جب رمضان میں شیاطین باندھ دئے جاتے ہیں تو پھر گناہ کیوں؟
جواب:
علامہ بدر الدین عینی علیہ الرحمہ [المتوفى ٨٥٥] نے چار جوابات ذکر کئے ہیں؛ فقیر اس کو الگ ترتیب اور سہل انداز میں ذکر کرتا ہے۔
اول:
اس سوال کی اصل بنیاد ایک غلط فہمی ہے کہ انسان تمام گناہ شیطان کی وجہ سے کرتا ہے حالانکہ یہ درست نہیں۔ گناہوں کے کئی اسباب ہوتے ہیں؛ جیسا کہ شیطانی وسوسہ، نفس انسانی، بری عادتیں اور انسانی شیاطین۔ اگرچہ جنی شیاطین باندھ گئے ہیں لیکن انسانی شیطان ، بری عادتیں وغیرہ تو آزاد ہیں۔ ان اسباب کے وجہ سے گناہ سرزد ہوتے رہتے ہیں۔
وَقِيْلَ لَا يَلْزِمُ مِنْ تَسَلْسُلِهِمْ وَتَصْفِيْدِهِمْ کُلِّهِمْ أَنْ لَا تَقَعَ شُرُوْرٌ وَلَا مَعْصِيَةٌ لِأَنَّ لِذٰلِکَ أَسْبَابًا غَيْرَ الشَّيَاطِيْنِ کَالنُّفُوْسِ الْخَبِيْثَةِ وَالْعًادَاتِ الْقَبِيْحَةِ وَالشَّيَاطِيْنِ الْإنْسِيَةِ.
دوم:
گناہوں کے نہ ہونے سے مراد گناہوں کا کم ہونا ہے جو کہ ایک حسی بات ہے ہم اس کا مشاہد کر رہے ہیں اس مہینہ میں گناہوں کا وقوع باقی مہینوں کی نسبت کم ہوتا ہے۔
وَالْمَقْصُوْدُ تَقْلِيْلُ الشُّرُوْرِ فِيْهِ، وَهٰذَا أَمْرٌ مَحْسُوْسٌ. فَإِنَّ وُقُوْعَ ذٰلِکَ فِيْهِ أَقَلُّ مِنْ غَيْرِهِ.
سوم:
یہ گناہ کا واقع نہ ہونا اُن روزے داروں کے لئے ہے جو روزوں کی شرائط کی حفاظت اور اُن کے آداب کی پاسداری کرتے ہیں۔
هٰذَا فِي حَقِّ الصَّائِمِيْنَ الَّذِيْنَ حَافَظُوْا عَلَی شُرُوْطِ الصَّوْمِ وَرَاعُوْا آدَابَهُ.
چہارم:
بعض شیاطین کو باندھ دیا جاتا ہے جو نہایت سرکش ہوتے ہیں، نہ کہ سارے شیاطین کو۔
وَقِيْلَ: الْمُسَلْسَلُ بَعْضُ الشَّيَاطِيْنِ وَهُمُ الْمَرَدَةُ لَا کُلُّهُمْ کَمَا تَقَدَّمَ فِي بَعْضِ الرِّوَايَاتِ۔
)عمدة القاري ١٠/٢٧٠(

