((عرائس البیان فی حقائق القرآن))
مؤلف علیہ الرحمۃ اپنی اس کتاب میں نمطِ واحد اختیار فرمایا ہے ۔ اور تفسیرِ ظاہری کے درپے بالکل نہیں ہوئے اگرچہ انکا اعتقاد یہ ہے کہ اولاً تفسیرِ ظاہری کا ہونا ضروری ہے ۔ اس پر دلیل مصنف علیہ الرحمۃ کا یہ قول ہے “ولما وجدتُ أن كلامه الأزلى لا نهاية له فى الظاهر والباطن، ولم يبلغ أحد إلى كماله وغاية معانيه، لأن تحت كل حرف من حروفه بحراً من بحار الأسرار، ونهراً من أنهار الأنوار، لأنه وصف القديم، وكمال لا نهاية لذاته ولا نهاية لصفاته.. قال الله تعالى: {وَلَوْ أَنَّمَا فِي الأرض مِن شَجَرَةٍ أَقْلَامٌ والبحر يَمُدُّهُ مِن بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمَاتُ الله} [لقمان: ٢٧] ، وقال: {قُل لَّوْ كَانَ البحر مِدَاداً لِّكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ البحر قَبْلَ أَن تَنفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي} [الكهف: ١٠٩] ، فتعرضتُ أن أغرف من هذه البحور الأزلية غرفات من حكم الأزليات، والإشارات والأبديات، التى تقصر عنها أفهام العلماء وعقول الحكماء، اقتداءً بالأولياء، وأُسوة بالخلفاء، وسُنَّة للأصفياء، وصنَّفتُ فى حقائق القرآن، ولطائف البيان، وإشارة الرحمن فى القرآن، بألفاظ لطيفة وعبارات شريفة، وربما ذكرت تفسير آية لم يفسِّرها المشايخ، ثم أردفتُ بعد قولى أقوال مشايخى مما عباراتها ألطف، وإشاراتها أظرف ببركاتهم، وتركتُ كثيراً منها ليكون كتابى أخف محملاً وأحسن تفصيلاً، واستخرتُ الله تعالى فى ذلك، واستعنتُ به، ليكون موافقاً لمراده، ومواطئاً لسُنَّة رسوله وأصحابه وأولياء أُمَّته، وهو حسبى وحسب كل ضعيف.. وسميته بـ “عرائس البيان فى حقائق القرآن”[1]
ترجمہ: جب میں نے پایا کہ اللہ تعالی کے کلامِ ازلی کی کوئی انتہاء نہیں ہے ظاہر و باطن میں، اور کوئی شخص اسکے کمال اور معانی کی انتہاء تک نہ پہنچ سکاکیونکہ کلامِ باری تعالی کے حروف میں سے ہر ہر حرف کے تحت رازوں کے سمندروں میں سے سمندر ہیں اور انوار کی نہروں میں سے نہر ہیں کیونکہ یہ (کلام) قدیم کا وصف ہے اور ایسا کمال ہے جسکی نہ ذات کی کوئی نہایت ہے اور نہ صفات کی انتہاء ہے جیساکہ اللہ تعالی نے فرمایا (( اور اگر زمین میں جتنے پیڑ ہیں سب قلمیں ہو جائیں اورسمندر اسکی سیاہی ہو اسکے پیچھے سات سمندر اور تو اللہ کی باتیں ختم نہ ہوں گی))اور فرمایا (( تم فرمادو اگر سمندر میرے رب کی باتوں کیلئے سیاہی نہ ہو تو ضرور سمندر ختم ہو جائے گا او ر میرے رب کی باتیں ختم نہ ہونگی))پس میں اس چیز کے درپے ہوا کہ ان ازلی سمندروں میں سے کچھ ازلیاتی، اشاراتی اور أ بدیاتی چلو لے لوں، وہ جن سے علماء کی فہمیں اور حکماء کی عقلیں قاصر آچکی ہیں ،اولیائے کرام رضی اللہ عنہم کی اقتداء کرتے ہوئے اور خلفاء رضی اللہ عنہم کے أسوۃ کو اپناتے ہوئے اور چنے ہوئے بندگان کے طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے اور میں نے قرآن کے حقائق، بیان کے لطائف اور رحمٰن کے قرآن میں اشاروں پر مشتمل تصنیف لکھی جوکہ الفاظِ لطیفہ اور عباراتِ شریفہ سے مزین ہے اور بعض مقامات میں میں نے کسی آیت کی وہ تفسیر کی ہے جو مشائخ نے نہیں کی پھر میں نے اپنے قول کے بعد اپنے مشائخ کے اقوال کو ذکر کیا ہے ،ان اقوال کو جو الطف ہوتے تھے اور انکے ان اشارات کو جو انکی برکت سے سرشار ہوتے تھے ، اور میں نے ان میں سے کثیر اقوال کو چھوڑ دیا ہے تاکہ تاکہ میری یہ کتاب محمل کے لحاظ سے خفیف ہو اور تفصیل کے لحاظ سے زیادہ حسین ہواور میں نے
