاثة الشرعية”[15]
ترجمہ: علماء کا اس بات پر اجماع ہےکہ تفسیر فروضِ کفایات اور أجلّ علومِ ثلاثہ شرعیہ میں سے ہے۔

علم التاویل کی تعریف:
اس کی تعریف میں علماء نے مفصل ابحاث فرمائیں جوکہ درج ذیل ہیں:
علامہ سید حسین ذھبی (م :۱۳۹۸ھ) اپنی کتاب “التفسیر و المفسرون” کے مقدمہ میں فرماتے ہیں:
لغوی معنی: ” التأويل فى اللغة: التأويل: مأخوذ من الأول وهو الرجوع”[16] ترجمہ: لفظ “تاویل” “الأول”سے نکلا ہے جسکا معنی ہے پلٹنا۔
اسی طرح مجدالدین محمد بن یعقوب فیروزآبادی (م: ۸۱۷ھ) اپنی کتاب “القاموس المحیط” میں لکھتے ہیں:
”آل إليه أولا ومآلا: رجع”[17] ترجمہ: آل الیہ کہا جاتا ہے جب کوئی رجوع کرے یعنی لوٹے۔
اسی طرح علامہ محمد بن مکرم رویفعی افریقی (م:۷۱۱ھ) اپنی کتاب “لسان العرب ” میں لکھتے ہیں کہ:
” الأول: الرجوع. آل الشيء يؤول أولا ومآلا: رجع. وأول إليه الشيء: رجعه. وألت عن الشيء: ارتددت. وفي الحديث:من صام الدهر فلا صام ولا آل أي لا رجع إلى خير، والأول الرجوع”[18]
مفہوم: “الأول” کا معنی ہے رجوع کرنا جیساکہ کوئی چیز لوٹے تو کہاجاتا ہے ”آل الشيء يؤول أولا ومآلا”اسی طرح جب کوئی چیز کسی کی طرف پلٹے تو کہا جاتا ہے “أول إليه الشيء” اسی طرح جب میں کسی چیز سے لوٹوں تو کہوں گا “ألت عن الشيء”۔ اسی طرح حدیث پاک میں آیا من صام الدهر فلا صام ولا آل یعنی خیر کی طرف نہیں لوٹا اور”الأول” کا معنی ہے رجوع کرنا۔
درج بالا عبارات سے ثابت ہوا کہ لفظ “تأویل” ” الأول” بمعنی رجوع سے نکلا ہے ۔ یہ اسکے معانیٔ لغویہ میں سے ایک معنی کے اعتبار سے ہے ۔ اس صورت میں معنی یہ بنے گا کہ گویا کہ مؤوِّل اپنے کلام کو معانی میں سے جس معنی کو مراد لے رہا ہوتا ہے ، اسکی طرف لوٹاتا ہے۔
قرآنِ مجید میں غور و فکر کرنے والا پائے گا کہ لفظ “تأویل” قرآن مجید میں بکثرت وارد ہوا ہے جن میں سے چند آیات درج ذیل ہیں:
- ﵟفَأَمَّا ٱلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمۡ زَيۡغٞ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَٰبَهَ مِنۡهُ ٱبۡتِغَآءَ ٱلۡفِتۡنَةِ وَٱبۡتِغَآءَ تَأۡوِيلِهِۦۖ وَمَا يَعۡلَمُ تَأۡوِيلَهُۥٓ إِلَّا ٱللَّهُۗ ﵞ[19]
ترجمہ:وہ جنکے دلوں میں کجی ہے وہ اشتباہ والی کےپیچھے پڑتے ہیں گمراہی چاہنے اور اس کا پہلو ڈھونڈنے کو اور اس کا ٹھیک پہلو اللہ ہی کو معلوم ہے
- درج بالا آیت کریمہ میں لفظ ” تاویل ” کا معنی تفسیر و تعیین کے ہے۔
