سوال:
الا ومن مات علی حب آل محمدمات شہیدا ۔۔۔ اس روایت کی تحقیق درکار ہے
جواب:
مذکورہ بالا روایت کئی کتب مثل تفسیر ثعلبی([1]) و ثعالبی([2]) و کشاف([3]) و رازی ([4]) و ابن عطیہ([5]) و روح البیان ([6]) و بحر مدید([7]) و منیر ([8])و قرطبی ([9]) و لباب الانساب و الالقاب و الاعقاب([10]) و رسائل مقریزی ([11]) وتخریج احادیث کشاف للزیلعی([12]) وغیرہ میں مذکور ہے ۔ لیکن ان تمام نے ہی مباشرۃ و بلا مباشرۃ ماخذ تفسیر ثعلبی ہی کو بنایا ہے ۔ لیکن نقا د آئمہ کرام مثل امام سخاوی و حافظ ابن حجر عسقلانی و حافظ ابن حجر ہیتمی وغیرہم رحمۃ اللہ علیہم اجمعین اس کو موضوع قرار دیتے ہیں ۔
آئمہ حدیث کی جانب سے روایت مذکورہ پر حکم :
چنانچہ شہاب الدین ، شیخ الاسلام ، ابو العباس ، احمد بن محمد بن علی بن حجر الہیتمی السعدی الانصاری (ت974ھ) رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب “الصواعق المحرقة على أهل الرفض والضلال والزندقة”کے تتمہ میں فرماتے ہیں : “أخرجه مبسوطا الثعلبي في تفسيره قال الحافظ السخاوي وآثار الوضع كما قال شيخنا أي الحافظ ابن حجر لائحة عليه”([13]) ترجمہ: اس روایت کو تفصیلا امام ثعلبی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میں روایت کیا ہے ، حافظ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ : اس روایت پر وضع کے آثار واضح ہیں جیسا کہ ہمارے شیخ یعنی حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے۔
اور تفسیر کشاف جو ابن منیر اسکندری اور امام زیلعی کے حاشیہ سے مذیل ہے اس کے حاشیے میں ہے کہ :” أخرجه الثعلبي: أخبرنا عبد الله بن محمد بن على البلخي حدثنا يعقوب بن يوسف بن إسحاق حدثنا محمد بن أسلم حدثنا يعلى بن عبيد عن إسماعيل بن قيس عن جرير- بطوله. وآثار الوضع عليه لائحة. ومحمد ومن فوقه أثبات. والآفة فيه ما بين الثعلبي ومحمد.” ([14]) ترجمہ: امام ثعلبی نے اس روایت کی تخریج کی ہے وہ فرماتے ہیں ہمیں عبد اللہ بن محمد بن علی البلخی نے خبردی ، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں یعقوب بن یوسف بن اسحاق نے حدیث بیان کی ، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں محمد بن اسلم نے حدیث بیان کی ، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں یعلی بن عبید نے اسماعیل بن قیس عن جریر کے طریق سے لمبی حدیث بیان کی ۔ اور اس روایت پر وضع کے آثار ظاہر ہیں ، اور محمد اور اس سے اوپر تمام راوی اثبات ہیں ، اور آفت اس روایت میں ثعلبی اور محمد کے درمیان ہے۔
اور خود امیر المومنین فی الحدیث حافظ الحدیث، شیخ الاسلام ، ابو الفضل احمد بن محمد بن حجر العسقلانی الشافعی (ت 852ھ) اپنی کتاب “الکافی الشاف فی تخریج احادیث الکشاف” میں سورۃ الشوری کی احادیث کی تخریج میں فرماتے ہیں: [حدیث354] من مات على حب أل محمد مات شهيدا- الحديث بطوله : الثعلبي أخبرنا عبد الله بن محمد بن علي البلخي حدثنا يعقوب بن يوسف بن اسحاق حدثنا محمد بن أسلم حدثنا يعلى بن عبيدعن أسماعيل بن قيس عن جرير – بطوله . و أثار الوضع عليه لائحة. و محمد و من فوقه أثبات. و الأفة فيه ما بين الثعلبي و محمد”([15]) ترجمہ: امام ثعلبی نے اس روایت کی تخریج کی ہے وہ فرماتے ہیں ہمیں عبد اللہ بن محمد بن علی البلخی نے خبردی ، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں یعقوب بن یوسف بن اسحاق نے حدیث بیان کی ، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں محمد بن اسلم نے حدیث بیان کی ، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں یعلی بن عبید نے اسماعیل بن قیس عن جریر کے طریق سے لمبی حدیث بیان کی ۔ اور اس روایت پر وضع کے آثار ظاہر ہیں ، اور محمد اور اس سے اوپر تمام راوی اثبات ہیں ، اور آفت اس روایت میں ثعلبی اور محمد کے درمیان ہے۔
ان نصوص سے درج ذیل امور ظاہر و باہر ہیں کہ :
- آثار وضع اس روایت پر ظاہر ہیں۔
- اس کی سند میں محمد بن اسلم ثقہ اور اس سے اوپر کے رواۃ بھی ثقہ ہیں ۔
- خرابی اس روایت میں ثعلبی اور محمد بن اسلم کے ما بین واقع ہے ۔
اگر سند محمد بن اسلم سے لے کر اوپر تک ثبت راویوں پر مشتمل ہے تو بقیہ تین راوی پیچھے رہے 1-محمد سے روایت کرنے والے یعقوب بن یوسف بن اسحاق، 2-یعقوب بن یوسف سے روایت کرنے والے عبدا للہ بن محمد بن علی البلخی، اور 3- امام ثعلبی۔
امام ثعلبی اور ان کی تفسیر پر تجزیہ :
امام ثعلبی کی تفسیر کے بارے میں الامام العلامہ السید الشریف محمد بن جعفر الکتانی(ت1345ھ) رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب “الرسالۃ المستطرفۃ لبیان مشہور کتب السنۃ المشرفۃ ” میں فرماتے ہیں:”و قد يوجد فيه من المعاني و الحكايات ما يحكم بضعفه أو وضعه”ترجمہ: اور اس (تفسیر ثعلبی )میں ایسے معانی اور حکایات پائی جاتی ہیں کہ جن پر ضعف یا وضع کا حکم دیا جاتا ہے ۔ پھر اس کے تھوڑا بعد تفسیر واحدی پر کلام کیا اور فرمایا: “و لم يكن له و لا لشيخه الثعلبي كبير بضاعة في الحديث، بل في تفسريهما وخصوصاالثعلبي أحاديث موضوعة و قصص باطلة” ([16]) ترجمہ:- اور امام واحدی اور ان کے شیخ امام ثعلبی کا حدیث میں پایہ بلند نہ تھا ، بلکہ ان کی تفسیروں میں خصوصا امام ثعلبی کی تفسیر میں منگھڑت حدیثیں اور باطل قصے ہیں۔
اور اسی طرح امام ابو الحسنات محمد عبد الحیی لکھنوی الہندی (ت 1304ھ)رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب “الاجوبۃ الفاضلۃ للاسئلۃ العشرۃ الکاملۃ” کے دوسرے سوال میں فرماتے ہیں کہ : “لما كان البغوي عالما بالحديث أعلم به من الثعلبي و الواحدي و كان “تفسيره ” مختصر “تفسير الثعلبي” : لم يذكر فى “تفسيره” شيئا من الأحاديث الموضوعة التي يرويها الثعلبي ، و لا ذكر تفاسير أهل البدع التي يذكرها الثعلبي . مع أن الثعلبي فيه خير و دين لكنه لا خبر له في الصحيح و السقيم من الأحادىث”([17])