اس بارے میں اللہ تعالی کی بارگاہ میں استخارہ کیااور اسکی مدد چاہی تاکہ (میری یہ کتاب)رب تعالی کی مراد کے موافق ہو جائے اور اسکے رسول ﷺ اور اصحاب و امت کے اولیاء رضی اللہ تعالی عنہم کی سنت کی موافقت کرنے والی بن جائے اور وہ مجھے کافی ہے اور ہر ضعیف کو کافی ہے اور میں نے اس کتاب کو “عرائس البیان فی تفسیرالقرآن”سے موسوم کیا ہے۔
اس مقدمہ سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مصنف علیہ الرحمۃقرآن کے معانیٔ ظاہرہ کے معترف ہیں اوریہ کہہ رہے ہیں کہ انکی کتاب میں جو کچھ لکھا گیا ہے یہ حقائقِ قرآن میں سے کچھ حقائق ہیں اور وہ اشارات ہیں جو ان کیلئے اللہ تعالی کیطرف سے واضح و روشن ہوئے ہیں جیساکہ انکی کتاب میں یہ وصف بخوبی دیکھا جا سکتا ہے اور اس مسلک کو بھی دیکھا جا سکتا ہے جو انہوں نے اختیار کیا ہے۔
یہاں ایک بات قابلِ غور ہے کہ مصنف علیہ الرحمۃ کا یہ کہنا ” ليكون موافقاً لمراده، ومواطئاً لسُنَّة رسوله وأصحابه وأولياء أُمَّته”اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انکا ارادہ یہ تھا کہ اپنی کتاب میں محض ان معانی کا ذکر کریں جو کتاب اللہ کی تفسیر اور اسکے بیان کی مراد بن سکیں ۔ لیکن یہ بات قابلِ تسلیم نہیں ہے کیونکہ وہ معانیٔ غریبہ جو وہ اپنی تفسیر میں لے کرآئے ہیں ، ممکن نہیں ہے کہ یہ لفظِ قرآنی کے مدلول کے تحت داخل ہوں اور یہ بات معقول نہیں ہے کہ اللہ تعالی کا اپنے خطاب سے افرادِ امت کیلئے مراد یہ ہو۔
حقائق التفسیر (للسلمی) متعلقہ تحریر
بعض نموذج التفسیر:
- سورۃ توبہ میں اس آیتِ کریمہ ﵟلَّيۡسَ عَلَى ٱلضُّعَفَآءِ وَلَا عَلَى ٱلۡمَرۡضَىٰ وَلَا عَلَى ٱلَّذِينَ لَا يَجِدُونَ مَا يُنفِقُونَ حَرَجٌ إِذَا نَصَحُواْ لِلَّهِ وَرَسُولِهِۦۚ مَا عَلَى ٱلۡمُحۡسِنِينَ مِن سَبِيلٖۚ وَٱللَّهُ غَفُورٞ رَّحِيمٞ ٩١ﵞ[2]کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ:
“وصف الله زُمرة أهل المراقبات، ومجالس المحاضرات، والهائمين فى المشاهدات. والمستغرقين فى بحار الأزليات، الذين أنحلوا جسومهم بالمجاهدات، وأمرضوا نفوسهم بالرياضات، وأذابوا قلوبهم بدوام الذكر، وجولانها فى الفكر، وخرجوا بعقائدهم الصافية، عن الدنيا الفانية بمشاهدته الباقية، بأن رفع عنهم بفضله حَرَج الامتحان، وأبقاهم فى مجلس الأُنس ورياض الإيقان، وقال: {لَّيْسَ عَلَى الضعفآء} يعنى الذين أضعفهم حمل أوقار المحبة، {وَلَا على المرضى} الذين أمرضهم مرارة الصبابات، {وَلَا عَلَى الذين لَا يَجِدُونَ مَا يُنفِقُونَ} الذين يتجردون عن الأكوان بتجريد التوحيد وحقائق التفريد، {حَرَجٌ} : عتاب من جهة العبودية والمجاهدة، لأنهم مقتولون بسيف المحبة، مطروحون بباب الوصلة، ضعفهم من الشوق، ومرضهم من الحب، وفقرهم من حسن الرضا”
