کیا آپ بوتل یعنی کولڈ ڈرنک شوق سے پیتے ہیں؟
کیا آپ بوتل یعنی کولڈ ڈرنک شوق سے پیتے ہیں؟
(ایک پاکستانی ماہنامے (جون 2011ء) کا مضمون بتصرف)
میٹھے میٹھے مدنی منو اور منیو! کیا آپ بوتل (COLD DRINK) شوق سے پیتے ہیں؟ اگر جواب “ہاں” میں ہے تو ٹھہریئے! پہلے اس کی تباہ کاریوں پر ایک اچٹتی (یعنی سرسری) نظر ڈال لیجئے، پھر وہ فیصلہ کیجئے، جس میں آپ کیلئے دنیا اور آخرت کی بھلائیاں ہوں۔ بوتل یعنی کولڈ ڈرنک کا سب سے بڑا جز (حصہ PART) مٹھاس ہے۔ مٹھاس یا تو چینی (SUGAR) سے حاصل کی جاتی ہے یا سکرین (SACCHARIN) سے جو کہ سفید رنگ کا مصنوعی سفوف (یعنی نقلی پاؤڈر) ہے اور چینی سے تقریباً 300 سے لے کر 500 گنا میٹھا ہوتا ہے! جن بوتلوں میں چینی استعمال کی جاتی ہے ان میں چینی (SUGAR) کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جیسا کہ فیضان سنت جلد اول صفحہ 712 پر ہے: “250 ملی لیٹر کی ایک بوتل میں تقریباً سات چمچ چینی (SUGAR) ہوتی ہے۔” چینی (SUGAR) والی کولڈ ڈرنک پینے سے دانتوں اور ہڈیوں کو نقصان پہنچنے، خون میں شوگر کی مقدار بڑھنے، دل اور جلد (SKIN) کے امراض پیدا ہونے کے امکانات بڑھتے ہیں نیز اس سے “موٹاپا” بھی آتا ہے۔
سکرین والی چیزوں کا استعمال اور کینسر
امریکی ادارے F.D.A. کو سکرین والی غذاؤں کے بارے میں ہزاروں شکایات موصول ہوئیں۔ محققین کا خیال ہے کہ امریکی عوام میں کینسر کی زیادتی سکرین والی چیزوں کے استعمال کی وجہ سے ہے۔ سکرین پر تو بعض ممالک میں پابندی لگا دی گئی ہے۔ سکرین کے استعمال سے مثانے کا کینسر ہونے کی اطلاعات ہیں۔
کولڈ ڈرنک کے شوقین کے دانتوں کی بربادی
کولڈ ڈرنک چینی (SUGAR) والی ہو یا “شوگر فری” دونوں ہی صورتوں میں صحت انسانی کیلئے نقصان دہ ہے۔ برطانیہ کے اندر 1992ء میں بچوں کے دانتوں کے بارے میں کئے جانے والے سروے (SURVEY) سے یہ بات سامنے آئی کہ کولڈ ڈرنک کے شوقین 20% بچوں (یعنی ہر پانچویں بچے) کے دانتوں کی حفاظتی تہ ختم ہو چکی ہے۔ چوہوں پر تجربہ کیا گیا اور ان کو کولڈ ڈرنکس پلائی گئیں تو چوہوں کے دانت چھ ماہ میں گھس گئے۔ ایک “کولا ڈرنک” کی بوتل میں ایک انسانی دانت رکھا گیا تو وہ دانت نرم اور بھربھرا ہو گیا۔
کولڈ ڈرنکس سے ہاضمے کی تباہی
زنگ آلود چیزیں صاف کرنے کے لئے استعمال کیا جانے والا “فاسفورک ایسڈ” کولڈ ڈرنکس میں ڈالا جاتا ہے، اس طرح معدے میں تیزابیت پیدا ہوتی ہے، ہضم کا عمل سست پڑتا ہے اور غذا دیر سے ہضم ہوتی ہے۔
کولڈ ڈرنکس میں گندی گیس ہوتی ہے
کولڈ ڈرنکس میں گندی گیس، “کاربن ڈائی آکسائیڈ” شامل کی جاتی ہے جس سے بلبلے اٹھتے ہیں، ان سے عارضی طور پر لذت ضرور محسوس ہوتی ہے لیکن یہ بلبلے اس گندی اور زہریلی گیس کے ہیں جسے ہم سانس کے ذریعے خارج کرتے ہیں۔ اس خطرناک گیس کو کولڈ ڈرنکس کے ذریعے بدن کے اندر لے جانا بالکل غیر فطری (UNNATURAL) عمل ہے۔ کولڈ ڈرنکس پینے کا مقابلہ جیتنے والا زندگی کی بازی ہار گیا!