- ﵟفَإِن تَنَٰزَعۡتُمۡ فِي شَيۡءٖ فَرُدُّوهُ إِلَى ٱللَّهِ وَٱلرَّسُولِ إِن كُنتُمۡ تُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِۚ ذَٰلِكَ خَيۡرٞ وَأَحۡسَنُ تَأۡوِيلًا ٥٩ﵞ[20]
ترجمہ: پھر اگر تم میں کسی بات کا جھگڑا اٹھے تو اسے اللہ و رسول کے حضور رجوع کرو اگر اللہ و قیامت پر ایمان رکھتے ہو یہ بہتر ہے اور اس کا انجام بہت اچھا۔ درج بالا آیت کریمہ میں لفظ ” تاویل” کا معنی عاقبت و مصیر کے ہے۔
- ﵟهَلۡ يَنظُرُونَ إِلَّا تَأۡوِيلَهُۥۚ يَوۡمَ يَأۡتِي تَأۡوِيلُهُۥﵞ[21]
ترجمہ: کاہے کی راہ دیکھتے ہیں مگر اس کی کہ اس کتاب کا کہا ہوا انجام سامنے آئے جس دن اسکا بتایا جانا انجام ہوگا۔
- ﵟبَلۡ كَذَّبُواْ بِمَا لَمۡ يُحِيطُواْ بِعِلۡمِهِۦ وَلَمَّا يَأۡتِهِمۡ تَأۡوِيلُهُۥۚﵞ[22]
ترجمہ: بلکہ اسے جھٹلایا جسکے علم پر قابو نہ پایا اور ابھی انہوں نےاس کا انجام نہیں دیکھا ہے۔
- درج بالا دونوں آیاتِ کریمہ میں لفظ “تاویل”کا معنی وقوعِ مخبر بہ کے ہے۔
- ﵟوَكَذَٰلِكَ يَجۡتَبِيكَ رَبُّكَ وَيُعَلِّمُكَ مِن تَأۡوِيلِ ٱلۡأَحَادِيثِﵞ[23]
ترجمہ: اور اسی طرح تجھے تیرا رب چن لے گا اور تجھے باتوں کا انجام سکھائے گا ۔
- درج بالا آیتِ کریمہ میں ” تأویل” سے مراد نفسِ مدلولِ رؤیا ہے۔
اصطلاحی معنی: درج ذیل ہے:
علامہ سید حسین ذھبی (م :۱۳۹۸ھ) اپنی کتاب “التفسیر و المفسرون” کے مقدمہ میں فرماتے ہیں:
- التأويل عند السَلَف: التأويل عند السلَفَ له معنيان:
أحدھما: کلام کی تفسیر کرنا اور اسکے معنی کو بیان کرنا چاہے ظاہر کے موافق ہو یا مخالف۔ اس صورت میں تاویل و تفسیر دونوںمترادف ہونگے ۔ یہی مراد ہے امام مجاہد کی اس قول سے “إن العلماء يعلمون تأويله”یعنی قرآن۔ اسی طرح ابنِ جریر طبری اپنی تفسیر میں جس طرح فرماتےہیں کہ “القول فى تأويل قوله تعالى كذا وكذا” اسی طرح فرماتے ہیں کہ “اختلف أهل التأويل فى هذه الآية” تو اس سے بھی انکی مراد تفسیر ہوتی ہے۔
ثانیھما: کلام سے نفسِ مراد ۔کہ اگر کلام طلب ہو تواسکی تأویل سےمراد نفسِ فعلِ مطلوب ہوگا اور اگر کلام خبر ہو تو اسکی تأویل سے مراد نفسِ شیئِ مخبَر بہ ہوگا۔اس معنی اور اسکے ماقبل معنی میں فرق ظاہر ہے کہ اس سے ماقبل معنی کے مطابق تأویل باب العلم و الکلام سے ہوگا۔ جیساکہ تفسیر، شرح ، ایضاح وغیرہم جبکہ اس معنی کے مطابق کلام میں تأویل سے مراد نفس الأمور الموجودۃ فی الخارج ہوگا چاہے وہ ماضیہ ہوں یامستقبلہ ہوں لہٰذا اس معنی کے مطابق اس قول “طلعت الشمس” کی تأویل سے مراد “نفس طلوع الشمس” ہوگا
