نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے حاضرو ناظر ہونے سے کیا مراد ہوتا ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حاضر وناظر ہونے کا مطلب ومفہوم یہ ہے کہ:” نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جسم مبارک کے ساتھ روضہ اقد س میں تشریف فرما ہیں اورتمام کائنات آپ کے سامنے حاضر ہے،جب چاہیں نظرفرمالیں، کوئی چیز آپ سے چھپی ہوئی نہیں اوراللہ پاک کی عطاسے آپ جب چاہیں جہاں چاہیں تشریف لے جا سکتے ہیں ،اگر ایک ہی وقت میں متعدد مقامات پر تشریف لے جانا چاہیں تو یہ بھی ممکن ہے۔جیسے شب معراج سابقہ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کامعاملہ ہواکہ قبرمیں بھی ہیں اورمسجداقصی اورآسمانوں پربھی ملاقات ہوئی۔”
دلائل
آیتِ قراٰنی اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے:(اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ(۸))
تَرجَمۂ کنز الایمان:بے شک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشی اور ڈر سناتا۔(پ26، الفتح:8)
تفاسیر (1)حضرت علّامہ علاء الدّين علی بن محمد خازِن رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اے پیارے حبیب! بے شک ہم نے آپ کو اپنی اُمّت کے اَعْمال اور اَحْوال کا مُشاہَدہ فرمانے والا بناکر بھیجا تاکہ آپ قِیامت کے دن ان کی گواہی دیں اور دنیا میں ایمان والوں اور اطاعت گزاروں کو جنّت کی خوشخبری دینے والا اور کافروں، نافرمانوں کو جہنّم کے عذاب کا ڈر سنانے والا بناکربھیجا ہے۔(تفسیرخازن، پ26،الفتح، تحت الآیۃ:8،ج 4،ص146)
(2)اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:بیشک ہم نے تمھیں بھیجا گواہ اور خوشی اور ڈر سناتا کہ جو تمہاری تعظیم کرے اُسے فضلِ عظیم کی بَشارت دو اور جو مَعَاذَ اللہ بے تعظیمی سے پیش آئے اسے عذابِ اَلیم کا ڈر سناؤ، اور جب وہ شاہد وگواہ ہوئے اور شاہد کو مشاہدہ درکار، تو بہت مُناسِب ہوا کہ اُمّت کے تمام افعال و اقوال و اعمال و احوال اُن کے سامنے ہوں۔(اور اللہ پاک نے آپ کو یہ مرتبہ عطا فرمایاہے جیساکہ) طبرانی کی حدیث میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ہے: رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں:اِنَّ اللہ رَفَعَ لِیَ الدُّنْیَا فَاَنَا اَنْظُرُ اِلَیْھَا وَاِلٰی مَا ھُوَ کَائِنٌ فِیْھَا اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ کَاَنَّمَا اَنْظُرُ اِلٰی کَفِّیْ ھٰذِہٖ بے شک اللہکریم نے میرے سامنے دنیا اٹھالی تومیں دیکھ رہا ہوں اُسے اور جو اس میں قِیامت تک ہونے والا ہے جیسے اپنی اس ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوں۔(کنز العمال، جز:11،ج 6،ص189، حدیث:31968، فتاویٰ رضویہ،ج 15،ص168ملخصا)
آیتِ قراٰنی اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے:( وَ یَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْكُمْ شَهِیْدًاؕ-)
تَرجَمۂ کنزُ الایمان:اور یہ رسول تمہارے نگہبان و گواہ۔(پ 2، البقرۃ:143)
اس آیت کی تفسیر میں حضرت سیّدُنا امام ابنِ جَرِیر طَبَری رحمۃ اللہ علیہ نقل کرتے ہیں کہ حضرت سیّدُنا ابوسعید خُدْری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:وَ یَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْكُمْ شَهِیْدًاؕ–بِمَا عَمِلْتُمْ اَوْ فَعَلْتُمْ یعنی تم جو جو اعمال و افعال کرتے ہو رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اُن سب پر گواہ ہوں گے۔(تفسیر طبری، پ2، البقرۃ، تحت الآیۃ:143،ج 2،ص10، حدیث:2186)
احادیث مبارکہ: نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے کثیر فرامین میں ”حاضِر و ناظِر“ کا مفہوم موجود ہے مثلاً (1)حضرت سیّدُنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:بے شک اللہ پاک نے میرے لئے زمین کو سمیٹ دیا تو میں نے اس کے مشرقوں اور مغربوں (یعنی تمام جوانب و اطراف) کو دیکھ لیا۔(مسلم، ص1182، حدیث:7258) (2)حضرت سیّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حُضُور نبیِّ کریم، رءوفٌ رَّحیم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: اللہ پاک نے میرے سامنے دنیا پیش فرمادی، میں دنیا اور اس میں پیش آنے والے قِیامت تک کے واقعات کو اپنی اس ہتھیلی کی طرح دیکھ رہا ہوں۔(مجمع الزوائد،ج 8،ص510، حدیث:14067)

Hi, how have you been lately?