ترجمہ-: جبکہ امام بغوی عالم بالحدیث ہیں اور فن حدیث میں امام ثعلبی و واحدی سے پایہ بلند رکھتے ہیں ، امام بغوی کی تفسیر امام ثعلبی کی تفسیر کا اختصار ہے ، امام بغوی نے اپنی تفسیر میں ان منگھڑت احادیث میں سے کوئی شئے ذکر نہیں کی کہ جن کو امام ثعلبی نے روایت کیا ، اور نہ ہی امام بغوی نے اہل بدعت کی ان تفاسیر کا ذکر کیا کہ جن کو امام ثعلبی نے ذکر کیا ہے ، باوجود اس بات کے کہ امام ثعلبی میں بھلائی اور دین ہے لیکن انہیں حدیث کے صحیح و سقیم کی پرکھ نہیں۔
نتیجہ:
مذکورہ بالا اقتباسات سے ہمیں چند امور سے آگاہی ہوتی ہے کہ:
- امام ثعلبی رحمۃ اللہ علیہ دین دار اور خیر والے شخص تھے۔
- امام ثعلبی نے اپنی تفسیر میں رطب و یابس کو جمع کر دیا ہے ۔
- امام ثعلبی کو علم حدیث میں وہ پایہ حاصل نہ تھا کہ جو دیگر نقاد آئمہ کو حاصل ۔
- امام ثعلبی رحمۃ اللہ علیہ کی تفسیر میں باطل قصے اور منگھڑت روایتیں موجود ہیں۔
- امام بغوی کی تفسیر امام ثعلبی کی تفسیر کا اختصار ہے اور امام بغوی نے اختصار میں اہل بدع اور موضوع و منگھڑت روایتوں کو ذکر نہیں کیا۔ اور اس روایت کو بھی امام بغوی نے اپنی تفسیر میں جگہ نہ دی۔
عبد الله بن محمد بن علي البلخي راوی پر تجزیہ:
یہ ابو علی عبد اللہ بن محمد بن علی البلخی (ت 295ھ) رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔
شیوخ : عبد اللہ بن محمد نے جن شیوخ سے استفاد کیا ان میں سے چند یہ ہیں ۔ 1-قتیبہ بن سعید 2- ابراہیم بن یوسف الفقیہ 3- علی بن حجر 4- ہدیہ بن عبد الوہاب ۔ اور ان کے طبقے کے علماء سے استفاد کیا۔
تلامذہ: آپ رحمۃ اللہ علیہ کے تلامذہ میں سے چند یہ ہیں : 1- ابو حامد بن الشرقی ، 2- ابو بکر احمد بن علی 3- ابن قانع ، 4- جعابی ، 5- ابو بکر الشافعی ، 6- بغاددۃ ، اور ان کے علاوہ اہل نیشاپور نے آپ سے استفادہ کیا۔
اقوال علماء:
- الامام العلامہ ابو بکر احمد بن علی بن ثابت بن احمد بن مہدی الخطیب البغدادی (ت 463ھ) رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ : ” كان أحد أئمة الحديث حفظا وإتقانا وثقة وإكثارا، وله تصانيف. “ترجمہ-: عبد اللہ بن محمد بن علی حفظ و اتقان و ثقاہت و اکثار کے اعتبار سے آئمہ حدیث میں سے ایک تھے، اور ان کی تصانیف بھی ہیں۔
- الامام ، العلامہ شمس الدین ابو عبد اللہ محمد بن احمد بن عثمان بن قایماز الذہبی (ت 748ھ) رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: “” الامام، الکبیر، حافظ بلخ” ترجمہ -: عبد اللہ بن محمد بن علی امام ہیں ، بہت بڑے ہیں ، شہر بلخ کے حافظ ہیں۔
- الامام العلامہ ابو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ بن حمدویہ بن نعیم ابن البیع الحاکم (ت 405ھ) رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں امام شمس الدین ابو عبد اللہ محمد بن احمد بن عثمان بن قایماز الذہبی (ت 748ھ) لکھتے ہیں کہ : “عظمه الحاكم وفخمه.” امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ عبد اللہ بن محمد بن علی البلخی (ت 295ھ) کی تعظیم و توقير كرتے تھے۔ ([18])
نتیجہ:
ان تمام آئمہ کرام کی اس راوی ابو علی عبد اللہ بن محمد بن علی البلخی (ت 295ھ) کے بارے میں رائے یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ راوی ثقہ ہیں ثبت ہیں حافظ ہیں۔