- التأويل عند المتأخرين من المتفقهة، والمتكلمة، والمحدِّثة والمتصوِّفة:
ان تمام کے نزدیک تأویل کا معنی یہ ہے کہ لفظ کومعنیٔ راجح سے معنیٔ مرجوح کی طرف پھیرنا ایسی دلیل کی بناء پر جو اسکے ساتھ مقترن ہو ۔ یہی وہ تأویل ہے جس پر علماء اصولِ فقہ اور مسائلِ خلاف میں کلام کرتے ہیں کہ جب علماء میں سے کوئی ایک کہتا ہے کہ “هذا الحديث – أو هذا النص – مُؤوَّل أو محمول على كذا”یعنی:یہ حدیث یا نص مؤوَّل ہے یا اس معنی پر محمول ہے تو دوسرا کہتا ہے کہ “هذا نوع تأويل والتأويل يحتاج إلى دليل” یعنی یہ تأویل کی ایک نوع ہے اور تأویل دلیل کی محتاج ہوتی ہے۔
اس معنی کے مطابق متأوِّل سے دو امور کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔
- کہ متأوِّ ل نے لفظ کو جس معنی پر محمول کیا ہے اس احتمال کو بیان کرے اور یہ دعوٰی کرے کہ وہی اسکی مراد ہے۔
- متأوِّل اس دلیل کو بیان کرے جسکے پیشِ نظر اس نے لفظ کو اس کے معنیٔ راجح سے پھیر کر معنیٔ مرجوح پر محمول کیا ہے وگرنہ اسکی تأویل فاسد ہوگی اور محض تلاعب بالنصوص ہوگا۔[24]
الفرق بین التفسیر والتأویل والنسبۃ بینھما:
علماء کا تفسیر و تأویل کے فرق کے مابین اختلاف ہے اسی طرح ان دونوں کے مابین نسبت کونسی ہے اس میں بھی اختلاف ہے جسکے بہت ثمرات ظاہر ہوئے ہیں ۔ جسکی تفصیل حسبِ ذیل ہے۔
- حضرت أبو عبیدہ اور علماء کے ایک گروہ نے کہا کہ: “التفسير والتأويل بمعنى واحد” یعنی دونوں متراد ف ہیں۔یہی وہ معنی ہے جو علماءِ تفسیر میں سے متقدمین کے نزدیک شائع ہے۔
- امام راغب اصفہانی نے فرمایا کہ ” التفسير أعم من التأويل”یعنی تفسیر تأویل سے اعم ہے ۔ تفسیر کا استعمال اکثر الفاظ میں ہوتا ہے جبکہ تأویل کا معانی میں جیساکہ تأویلِ رؤیا۔اسی طرح تأویل کا استعمال اکثر کتبِ الٰہیہ میں ہوتا ہے جبکہ تفسیر کا استعمال کتبِ الٰہیہ کے علاوہ دوسروں کتابوں میں بھی ہوتا ہے اسی طرح تفسیر کا استعمال اکثر مفرداتِ الفاظ میں ہوتا ہے جبکہ تأویل کا استعمال جملوں میں ہوتا ہے لہٰذا: تفسیر یا تو غریب الالفاظ میں استعمال ہوگی جیساکہ”بحیرہ، سائبۃ، وصیلۃ”یا مراد کی وضاحت اور اسکی شرح میں اس لفظ (تفسیر) کا استعمال ہوگا جیساکہ آیتِ کریمہ ﵟوَأَقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُواْ ٱلزَّكَوٰةَﵞ[25] کی وضاحت کیلئے ۔ یا اسکا استعمال ایسے کلام میں کیا جائے گا جو ایسے قصہ کو متضمن ہو جو محض اسکی معرفت کی صورت میں متصوَّر ہو۔