دنیاے “غیرت” کا امام
سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے دافع بلا ہونے کا انکار کرنے والوں کو سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
“بالجملہ وہ تمہارے لیے دافع البلاء نہ سہی مگر لا واللہ ہمارا ٹهکانا تو ان کی بارگاهِ بیکس پناہ کے سوا نہیں:
منکر اپنا اور حامی ڈھونڈھ لیں
آپ ہی ہم پر تو رحمت کیجیے
بلکہ لا واللہ اگر بفرض غلط، بفرض باطل عالم میں ان سے جدا کوئی دوسرا حامی بن کر آئے بهی تو ہمیں اس کا احسان لینا منظور نہیں وہ اپنی حمایت اٹھا رکهے ہمیں ہمارے مولاے کریم جل جلالہ نے بے ہمارے استحقاق، بے ہماری لیاقت کے اپنے محبوب کا کرلیا اور اسی کی وجہِ کریم کو حمدِ قدیم ہے، اب ہم دوسرے کا بننا نہیں چاہتے، جس کا کهائیے اسی کا گائیے:
چو دل با دلبرے آرام گیرد
ز وصلِ دیگرے کَے کام گیرد
(یعنی جب ایک محبوب سے دل آرام پاتا ہے تو دوسرے کے وصل سے اسے کیا کام)
یا تو یوں ہی تڑپ کے جائیں یا وہی دام سے چھڑائیں
منتِ غیر کیوں اٹهائیں کوئی ترس جتائے کیوں
اے واہ دہ حبیب را کلیدِ ہمہ کار
باراں دُرود بر رخِ پاکش بار بار
دستے کہ بدامانِ کریمش زدہ ایم
زنہار بدست دیگرایش مسپار
(یعنی اے اللہ! اس حبیب کو ہر معاملے کی چابی عطا فرما، اس کے رخِ زیبا پر دُرود کی بارش برسا، جس ہاتھ سے ہم نے اس کا دامنِ کرم تهاما ہے ہرگز ہم کو دوسروں کا دست نگر نہ بنا)
تیرے ٹکڑوں سے پلے غیر کی ٹهوکر پہ نہ ڈال
جھڑکیاں کهائیں کہاں چهوڑ کے صدقہ تیرا
صلی اللہ تعالیٰ علیک وسلم وعلی آلک و صحبک وبارک و کرم، والحمد للہ رب العالمین!”
(فتاویٰ رضویہ جلد 30 صفحہ 475)
منقول