يعقوب بن يوسف بن إسحاق :
یہ یعقوب بن یوسف بن اسحاق بن ابراہیم بن یعقوب بن الضحاک ، ابو عمرو القزوینی
شیوخ :1- قاسم بن الحکم العرنی ، 2- محمد بن سعید بن سابق وغیرہما
تلامذہ : 1-محمد بن مخلد ، 2- محمد بن العباس بن نحیح البزار، 3- عبد الصمد بن علی الطستی ، 4-ابو بکر الشافعی ۔
- الامام العلامہ ابو بکر احمد بن علی بن ثابت بن احمد بن مہدی الخطیب البغدادی (ت 463ھ) رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ : ” و كان ثقة. “ترجمہ-: يعقوب بن يوسف بن اسحاق بن ابراہیم ابو عمرو القزوینی ثقہ ہیں ۔ ([19])
نتیجہ:
یہ راوی یعقوب بن یوسف بن اسحاق بن ابراہیم ثقہ ہیں۔ لیکن ان کے سن پیدائش و وصال کی خبر نہ ہو سکی ۔
تجزیہ :
نصوص آئمہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ یہ روایت منگھڑت ہے ۔منگھڑت ہونے کی علامات کے بارے میں فرمایا کہ ظاہر ہیں ۔ پھر فرمایا گیا کہ آفت اس میں امام ثعلبی اور محمد کے مابین ہے ۔ امام ثعلبی کے شیخ عبد اللہ بن محمد بن علی البلخی ثقہ ہیں اور ان کے شیخ یعقوب بن یوسف بن اسحاق بھی ثقہ ہیں ۔تو آخر وہ کونسی آفت ہے اور کہاں ہے وہ کونسی علامات ہیں کہ جن کی بنیاد پر اسے موضوع قرار دیا گیا ہے ۔
روایت کی سند پر آفت کا اطلاق کیوں؟
- امام ثعلبی رحمۃ اللہ علیہ کا سن وصال 427ھ ہجری لکھا ہے جبکہ ان کے شیخ عبد اللہ بن محمد بن علی البلخی کا سن وصال 295ھ لکھا ہے ۔ یعنی امام ثعلبی اپنے شیخ کے وصال کے 132 سال بعد تک حیات رہے ۔ اگرچہ کے ہمیں باوجود تلاش امام ثعلبی کا سن پیدائش معلوم نہ ہو سکا لیکن قرین قیاس یہی ہے کہ اگر انہوں نے یہ روایت اپنے شیخ سے شیخ کے وصال ہونے کے سال میں بھی سنی تو اس وقت ان کی عمر علی الاقل 5 سے 7برس کی رہی ہو گی ، جس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ امام ثعلبی نے کم و بیش 137 سال کے قریب عمر پائی ہو گی ۔ لیکن چونکہ امام ثعلبی کے سن پیدائش کا علم نہیں تو لہذا انقظاع ممکن ہے ۔
- اسی طرح شیخ عبد اللہ بن محمد بن علی البلخی کا سن پیدائش اور ان کے شیخ یعقوب بن یوسف بن اسحاق کا سن وصال و پیدائش معلوم نہیں جس کی بناء پر اتصال کا علم نہیں ۔ جس کی بناء پر انقطاع ممکن ہے ۔
- سندی اعتبار سے یہی وہ وجوہات ہیں کہ جن کے بارے میں آئمہ کرام نے فرمایا کہ ان پر وضع کے آثار ظاہر ہیں اور جس آفت کی طرف اشارہ فرمایا کہ : آفت ثعلبی اور محمد کے مابین ہے قرین قیاس یہی ہے کہ وہ آفت یہی اتصال کا نہ ہونا ہے۔
روایت کے متن پر وضع کی علامتیں ہیں :
- ہر مسلمان سنی صحیح العقیدہ ہر حال میں محبت اہل بیت سے سرشار ہوتا ہے ، کیونکہ مطالبہ قرآنی ہے کہ “قل لا أسئلكم عليه أجرا ألا المودة في القربي” اور ہر مسلمان صحیح العقیدہ ہر حال میں محبت اہل بیت کا دم بھرتا ہے جبکہ اس پر شہید ہونے کا اطلاق نہیں ہوتا ۔ اسی طرح تاریخی اسلامی میں جب بھی کوئی صحیح العقیدہ مسلمان شہادت کے علاوہ عام کسی مرض یا بغیر مرض کے فوت ہوا تو اس پر شہید کا اطلاق نہیں کیا گیا۔ اس روایت کو قبول کرنے کی صورت میں ہر صحیح العقیدہ اور وہ بد عقیدہ لوگ جو محب اہل بیت کے دعوے دار ہیں ان کو شہید ماننا پڑے گا۔