ﵟإِنَّمَا ٱلنَّسِيٓءُ زِيَادَةٞ فِي ٱلۡكُفۡرِۖ ﵞ[26] اسی طرح فرمایا ﵟوَلَيۡسَ ٱلۡبِرُّ بِأَن تَأۡتُواْ ٱلۡبُيُوتَ مِن ظُهُورِهَاﵞ[27]جبکہ تأویل کبھی عام استعمال ہوتا ہے کبھی خاص۔جیسا کہ لفظ “الکفر”کہ یہ بعض اوقات جحودِ مطلق کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور بعض اوقات جحودِ باری خاصۃً میں۔اسی طرح لفظ “الایمان” بعض اوقات تصدیقِ مطلق کے معنی میں مستعمل ہوتا ہے اور بعض اوقات تصدیقِ دینِ حق کے معنی میں۔
- امام ماتریدی نے فرمایا کہ ” التفسير: القطع على أن المراد من اللفظ هذا، والشهادة على الله أنه عنى باللفظ هذا، فإن قام دليل مقطوع به فصحيح، وإلا فتفسير بالرأى، وهو المنهى عنه، والتأويل ترجيح أحد المحتملات بدون القطع والشهادة على الله” ترجمہ: تفسیر یہ ہے کہ اس بات کا یقین ہونا کہ اس لفظ سے یہ مراد ہے اور اللہ تعالی پر یہ گواہی دینا کہ رب تعالی کی مراد بھی اس لفظ سے یہی ہے ، پس اگر یقینی دلیل اس پر قائم ہو جائےتو یہ تفسیرِ صحیح ہوگی وگرنہ تفسیر بالرائے ہوگی جس سے منع کیا گیا ہے جبکہ تأویل
یہ ہے کہ کئی احتمالات میں سے ایک احتمال کو ترجیح دے دینا بغیریقین اور اللہ تعالی پر گواہی دینے کے۔
درج بالا تعریف کی روشنی میں تفسیر و تأویل کے مابین نسبت تباین کی ہوگی۔
- امام أبو طالب ثعلبی نے فرمایا کہ ” التفسير بيان وضع اللفظ إما حقيقة أو مجازاً، كتفسير “الصراط” بالطريق، و “الصَيِّب” بالمطر” ترجمہ: تفسیر یہ ہے کہ لفظ کے وضع کو بیان کیا جائے چاہے حقیقۃً ہو یا مجازًا جیساکہ لفظ “الصراط” کی تفسیر راستے کیساتھ اور ” الصَيِّب” کی تفسیر بارش کیساتھ جبکہ ” والتأويل تفسير باطن اللفظ، مأخوذ من الأول، وهو الرجوع لعاقبة الأمر” یعنی تأویل یہ ہے کہ لفظ کے باطنی معنی کی وضاحت کی جائے ۔ اور یہ لفظ ” الأول” سے نکلا ہے جسکا معنی معاملہ کے انجام کی طرف پلٹنا۔
درج بالا تعریف کی روشنی میں تفسیر کا معنی بنے گا دلیلِ مراد کی خبر دینا جبکہ تأویل کا معنی بنے گا حقیقتِ مراد کی خبر دینا کیونکہ لفظ مراد کو منکشف کرتا ہے اور کاشف دلیل ہوتی ہے جیساکہ فرمایا ﵟإِنَّ رَبَّكَ لَبِٱلۡمِرۡصَادِ ١٤ﵞ [28] اس آیتِ کریمہ کی تفسیر “رصد” سے ہوگی جیساکہ کہا جاتا ہے کہ ” رصدته أي رقبته”اس سے اسم آلہ کا صیغہ “مرصاد” آئے گا جبکہ اس آیت کی تاویل یہ ہوگی کہ رب تعالی کے حکمِ مبارک کی توہین کرنے اور اس کے حکمِ مبارک کے آگے سر تسلیمِ خم نہ کرنے سے بچنا ۔ درج بالا تعریف کی روشنی میں بھی دونوں کے مابین نسبت تباین کی ہوگی۔[29]