ترجمہ: اللہ تبارک و تعالی نے أہلِ مراقبات اور محاضرات کے مجالس اور مشاہدات میں مستغرق لوگوں اور ازلیات کے بحار میں مستغرق لوگوں کے زمرہ کو موصوف فرمایا وہ جنہوں نے اپنے اجسام کو مجاہدات میں صرف کیا اور اپنے نفوس کو ریاضات میں خرچ کیا اور ذکر کی ہمیشگی کیساتھ اپنے دلوں کو جاری کیا ، اور فکر میں جولان فرمایا ، اور اپنے پاک عقائد کو فانی دنیا سے اپنے باقی مشاہدہ کے ذریعے نکالا، بایں معنی کہ ان کیلئے اللہ تعالی کے فضل سے امتحان کا حرج رفع ہوا اور اُنس کی مجلس اور ایقان کے باغات میں باقی رکھا
جیساکہ فرمایا ((کمزوروں پر نہیں ہے)) یعنی وہ لوگ جنہیں محبت کے وقاروں نے ضعیف کردیا (( اور نہ ہی بیماروں پر)) یعنی جنکو صبابات کی مرارات نے بیمار کردیا(( اور نہ ہی ان لوگوں پر جو نفقہ کو نہیں پاتے))یعنی وہ لوگ جو تجریدِ توحید اور تفرید کے حقائق کے اکوان سے مجرد ہوتے ہیں ((حرج))یعنی عبودیۃ اور مجاہدہ کی جہت سے عتاب،کیونکہ وہ محبت کی تلوار کیساتھ مقتول ہے اور وصلت کے دروازےکیساتھ مطروح ہیں جنکی کمزوری شوق سے ، بیماری محبت سے ،اور فقر حسنِ رضا سے ہے۔
- سورۃ النحل کی اس آیتِ کریمہ ﵟوَٱللَّهُ جَعَلَ لَكُم مِّمَّا خَلَقَ ظِلَٰلٗا وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ ٱلۡجِبَالِ أَكۡنَٰنٗا وَجَعَلَ لَكُمۡ سَرَٰبِيلَ تَقِيكُمُ ٱلۡحَرَّ وَسَرَٰبِيلَ تَقِيكُم بَأۡسَكُمۡۚ كَذَٰلِكَ يُتِمُّ نِعۡمَتَهُۥ عَلَيۡكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تُسۡلِمُونَ ٨١ﵞ[3]کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
” يعنى ظلال أوليائه، ليستظل بها المريدون من شدة حر الهجران، ويأوون إليها من قهر الطغيان، وشياطين الإنس والجان، لأنهم ظلال الله فى أرضه، لقوله عليه السلام: “السلطان ظل الله فى أرضه، يأوى إليه كل مظلوم”، {وَجَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الجبال أَكْنَاناً} أكنان الجبال: قلوب أكابر المعرفة، وظلال أهل السعادة من أهل المحبة، يسكن فيها المنقطعون إلى الله، {وَجَعَلَ لَكُمْ سَرَابِيلَ تَقِيكُمُ الحر} جعل للعارفين سرابيل روح الأُنس، لئلا يحترقوا بنيران القدس، {وَسَرَابِيلَ تَقِيكُم بَأْسَكُمْ} سرابيل المعرفة وأسلحة المحبة، لتدفعوا بها محاربة النفوس والشياطين، ثم زاد نعته ومنَّته عليهم بقوله: {كَذَلِكَ يُتِمُّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ} “
ترجمہ: یعنی اپنے اولیاء کے سایے، تاکہ مریدین ہجران کے گرمی کی شدت کا سایہ پائیں ، اور سرکشی کے قہر ، انس و جن کے شیاطین سے ٹھکانہ بنائیں کیونکہ یہ اللہ تعالی کی زمین میں اللہ تعالی کا سایہ ہیں جیساکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا “سلطان اللہ کی زمین میں اللہ کا سایہ ہے، جسکی طرف ہر مظلوم اپنا ٹھکانہ بناتا ہے”(( اور اس نے تمہارے لئے راستوں میں اکنان بنائے)) اکنانِ جبال سے مراد اکابرِ معرفت کے دل اور اہلِ محبت میں سے اہلِ سعادت کے سایے ہیں جن میں وہ لوگ رہتے ہیں جنہوں نے اللہ تعالی سے رابطہ ختم کردیا ہے (( اور تمہارے لئے ایسے سرابیل بنائے جو تمہیں گرمی سے بچاتے ہیں)) یعنی عارفین کیلئے اُنس کی روح بنائی تاکہ وہ نیرانِ قدس میں نہ جل جائیں (( اور وہ سرابیل جو تمہیں بأس سے بچاتے ہیں)) یعنی معرفت کے سرابیل اور محبت کا اسلحہ تاکہ ان کے ذریعے نفوس و شیاطین کے محاربۃ کو تم دفع کرسکو پھر انکی تعریف کو زیادہ فرمایا اور ان پر احسان کو بتلایا چنانچہ فرمایا ((اسی طرح وہ اپنی نعمت کو تمہارے اوپر تمام کرتا ہے))