- امام اہلسنت امام احمد رضا خان الہندی البریلوی (ت1340ھ)رحمۃ اللہ علیہ وضع کی صریح علامات میں سے ایک علامت جس کی بنیاد پر روایت کی وضعیت کا پتہ چلتا ہے بیان کرتے ہیں : “یا خبر کسی ایسے امر کی ہوکہ اگر واقع ہوتا تو اُس کی نقل وخبر مشہور ومستفیض ہوجاتی، مگر اس روایت کے سوا اس کا کہیں پتا نہیں۔([20]) “اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ خبر شہادت کی ہو اور اسے کسی کتاب معتبر میں روایت ہی نہ کیا گیا ہو ، اسی طرح اس کی نقل مشہور ہی نہ ہو ۔ تو اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت موضوع ہے ۔
- اسی طرح وضع کی صریح علامات میں سے ایک علامت یہ بیان فرمائی کہ :” یا کسی حقیر فعل کی مدحت اور اس پر وعدہ وبشارت یا صغیر امر کی مذمّت اور اس پر وعید وتہدید میں ایسے لمبے چوڑے مبالغے ہوں جنہیں کلام معجز نظام نبوت سے مشابہت نہ رہے۔ “([21]) اب اگر اس روایت پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ : جس امر پر حکم شہادت ہے وہ محض “محبت اہل بیت” ہے ، اور اس امر کا حکم “شہادت” ہے ، اور ظاہر کہ شہادت بہت بڑی بشارت ہے جبکہ جس بنیاد پر شہادت ہے وہ بنیاد محض امر قلبی کہ جو خالی عن المشقت ہے ایک معمولی سا فعل قلب ہے ، اور نص آئمہ سے ثابت کہ معمولی سے فعل کی مدحت پر وعدہ و بشارت میں لمبے چوڑے مبالغے ہیں جنہیں سرکار اقدس صلی اللہ علیہ و سلم کے کلام سے ذرا مشابہت نہیں۔
نتیجہ:
آئمہ کرام کی نصوص اور سند و متن کی حیثیت سے یہ روایت باطل و منگھڑت ہے ۔ واللہ اعلم و رسولہ اعلم جل جلالہ و صلی اللہ علیہ و سلم.
راقم الحروف: قاسم چوہدری
11/11/2024ء ۔ ۔ ۔ بروز پیر شریف
[1] –الكشف والبيان عن تفسير القرآن، للثعلبی ،سورۃ الشوری، 8/314، تحت رقم الایہ : 23، الناشر: دار إحياء التراث العربي، بيروت – لبنان، الطبعة: الأولى 1422، ھـ – 2002 م
[2] –الجواھر الحسان في تفسير القرآن، للثعالبی ، سورۃ الشوری ، 5/157 تحت رقم الآیۃ : 23، الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت، الطبعة: الأولى – 1418 ھـ
[3] –الكشاف عن حقائق غوامض التنزيل، للزمخشری، سورۃ الشوری، 4/220، تحت رقم الآیۃ: 23، الناشر: دار الكتاب العربي – بيروت، الطبعة: الثالثة – 1407 ھـ
[4] –مفاتيح الغيب = التفسير الكبير، للرازی، سورۃ الشوری ، 27/295، تحت رقم الآیۃ: 23، الناشر: دار إحياء التراث العربي – بيروت، الطبعة: الثالثة – 1420 ھـ
[5] –المحرر الوجيز في تفسير الكتاب العزيز، لابن عطیہ ، سورۃ الشوری، 5/34، تحت رقم الآیۃ: 23، الناشر: دار الكتب العلمية – بيروت، الطبعة: الأولى – 1422 ھـ
[6] –روح البيان، للحقی، سورۃ الشوری، 8/312، تحت رقم الآیۃ: 23، الناشر: دار الفكر – بيروت
[7] –البحر المديد في تفسير القرآن المجيد، لابن عجیبۃ ، سورۃ الشوری، 5/212، تحت رقم الآیۃ: 23، الناشر: الدكتور حسن عباس زكي – القاھرة، الطبعة: 1419 ھـ
