اساس الصرف
مختصر تعارف
درجہ عامہ اول /بوائز/گرلز
جامعات المدینہ بوائز/گرلز
دعوت اسلامی
کنزا لمدارس بورڈ
ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں
اساس الصرف، مولانا اختر سعید عطاری مدنی صاحب کی ایک نہایت مقبول اور جامع تصنیف ہے جو علمِ صرف (عربی گرامر کا وہ حصہ جس میں الفاظ کی بناوٹ اور تبدیلیوں سے بحث کی جاتی ہے) کے موضوع پر لکھی گئی ہے۔ یہ کتاب خاص طور پر درسِ نظامی کے ابتدائی طلبہ اور عربی زبان سیکھنے کے شوقین افراد کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔
اس کتاب پر چند اہم تبصراتی نکات درج ذیل ہیں:
1. سادہ اور فہم اسلوب
علمِ صرف کے قواعد عام طور پر خشک اور مشکل سمجھے جاتے ہیں، لیکن اختر سعید عطاری صاحب نے اس کتاب میں انتہائی سادہ زبان استعمال کی ہے۔ مشکل اصطلاحات کو اس طرح واضح کیا گیا ہے کہ مبتدی طالب علم (Beginner) بھی الجھن کا شکار نہیں ہوتا۔
2. جدید ترتیب اور نقشہ جات
اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی اس کی ترتیب اور پریزنٹیشن ہے۔
-
اس میں قواعد کو سمجھانے کے لیے خاکوں (Flowcharts) اور ٹیبلز کا کثرت سے استعمال کیا گیا ہے۔
-
ہر سبق کے آخر میں تمرین (ایکسرسائز) دی گئی ہے، جو طالب علم کی ذہنی مشق کے لیے بہت مفید ہے۔
3. جامعیت (Comprehensiveness)
“اساس الصرف” میں علمِ صرف کے تمام بنیادی ابواب (مثلاً: ثلاثی مجرد و مزید فیہ، گردانیں، تعلیلات اور ادغام کے قواعد) کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ یہ کتاب “ارشاد الصرف” یا “میزان الصرف” جیسی قدیم کتابوں کے مشکل مفاہیم کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق پیش کرتی ہے۔
4. تعلیلات کی آسان وضاحت
عربی صرف میں “تعلیلات” (حروفِ علت کی تبدیلی کے قواعد) سب سے مشکل مرحلہ مانا جاتا ہے۔ اس کتاب میں تعلیلات کو نمبر وار اور منطقی انداز میں سمجھایا گیا ہے، جس سے طالب علم کو رٹا لگانے کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ قاعدہ سمجھ میں آ جاتا ہے۔
5. رنگین طباعت اور دیدہ زیب ڈیزائن
مکتبۃ المدینہ کی شائع کردہ یہ کتاب اپنی ظاہری خوبصورتی، رنگین طباعت اور بہترین کاغذ کی وجہ سے بھی ممتاز ہے۔ مختلف رنگوں کا استعمال طالب علم کی دلچسپی برقرار رکھنے اور اہم پوائنٹس کو نمایاں کرنے میں مدد دیتا ہے۔

مجموعی تاثر:
اساس الصرف علمِ صرف کی دنیا میں ایک جدید اور کامیاب کوشش ہے۔ یہ کتاب نہ صرف مدارس کے طلبہ بلکہ ان لوگوں کے لیے بھی بہترین ہے جو گھر بیٹھے قرآن پاک کی زبان (عربی) کے بنیادی ڈھانچے کو سمجھنا چاہتے ہیں۔ اگر کوئی شخص عربی گرامر کی ابتدا کرنا چاہتا ہے، تو اسے “اساس الصرف” سے بہتر شاید ہی کوئی کتاب ملے۔