- سورۃ النمل کی ان دو آیاتِ کریمہ ﵟوَتَفَقَّدَ ٱلطَّيۡرَ فَقَالَ مَا لِيَ لَآ أَرَى ٱلۡهُدۡهُدَ أَمۡ كَانَ مِنَ ٱلۡغَآئِبِينَ ٢٠ لَأُعَذِّبَنَّهُۥ عَذَابٗا شَدِيدًا أَوۡ لَأَاْذۡبَحَنَّهُۥٓ أَوۡ لَيَأۡتِيَنِّي بِسُلۡطَٰنٖ مُّبِينٖ ٢١ﵞ[4]کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
” إن طير الحقيقة لسليمان طير قلبه فتفقده ساعة، وكان قلبه غائباً فى غيب الحق، مشغولاً بالمذكور عن الذكر، فتفقده وما وجده. فتعجب من شأنه.. أين قلبه إن لم يكن معه؟.. فظن أنه غائب عن الحق وكان فى الحق غائباً، وهذا شأن غيبة أهل الحضور من العارفين ساعات لا يعرفون أين هم، وهذا من كمال استغراقهم فى الله، فقال: {لأُعَذِّبَنَّهُ عَذَاباً شَدِيداً أَوْ لأَذْبَحَنَّهُ أَوْ لَيَأْتِيَنِّي بِسُلْطَانٍ مُّبِينٍ} : لأُعذبنه بالصبر على دوام المراقبة والرعاية، وألقينه فى بحر النكرة من المعرفة، ليفنى ثم يفنى عن الفناء، أو أذبحنه بسيق المحبة أو بسيف العشق، أو ليأتينى من الغيب بسواطع أنوار أسرار الأزل..”
ترجمہ: حضرت سلیمان علیہ السلام کی حقیقت کا پرندہ انکےدل کا پرندہ تھا جو ایک لمحے کیلئے انہوں نے نہ پایا، اور انکا دل غیبِ حق میں غائب ہوگیا،مذکور میں مشغول ہونے کی وجہ سے ذکر سے اعراض کرنے لگا، جسکی وجہ سے انہوں نے اسے اور اپنے احساسات کو مفقود پایا ، تو آپ اپنے معاملے کو دیکھ کر حیران رہ گئے کہ میرا دل کہاں ہے اگر انکے ساتھ نہ ہوتا تو، تو انہوں نے گمان کیا کہ انکا دل حق سے غائب ہے اور حق میں غائب ہے ، یہ عارفین کا معاملہ ہوتا ہے جو أہلِ حضور ہوتے ہیں ، کہ جب ان سے کچھ لمحوں کیلئے بھی دل مفقود ہوجائے اور وہ اس بات کی معرفت نہ رکھیں کہ وہ کہاں ہیں ۔یہ کمالِ استغراق فی اللہ ہے پس فرمایا ((ضرور بالضرور میں اس کو سخت عذاب دوں گا یا ذبح کردوں گا یا وہ میرے پاس واضح سلطان لیکر آئے ))یعنی میں ضرور بالضرور اسکو مراقبہ اوررعایت پر دائم رہنے پر صبر کرنے کا عذاب دونگا اور ضرور بالضرور اسکو معرفت کے سمندر میں ڈالوں گا تاکہ وہ فنا ہو جائے پھر فنا سے فنا ہوجائے یا ضرور بالضرور اسکو محبت کی سیق سے ذبح کروں گا یا عشق کے تلوار سے ذبح کروں گا یا وہ میرے پاس غیب سے سواطعِ انوارو أسرارِازل میں سے کچھ لائے۔
یہ کتاب دو جلدوں میں مجلد ہے جسکا ایک نسخہ مکتبہ أزھریہ میں موجود ہے۔[5]

[1] محمد سید حسین الذھبی، التفسیر والمفسرون، ج 2 ، ص 288، مکتبہ وھبۃ، القاھرۃ
[2] القرآن الکریم، سورۃالتوبۃ، 9/91
[3] القرآن الکریم، سورۃ النحل، 16/81
[4] القرآن الکریم، سورۃ النمل، 27/20-21
[5] محمد سید حسین الذھبی، التفسیر والمفسرون، ج 2 ، ص 290، مکتبہ وھبۃ، القاھرۃ