[8] –التفسير المنير في العقيدة والشريعة والمنھج، للوہبہ الزحیلی، سورۃ الشوری، حتمیۃ الجزاء للمومنین و الظالمین، فقہ الحیاۃ و الاحکام، 25/64، الناشر : دار الفكر المعاصر – دمشق، الطبعة : الثانية ، 1418 ھـ
[9] –الجامع لأحكام القرآن = تفسير القرطبي، للقرطبی، سورۃ الشوری ، 16/23، تحت رقم الآیۃ: 23، الناشر: دار الكتب المصرية – القاھرة، الطبعة: الثانية، 1384ھـ – 1964 م
[10] –لباب الأنساب والألقاب والأعقاب، لابن فندمہ ، الآيات الواردة في النسب وفضيلتہ، 1/216، الناشر: مکتبۃ آیۃ اللہ العظمی المرعشی النجفی الکبری، الطبعۃ الثانیۃ: 1428ق
[11] –رسائل المقريزي، للتقی الدین المقریزی، 1/208، فصل فی تفسیر آیۃ التطہیر، الناشر: دار الحديث، القاهرة، الطبعة: الأولى، 1419 ھـ
[12] — تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في تفسير الكشاف للزمخشري، للزیلعی ، سورۃ الشوری، 3/238، الحدیث الخامس، رقم الحدیث: 1147، الناشر: دار ابن خزيمة – الرياض، الطبعة: الأولى، 1414ھـ
[13] –الصواعق المحرقة على أھل الرفض والضلال والزندقة، لابن حجر، تتمة في أبواب منتاة من كتاب للحافظ السخاوي، 2/664، الناشر: مؤسسة الرسالة – لبنان، الطبعة: الأولى، 1417ھـ – 1997م
[14] –الكشاف عن حقائق غوامض التنزيل ، الكتاب مذيل بحاشية (الانتصاف فيما تضمنه الكشاف) لابن المنير الإسكندري (ت 683) وتخريج أحاديث الكشاف للإمام الزيلعى] سورۃ الشوری ، 4/220، تحت رقم الٓایۃ : 23، الناشر: دار الكتاب العربي – بيروت، الطبعة: الثالثة – 1407 ھـ
[15] –الکافی الشاف فی تخریج احادیث الکشاف ، لابن حجر ، 1/145، رقم الحدیث :354، الناشر: مجہول ، و المخطوطۃ من مکتبۃ الاستاذالدکتور محمد بن ترکی الترکی ، ص 74، مکتبۃ شکبۃ الالوکۃ۔ و نسخۃ اخری من مخطوطۃ ص 93، من مکتبۃ الاحمدیہ بالجامع الاعظم ، معہد المخطوطات العربیہ بالکویت۔
[16] –الرسالۃ المستطرفۃ لبیان مشہور کتب السنۃ المشرفۃ ، لمحمد بن جعفر الکتانی ، کتب فی التفسیر ذکرت فیہا احادیث و آثار باسانیدہا ، 1/78، 79، الناشر: دار البشائر الاسلامیۃ ، الطبعۃ الخامسۃ 1414ھ-1993م-
[17] –الاجوبۃ الفاضلۃ للاسئلۃ العشرۃ الکاملۃ ، للکنوی ، السوال الثانی فی کیفیۃ احادیث السنن الاربعۃ ۔۔۔ 1/82، 83، الناشر: دار الکتب للنشر و التوزیع بشاور ۔ تاریخ النشر: 1339ھ- 2018م۔
[18] –سیر اعلام النبلاء ، للذہبی، الطبقۃ السادسۃ عشر، البلخی، 10/516، رقم الترجمۃ: 2477، الناشر: دار الحديث- القاھرة، الطبعة: 1427ھـ-2006م
[19] –تاريخ بغداد وذيوله، للخطیب البغدادی، باب الیاء ، ذکر من اسمہ یعقوب، 14/288، رقم الترجمۃ: 7583، الناشر: دار الكتب العلمية – بيروت، الطبعة: الأولى، 1417 ھـ
[20] –العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویہ ، منیر العین، افادہ دہم ، 5/463، الناشر: رضا فاونڈیشن لاہور، اشاعت: 1414ھ، -1993ء
[21] — العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویہ ، منیر العین، افادہ دہم ، 5/463، الناشر: رضا فاونڈیشن لاہور، اشاعت: 1414ھ، -1993ء