ایک بار ہند (INDIA) میں زیادہ بوتلیں پینے کا مقابلہ ہوا، اس میں 8 بوتلیں پینے والا مقابلہ جیت گیا۔ مگر زندگی کی بازی ہار گیا کیوں کہ کچھ ہی دیر بعد وہ موت کا شکار ہو گیا! اس کی موت کا سبب یہ بتایا گیا کہ اس کے جسم میں “کاربن ڈائی آکسائیڈ” بہت زیادہ مقدار میں جمع ہو گئی تھی۔
قرآنی دعائیں حصہ اول

کولڈ ڈرنکس اور 6 طرح کے کینسر
سیاہی مائل مشروبات یعنی کولا ڈرنکس میں کیفین (CAFFEINE) شامل ہوتی ہے۔ اس سے شروع میں چستی پیدا ہوتی ہے مگر بعد میں سستی آجاتی ہے۔ کیفین کے غیر ضروری اور زیادہ استعمال سے حافظہ کمزور ہوتا اور غصہ بڑھتا ہے، دل کی دھڑکن کی بے قاعدگی اور ہائی بلڈ پریشر کا مرض جنم لیتا ہے نیز پیٹ کے اندر زخم بنتے ہیں، علاوہ ازیں کولڈ ڈرنکس پینے والے لوگوں کے بچوں میں پیدائشی خامیاں بھی دیکھی گئی ہیں۔ (مثلاً بچے کا بہت زیادہ کمزور، پاگل یا اندھا ہونا یا اس کے ہاتھ پاؤں وغیرہ بے کار ہونا وغیرہ وغیرہ) ایک بہت بڑی تشویش ناک بات یہ بھی ہے کہ کولڈ ڈرنکس کے استعمال سے 6 قسم کے کینسر پیدا ہوتے ہیں جن میں پیٹ اور مثانے کے کینسر کی مقدار زیادہ ہے۔ کولا ڈرنکس پینے والے بچوں کے جسم سے کیلشیم زیادہ مقدار میں خارج ہوتا ہے۔ (کیلشیم کی کمی ہڈیوں وغیرہ کیلئے سخت نقصان دہ ہوتی ہے)
سانس کی تکلیف اور گھبراہٹ
کولڈ ڈرنکس جلد خراب نہ ہو اس لئے اس میں “سلفر آکسائیڈ” یا “سوڈیم بنزانک ایسڈ” شامل کیا جاتا ہے، ان دونوں کیمیکلز کے استعمال سے سانس کی تکلیف، جلد (SKIN) پر خارش اور گھبراہٹ کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ نیز کولڈ ڈرنکس میں کیمیاوی رنگ بھی ڈالے جاتے ہیں جن کے اپنے نقصانات ہیں۔
رہوں مست و بے خود میں تیری ولا میں پلا جام ایسا پلا یا الٰہی (وسائل بخشش ص 78)
صلوا علی الحبیب! صلی اللہ تعالیٰ علیٰ محمد
چینی میٹھا زہر ہے
دنیا بھر میں چینی (SUGAR) کا استعمال ہے، جسم انسانی کو ایک مخصوص مقدار میں اس کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ روٹی چاول، سبزی اور پھلوں وغیرہ کے ذریعے عموماً پوری ہو جاتی ہے، اس کیلئے “سفید چینی” یا اس کی ڈشیں استعمال کرنا ضروری نہیں ہوتا، ہاں جو (LOW SUGAR کا) مریض ہو اسے ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق شوگر کا استعمال کرنا ہو گا۔ اصول یہ ہے کہ کوئی بھی چیز اگر ضرورت سے زیادہ استعمال کی جائے تو وہ نقصان پہنچاتی ہے، آج کل چینی کا استعمال ضرورت سے زیادہ ہونے لگا ہے اور غیر ضروری اشیاء کے ذریعے چینی بدن میں انڈیلی جا رہی ہے۔ مثلاً بوتلوں، آئس کریموں، شربتوں، مٹھائیوں، ٹافیوں، میٹھی ڈشوں وغیرہ کا استعمال عموماً غذا نہیں، اضافی طور پر محض تفریحاً کیا جاتا ہے اور ایسا کرنا اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے پاؤں پر کلہاڑا چلانے کے مترادف ہے۔ چینی کے زیادہ استعمال کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ “انسولین” کی مقدار خون میں بڑھا دیتی ہے جس سے “گروتھ ہارمونز” یعنی وہ ہارمونز جو جسم کی نشوونما اور بڑھوتری کے ذمے دار ہوتے ہیں ان کی پیداوار رک جاتی ہے، جس سے جسم کا دفاعی (یعنی بیماریوں سے مقابلہ کرنے کا) نظام کمزور ہو جاتا ہے، انسولین جسم میں چکنائی کا ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھا دیتی ہے جس سے بدن کا وزن بڑھ جاتا اور موٹاپا آتا ہے۔