[1] سید محمد حسین ذھبی ، التفسیر والمفسرون ، ج 1، ص 12 ، مکتبہ وھبۃ، القاھرۃ
[2] القرآن الکریم، سورۃالفرقان، 33/25
[3] محمد بن مکرم افریقی، لسان العرب ، ج 5 ، ص 55 ، دار صادر- بیروت
[4] البرھان فی علوم القرآن، بدرالدین الزرکشی، ج 1 ، ص 13 ، دار احیاءالکتب العربیۃ
[5] جلال الدین السیوطی الشافعی، الاتقان فی علوم القرآن ،ج 4 ، ص 194، الھیئۃ المصریۃ العامۃ للکتاب
[6] القرآن الکریم، سورۃ الأنعام ، 6/82
[7] القرآن الکریم، سورۃ لقمان، 31/13
[8] جلال الدین السیوطی الشافعی، الاتقان فی علوم القرآن، ج 4 ، ص 197 ، الھیئۃ المصریۃ العامۃ للکتاب
[9] القرآن الکریم، سورۃ البقرۃ، 2/269
[10] عبدالرحمٰن بن محمد الرازی، تفسیر ابن أبی حاتم ، ج 2، ص 531 ، الرقم:۲۸۱۸، مکتبۃ نزار مصطفی الباز- المملکۃ العربیۃ السعودیۃ
[11] القرآن الکریم، سورۃ العنکبوت،29/43
[12] عبدالرحمٰن بن محمد الرازی، تفسیر ابن أبی حاتم ، ج 9، ص 3064 ، الرقم:۱۷۳۲۷، مکتبۃ نزار مصطفی الباز- المملکۃ العربیۃ السعودیۃ
[13] احمد بن حسین بیھقی، شعب الایمان،ج 3 ، ص 546 ، رقم الحدیث : ٢٠٩٢،مکتبۃالرشد للنشر و التوزیع للریاض
[14] جلال الدین السیوطی الشافعی، الاتقان فی علوم القرآن، ج 4 ، ص 198 ، الھیئۃ المصریۃ العامۃ للکتاب
[15] جلال الدین السیوطی الشافعی، الاتقان فی علوم القرآن، ج 4 ، ص199 ، الھیئۃ المصریۃ العامۃ للکتاب
[16] سید محمد حسین ذھبی ، التفسیر والمفسرون ، ج 1، ص 14 ، مکتبہ وھبۃ، القاھرۃ
[17] مجدالدین محمد بن یعقوب فیروزآبادی، القاموس المحیط، ص 963 ، مؤسسة الرسالة للطباعة والنشر والتوزيع، بيروت – لبنان
[18] محمد بن مکرم افریقی، لسان العرب ، ج 11 ، ص 32، دار صادر – بیروت
[19] القرآن الکریم، سورۃ آل عمران، 3/7
[20] القرآن الکریم، سورۃ النساء، 4/59
[21] القرآن الکریم، سورۃالأعراف 7/53
[22] القرآن الکریم، سورۃ یونس، 10/39
[23] القرآن الکریم، سورہ یوسف، 12/6
[24] سید محمد حسین ذھبی ، التفسیر والمفسرون ، ج 1، ص 15 ، مکتبہ وھبۃ، القاھرۃ
[25] القرآن الکریم، سورۃالبقرۃ، 2/43
[26] القرآن الکریم ، سورۃ التوبۃ، 9/37
[27] القرآن الکریم،سورۃ البقرۃ، 2/189
[28] القرآن الکریم، سورۃالفجر، 89/14
[29] سید محمد حسین ذھبی ، التفسیر والمفسرون ، ج 1، ص 16/17 ، مکتبہ وھبۃ، القاھرۃ
