سورۃ الانفال کا جامع تعارف و خصائص
- مقامِ نزول
سورہ انفال کے مقامِ نزول کے بارے میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں:
- جمہور کا قول: حضرت حسن بصری، حضرت عکرمہ، حضرت جابر اور حضرت عطا رحمۃ اللہ علیہم کے مطابق یہ سورت مدنی ہے اور خاص طور پر غزوہ بدر کے موقع پر یا اس کے بعد نازل ہوئی۔
- حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول: آپ کے نزدیک یہ پوری سورت مدنی ہے، سوائے سات آیات کے جو مکہ میں نازل ہوئیں۔ یہ آیات درج ذیل ارشادِ باری تعالیٰ سے شروع ہوتی ہیں:
﴿وَ اِذْ یَمْكُرُ بِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْكَ اَوْ یَقْتُلُوْكَ اَوْ یُخْرِجُوْكَؕ…﴾ (الآیۃ: 30) “اور (اے حبیب! یاد کیجئے) جب کافر آپ کے خلاف سازش کر رہے تھے کہ آپ کو قید کر دیں یا شہید کر دیں یا نکال دیں…”
- آیات، رکوع اور کلمات کی تعداد
علمِ عدد کے مطابق اس سورت کی تفصیل درج ذیل ہے:
- رکوع: 10
- آیات: 75
- کلمات: 1075
- تسمیہ (نام رکھنے کی وجہ) اور لغوی تحقیق
“انفال” نفل کی جمع ہے، جس کے معنی “غنیمت کا مال“ ہیں۔ اس سورت کا آغاز ہی مالِ غنیمت کے متعلق سوال سے ہوا، اس لیے اسے “الانفال” کہا جاتا ہے۔
لفظ “نفل” کے مختلف معانی:
- غنیمت: وہ مال جو کفار سے جنگ کے نتیجے میں حاصل ہو۔
- یمین (قسم): جیسا کہ حدیث میں ہے: “فتبرئکم یھود بنفل خمسین منھم“ (یہود 50 قسموں کے ساتھ تمہیں بری کر دیں گے)۔ [حوالہ: صحیح بخاری/مسلم، کتاب القسامۃ]
- الانتفاء (انکار کرنا): حدیث میں ہے: “فاتنفل من ولدھا“ (اس نے اپنے بچے کا انکار کر دیا)۔
- اضافی عبادت: واجب پر زیادتی (نفلی نماز وغیرہ)۔
- پوتے کو نافلہ کہنا: کیونکہ وہ اولاد پر ایک اضافہ ہوتا ہے۔
- امتِ محمدیہ کے لیے خاص صفت: مالِ غنیمت کو “نفل” اس لیے کہا گیا کہ یہ سابقہ امتوں پر حرام تھا اور اللہ نے اس امت پر اسے اضافی نعمت کے طور پر حلال کیا۔
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: “مجھے دیگر انبیاء پر چھ چیزوں کے ساتھ فضیلت دی گئی… اور میرے لیے مالِ غنیمت کو حلال کیا گیا”۔ [حوالہ: صحیح مسلم، کتاب المساجد، حدیث: 523]
- مالِ غنیمت (انفال) کے احکام اور فقہی مذاہب
انفال (غنیمت) کی تقسیم اور محل کے بارے میں علماء کے چار بڑے اقوال ہیں:
- وہ مال جو بغیر جنگ کے (بطورِ صلح) حاصل ہو۔
- اس سے مراد خمس (پانچواں حصہ) ہے۔
- اس سے مراد خمس کا خمس (پانچویں حصے کا پانچواں حصہ) ہے۔
- وہ کل مال غنیمت جس میں امامِ وقت کو تصرف کا اختیار ہو۔
ائمہ کے موقف:
- امام مالکؒ: انفال وہ عطیات ہیں جو امامِ وقت “خمس” والے حصے سے اپنی رائے کے مطابق (مجاہدین کی حوصلہ افزائی کے لیے) دیتا ہے۔
- امام شافعیؒ و امام ابو حنیفہؒ: ان کے نزدیک نفل سے مراد خمس کا خمس ہے۔
- استدلال: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نجد کی طرف ایک لشکر (سریہ) بھیجا، عام مجاہدین کے حصے میں 12، 12 اونٹ آئے جبکہ خصوصی دستے کو 1، 1 اونٹ بطورِ “نفل” (اضافی) دیا گیا۔ [حوالہ: صحیح بخاری، کتاب الجہاد / سنن ابی داؤد]
- سورہ انفال کے مرکزی مضامین اور بنیادی مسائل
اس سورت میں ایمانی، سیاسی اور جنگی حکمتِ عملی کے اہم اصول بیان کیے گئے ہیں:
- اطاعتِ مطلقہ: ہر حال میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت لازم ہے۔
- ملکیتِ غنیمت: مالِ غنیمت کا حقیقی مالک اللہ اور اس کا رسول ہے، مجاہدین کو تقسیم کے طریقہ کار میں مداخلت کا حق نہیں۔
- نصرتِ الہی: بدر کی فتح انسانی طاقت نہیں بلکہ اللہ کی مدد (فرشتوں کے نزول) کا نتیجہ تھی۔
- مقصدِ جہاد: کلمۃ اللہ کی سربلندی اور باطل کا غرور توڑنا۔
- امانت و دیانت: اللہ اور رسول ﷺ کے احکام میں خیانت سے بچنا۔
- تقسیمِ غنیمت: مالِ غنیمت کا 20% (خمس) اللہ، اس کے رسول، قرابت داروں، یتیموں، مساکین اور مسافروں کے لیے ہے۔
- ذکرِ الہی: میدانِ جنگ میں ثابت قدمی اور کثرتِ ذکر کا حکم۔
- اتحاد و اتفاق: آپس کے اختلاف سے بچنا کیونکہ اس سے ہوا اکھڑ جاتی ہے (طاقت کمزور پڑ جاتی ہے)۔
- مکرِ شیطان: شیطان اعمال کو خوبصورت بنا کر دکھاتا ہے لیکن حق کے سامنے بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔
- تبدیلیِ نعمت کا قانون: اللہ نعمت کو اس وقت تک زحمت میں نہیں بدلتا جب تک قوم خود ناشکری نہ کرے۔
- عبرت: آلِ فرعون اور مشرکینِ مکہ کے عبرتناک انجام میں مماثلت۔
- شر الدواب (بدترین مخلوق): وہ لوگ جو حق سننے اور سمجھنے سے قاصر (اندھے بہرے) بنے رہیں۔
- تیاریِ جہاد: دشمن پر ہیبت طاری کرنے کے لیے دفاعی قوت (گھوڑے/اسلحہ) تیار رکھنے کا حکم۔
